آئی ایم ایف سے ڈیل سبوتاژ کرنے کا فیصلہ عمران کی صدارت میں ہوا

سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ تعینات کیے جانے والے شوکت ترین اپنی لیک ہونے والی دو آڈیوز میں کپتان کے ایما پر کھلے عام ملک دشمنی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ ان آڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران اور انکے ساتھیوں کے لیے پاکستان سے زیادہ اہمیت اقتدار کی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے وہ ملک کو بھی داؤ پر لگا سکتے ہیں۔ عمران خان کے قریب ترین ساتھی شمار کیے جانے والے سینیٹر شوکت ترین کی پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کے ساتھ ہونے والی جو ٹیلی فونک آڈیوز لیک ہوئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ وفاقی حکومت کی آئی ایم ایف سے ہونے والی قرض ڈیل خراب کرنے کی سازش عمران کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں فائنل کی گئی۔ گفتگو میں شوکت ترین دونوں صوبائی وزراء خزانہ کو بظاہر پارٹی چیئرمین کے ایماء پر یہ ہدایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین بیل آؤٹ پیکیج کی ڈیل فائنل نہیں ہونی چاہیے لہذا آپ فوری طور پر آئی ایم ایف کے نام خطوط لکھیں۔

ٹیلی فونک گفتگو میں شوکت ترین محسن لغاری کو کہتے ہیں کہ آپ نے آئی ایم ایف کو جو 750 ارب روپے اکٹھا کرنے کی کمٹمنٹ دی تھی اور اسے سائن کیا تھا، اب اس حوالے سے آپ نے یہ کہنا ہے کہ ہم نے جو کمٹمنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے دی تھی، لیکن اب سیلاب کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ پیسا خرچ کرنا پڑے گا، اس لیے آپ آئی ایم ایف کے نام واضح الفاظ میں لکھیں کہ اب ہم اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کر پائیں گے، اس کے بعد شوکت ترین کہتے ہیں کہ لغاری صاحب بس یہی لکھنا ہے آپ نے، اور کچھ نہیں کرنا۔ اس پر محسن لغاری نے جی بالکل کہہ کر جواب دیا۔ اس کے بعد شوکت ترین نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت پر دباؤ پڑے، یہ لوگ ہمیں اندر کروا رہے ہیں اور ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگا رہے ہیں، یہ بالکل اسکاٹ فری جارہے ہیں اسلئے ہم نے اس ڈیل کو نہیں ہونے دینا ہے۔

شوکت ترین اسکے بعد محسن لغاری کو کہتے ہیں کہ تیمور جھگڑا بھی ایک گھنٹے میں ایسا ہی خط لکھ کر بھیج رہا ہے اس لیے آپ بھی یہ خط لکھ کر فوری مجھے بھیجیں تاکہ ہم یہ وفاقی حکومت کو بھیج سکیں، اسکے بعد ہم یہ خطوط آئی ایم ایف کے نمائندوں کو بھی ریلیز کردیں گے۔ شوکت ترین کی آخری بات پر وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری سوال کرتے ہیں کہ ترین صاحب کیا اس خط سے ریاست پاکستان کو تو نقصان نہیں پہنچے گا؟ اس پر شوکت ترین کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جس طرح کا سلوک یہ حکومت ہمارے پارٹی چیئرمین اور دیگر لوگوں کیساتھ کر رہی ہے، کیا اس سے ریاست کو نقصان نہیں پہنچ رہا؟ ہمارے خطوط کے بعد یہ تو ضرور ہوگا کہ آئی ایم ایف پوچھے گا کہ آپ کےوعدے کے مطابق اب پیسے کہاں سے پورے ہوں گے، چنانچہ حکومت منی بجٹ لے کر آ جائے گی۔ لیکن لغاری صاحب یاد رکھیں کہ یہ حکومت ہمیں ‘مس ٹریٹ’ کر رہی ہے اور ریاست کے نام پر ہمین بلیک میل کر رہی ہے۔ ایسے میں ہم ان کی مدد کرتے جائیں، یہ تو نہیں ہو سکتا اور اسی لیے یہ ہم نے کل کے کور کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ خط لکھ کر آئی ایم ایف کو بھیجیں گے۔ اس پر محسن لغاری کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے زیادہ پاور فل ٹول اس وقت کوئی نہیں، شوکت ترین جواباً کہتے ہیں کہ ہاں تو ہمیں ریلیز کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ سوشل میڈیا خود ہی کردے گا، پھر ترین کہتے ہیں کہ تیمور جھگڑا مجھے کہہ رہا تھا کہ میں پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمبر ٹو کو بہتر جانتا ہوں، وہ اس خط کو ویسے ہی لیک کردے گا، ہم ایسا منظر نامہ بنائیں گے کہ یہ محسوس ہی نہ ہو کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لیکن یہ طے ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو دی گئی کمٹمنٹ صفر ہو جائے گی۔

پی ٹی آئی کے خفیہ اکاؤنٹ سے 78 کروڑ کی ٹرانزیکشن پکڑی گئی

ایک اور لیک ہونے والی ٹیلی فونک آڈیو میں شوکت ترین خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کو فون کر کے سوال کرتے ہیں کہ کیا کہ آپ نے خط بنا لیا؟ اس پر تیمور جھگڑا نے کہا کہ ابھی بناتا ہوں، میرے پاس پرانا خط ہے، میں ابھی راستے میں ہوں لیکن ابھی بنا کر بھیجتا ہوں۔اس پر شوکت ترین نے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ خط میں سب سے بڑا اور پہلا پوائنٹ یہ ہو گا کہ سیلاب نے خیبر پختونخوا کا بیڑا غرق کردیا ہے، اب ہمیں سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کے لیے بہت زیادہ پیسہ چاہیے، میں نے محسن لغاری کو بھی کہہ دیا ہے، وہ بھی اپنی جانب سے خط لکھے گئے خط میں یہی کہے گا۔

شوکت ترین کی بات سن کر تیمور جھگڑا کہتے ہیں کہ ویسے یہ ایک بلیک میلنگ کا حربہ ہے، پیسے تو کسی نے ویسے ہی نہیں چھوڑنے، میں نے تو پیسے نہیں چھوڑنے، مجھے نہیں پتا کہ لغاری نے چھوڑنے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد شوکت ترین کہتے ہیں کہ آپ آج یہ خط لکھ کر آئی ایم ایف والے شخص کو بھی اس کی کاپی بھیج دیں تا کہ پتا تو چلے ان ‘سالوں’ کو کہ جواب کیسے ملتا ہے۔ ترین کی بات پر تیمور جھگڑا نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں خط بنا کر آئی ایم ایف کے نمبر 2 کو بھی بھجواتا ہوں جسے میں پہلے سے جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں تو اس سے ویسے بھی معلومات لیتا رہتا ہوں۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ مجھے محسن لغاری نے بھی فون کیا تھا، اس سے بھی میری اس معاملے پر بات ہوئی ہے، خان صاحب اور محمودخان نے مجھے کہا ہے کہ ہمیں اکٹھے پریس کانفرنس کرنی چاہیے، کور کمیٹی کے اجلاس میں بھی کچھ ایسا ہی فیصلہ ہوا تھا۔ اس پر ترین نے جواب دیا کہ اب ہم نے پریس کانفرنس نہیں کرنی۔ ابھی آپ ساری توجہ خط پر مرکوز رکھیں اور فوراً لکھ کر بھجوائیں۔ اس پر جھگڑا نے شوکت ترین کو جواب دیا کہ چلیں، پہلے میں خط لکھ کر بھیجتا ہوں۔

یہ دونوں آڈیوز سامنے آنے کے بعد ناقدین عمران خان اور شوکت ترین پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور پی ڈی ایم کی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں اشخاص پر ریاست پاکستان کے خلاف سازش کرنے پر بغاوت کے مقدمات درج کیے جائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس حوالے سے عمران اور شوکت ترین کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے یا نہیں؟

Related Articles

Back to top button