عرفان قادر نے چیف جسٹس بندیال کو کیسے بھگایا؟

 

سپریم کورٹ آف پاکستان میں 27 مئی کو تب دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب حکومت کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران‏ وزیراعظم شہباز شریف کے وکیل عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر عمران خان کی بے جا سائیڈ لینے کا الزام لگا دیا جس کے فوری بعد انھوں نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی ۔سپریم کورٹ میں ایف آئی اے افسران کے تقرر اور تبادلوں کے از خود نوٹس کیس کے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کے دلائل کے بعد سابق اٹارنی عرفان قادر روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں اس وقت یہ تاثر عام ہے کہ ملک میں دو پارٹیوں کی جنگ جاری ہے اور سپریم کورٹ ایک جماعت کی سائیڈ لے رہی ہے۔

عرفان قادر کے اس فقرے پر جج حضرات لاجواب ہو کر ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے ۔ اس پر عرفان قادر دوبارہ بولے کہ میں وزیراعظم کی جانب سے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جواب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ جو بھی کہنا چاہتے ہیں ہمیں لکھ کر دیں۔ اس پر عرفان قادر نے کہا کہ پھر آپ بھی مجھے سوال لکھ کر دیں تاکہ میں اسی حساب سے لکھ کر آپ کو جواب دے سکوں تاکہ ہر چیز ریکارڈ پر آ جائے۔ اس پر عمر عطا بندیال نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ یوں عرفان قادر نے صرف تین منٹ کے دلائل میں پانچوں ہم خیال ججز کو کرسی چھوڑ کر عدالت برخاست کرنے پر مجبور کر دیا۔

اس سے پہلے عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ دو سیاسی جماعتیں میں مخاصمت ہے اور ایک جماعت مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز ایک پارٹی کی کھل کر سائیڈ لے رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس عمر بندیال نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے لیکن ایف آئی اے رپورٹ سے تاثر ملا کہ معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات سےکور کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال ہم حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہیں، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے۔ اس موقع پر عمر عطا بندیال نے ججوں بارے عوام میں پائے جانے والے عمومی تاثر کے عین مطابق کہا کہ ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم بظاہر شہباز اور حمزہ کیخلاف مقدمہ کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی، آرٹیکل 248 وزراء کو فوجداری کارروائی سے استثنیٰ نہیں دیتا، وفاقی وزراء کیخلاف فوجداری کارروائی چلتی رہنی چاہیے، فوجداری نظام سب کیلئے یکساں ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بیان داغتے وقت عمر عطا بندیال بھول گئے کہ ایک روز پہلے لانگ مارچ کے دوران عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی میں اسلام آباد میں جو توڑ پھوڑ ہوئی اس لے خلاف توہین عدالت کے کیس میں بھی یکساں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

شہباز حکومت کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالے گئے ناموں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے رولز میں تبدیلی کا اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا ہے؟ انکا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کرنے والے کابینہ میں شامل کسی وزیر کا رولز کی تبدیلی کی منظوری دینا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔‘ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’22 اپریل 2022 کو ای سی ایل رولز میں تبدیلی کی گئی،کرپشن، ایک کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کے مقدمات کے بارے میں نام ای سی ایل سے نکال دیئے گئے۔ لہذا اٹارنی جنرل بتائیں کہ ای سی ایل رولز کے سیکشن دو میں کیسے ترمیم کی گئی؟ کیا ترمیم کرتے وقت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی؟‘

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا رولز میں تبدیلی کے بارے میں کابینہ سے منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا گیا کہ اس کا اطلاق ماضی سے ہوگا؟ ’مقدمات کا سامنا کرنے والے کابینہ میں شامل کسی وزیر کا رولز میں تبدیلی کی منظوری دینا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ تفصیلات فراہم کریں کابینہ میں شامل کن ارکان کو فائدہ پہنچا؟‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ قانون کی عمل داری ہو۔ ہم ایگزیکٹیو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم ابھی کوئی آرڈر پاس نہیں کررہے لیکن ایسا کوئی شخص جس کے خلاف مقدمہ ہو وہ ملک سے باہر نہیں جائے گا۔‘ تاہم یاد رہے کہ 25 مئی کو عمران خان کے لانگ مارچ کے موقع پر سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن نے وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات خود سنبھالتے ہوئےحکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت دی۔ راستے کھولنے کے بعد کپتان کے یوتھیوں نے اسلام آباد میں تباہی اور بربادی مچا دی تھی لیکن حکومت کی توہین عدالت کی درخواست پر چیف جسٹس بندیال نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

وزیراعظم سے اتحادی جماعتوں کے ارکان کی ملاقات

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت میں عمران خان کے وکیل کی موجودگی کے باوجود تحریک انصاف کا دفاع چیف جسٹس بندیال نے خود کیا اور یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ مجمعے نے کیا اور اس کی ذمہ داری عمران پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ اسی لئے اب سوشل میڈیا پر عمر عطا بندیال کو چیف جسٹس تحریک انصاف پاکستان قرار دیا جارہا ہے جبکہ انکے ساتھی ججوں کو عمرانڈو جج کہا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button