عمران کی بجائے رانا ثناء اللہ کے خلاف تشدد کا مقدمہ درج

وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے لانگ مارچ کے دوران قتل و غارت کا منصوبہ بنانے پر عمران خان کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی تجویز پر تو کوئی فیصلہ نہ ہو پایا لیکن لاہور کی ایک سیشن عدالت نے تحریک انصاف کی درخواست پر رانا ثنااللہ کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران پاکستان بھر میں تحریک انصاف کے کارکنان پر پولیس نے وحشیانہ تشدد کیا جس کے ذمہ دار وزیرداخلہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ درخواست دائر ہونے کے بعد عدالت میں تحریک انصاف اور حکومتی وکلاء کے مابین جھگڑا شروع ہوگیا جس پر جج عدالت سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے لیکن اس دوران تحریک انصاف کے مظاہرین نے عدالت کے باہر احتجاج شروع کردیا جس پر جج نے واپس آکر رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے رانا ثناللہ نے وفاقی کابینہ کو عمران کے خلاف لانگ مارچ کے دوران تشدد پر اُکسانے اور اپنے کارکنوں کے پاس اسلحہ ہونے کی تصدیق کرنے پر بغاوت کا مقدمہ درج کرانے کی تجویز دی تھی۔ رانا ثناء اللہ کا موقف تھا کہ عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران اُن کے لوگوں کے پاس پستول تھے۔ لہذٰا کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرانے کے لیے سفارشات دے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے اس موقف پر تحریکِ انصاف نے لانگ مارچ کے دوران پولیس تشدد اور شیلنگ کی ویڈیوز اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھجوانے کا اعلان کیا اور الٹا وزیر داخلہ کے خلاف تشدد کروانے کا کیس درج کروا دیا ہے۔

اس سے پہلے رانا ثنااللہ نے ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کا مارچ ایک سیاسی پروگرام نہیں بلکہ فتنہ و فساد کا پلان تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران لانگ مارچ میں اسلحہ لانے کا اقدام کریمنل ایکٹ تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے لوگ احتجاج کے دوران گولی چلانا چاہتے تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان تمام عوامل کو کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔ رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ عمران نے لانگ مارچ کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کو استعمال کیا، چند ہزار مسلح لوگ اسلام آباد کی طرف بڑھے، انتشار پھیلانے کے لیے پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤسز میں جتھوں کو ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یہ بیان درست ہے کہ کارکنان لانگ مارچ میں اسلحہ لائے تھے اور وہاں 100 فی صد خون خرابہ ہونا تھا، میں کہتا ہوں کہ 100 فی صد نہیں بلکہ دو سو فی صد وہاں خون خرابہ ہی ہونا تھا۔

زرداری نے ایک منجھے ہوئے کپتان کو کیسے کلین بولڈ کیا؟

رانا ثناء اللہ کی جانب سے وفاقی کابینہ کو عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروانے کی تجویز پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کے خلاف بغاوت کا یہ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124 اے کے تحت درج کیا جاسکتا ہے۔ سیکشن 124 اے کے مطابق کوئی بھی شخص جو اپنے الفاظ سے زبانی، تحریری یا کسی نمائندے کے ذریعے وفاقی یا صوبائی حکومت کے خلاف بغاوت کرے اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس سیکشن کے تحت صرف وفاقی یا صوبائی حکومت مقدمہ درج کروا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے وفاقی یا صوبائی کابینہ کا حکم مقامی انتظامیہ کو دیا جائے گا اورجس علاقہ میں یہ جرم ہوگا وہاں کے مجسٹریٹ کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا جائے گا جس کے بعد تفتیش کا عمل شروع ہو گا۔

قانون کے مطابق اس جرم میں زیادہ سے زیادہ عمر قید اور جرمانہ یا پھر کم از کم تین سال قید اور جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف بغاوت پر اُکسانے پر 124اے کے جب کہ ریاست کے خلاف مسلح ہو کر جنگ کرنے پر آرٹیکل 125 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ حکومت کی طرف سے اب تک واضح نہیں کیا گیا کہ عمران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کن سیکشنز تحت مقدمہ درج کروایا جائے گا۔
ماضی میں انسانی حقوق کے کارکن عمار علی جان، عمار رشید اور دیگر کئی کارکنوں کے خلاف ایسے مقدمات درج کروائے جاچکے ہیں۔

انسانی حقوق کے مختلف کیسز پر کام کرنے والے سینئر وکیل عثمان وڑائچ نے کہا کہ اس بارے میں حکومت کی طرف سے اندراج مقدمہ کے لیے درج کرائے جانے والی درخواست کا متن اہم ہو گا۔
اُن کے بقول اگر اس تحریر میں عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاق پر چڑھائی کا الزام عائد کیا جائے گا تو اس کے سیکشن الگ ہوں گے۔ اسی طرح مسلح ہو کر وفاق پر چڑھائی کے الزامات کی دفعات الگ ہوں گی۔ ان تمام الزامات پر الگ الگ سزا اور جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کون کون سے سیکشن اس مقدمہ میں درج کرتی ہے جس کے بعد اس کی باقاعدہ تفتیش ہوگی اور ملزمان کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button