کیا امریکی خاتون کو اس کے گائیڈ نے مرضی سے ریپ کیا؟

ڈیرہ غازی خان کے علاقے فورٹ منرو میں 21 سالہ امریکی خاتون سیاح ارابیلا کا ریپ کرنے، اس کی ویڈیو بنانے اور پھر اسے بلیک میل کر کے پیسے وصول کرنے کے الزامات پر گرفتار ملزم کا دعوی ٰہے کہ لڑکی اس کی دوست تھی اور دونوں کے مابین جو کچھ بھی ہوا، باہمی رضا مندی سے ہوا۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 17، 18 جولائی کی درمیانی شب پیش آیا، مقامی مجسٹریٹ کے احکامات پر خاتون کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے۔ کیس کی ایف آئی آر میں امریکی خاتون نے موقف اپنایا ہے کہ مرکزی ملزم نے اس کیساتھ فورٹ منرو کے ایک ہوٹل میں ریپ کیا، اور زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے کی ویڈیو بنائی تاکہ اسے بلیک میل کر کے رقم وصول کی جا سکے، خاتون کے مطابق ریپ کے بعد ملزم نے اسے دھمکی آمیز فون کالز بھی کیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی۔

بتایا جاتا ہے کہ امریکی خاتون کا پورا نام ارابیلا ارپی ہے جو کہ سپائسی ٹریول گرل کے نام سے وی لاگ بھی کرتی ہے۔ امریکی خاتون دراصل لاہور میں باسل خان نامی اپنے دوست کے پاس ایک شادی میں شرکت کے لیے آئی تھی جہاں سے وہ ڈیرہ غازی خان سیر کرنے پہنچ گئی۔ مقامی مجسٹریٹ شاہد ندیم کی عدالت میں پیشی کے بعد متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ شدید صدمے کی کیفیت میں ہے اور شاید اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو کبھی نہ بھلا سکے کیونکہ ایک ایسے ٹورسٹ گائیڈ نے انکے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جس سے ان کا اچھا اور بھروسے کا تعلق تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ ملک اکرم نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر خاتون کو لاہور سے سخت سکیورٹی میں واپس ڈیری غازی خان لا کر بیان ریکارڈ کروایا گیا، خاتون کی تحریری درخواست پر مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا، ملوث کسی بھی ملزم کے ساتھ کوئی بھی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

امریکا کو پاکستان کیساتھ طویل شراکت داری پر فخر ہے

مرکزی ملزم اذان کے مطابق خاتون پانچ روز سے راجن پور میں اُن کے گھر میں رہائش پذیر تھی، بعد ازاں خاتون اس کے ساتھ فورٹ منرو کے ایک ہوٹل کے کمرے میں دو راتوں تک رہائش پذیر رہی اور وہاں دونوں کے درمیان جسمانی تعلق باہمی مرضی سے قائم ہوا۔ لاہور کے رہائشی باسل خان کے مطابق وہ اور متاثرہ خاتون دونوں امریکہ میں یونیورسٹی فیلو ہونے کے علاوہ گذشتہ تین سال سے ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ مبینہ ریپ کیس کے مرکزی ملزم کی دوستی کا آغاز ایک برس قبل سیاحوں کے رابطے کی ایپ اور ویب سائٹ ’کاؤچ سرفنگ‘ کے ذریعے ہوا تھا، باسل خان کا کہنا تھا کہ دوست کی شادی میں شرکت کے بعد خاتون ان کے پاس لاہور ہی میں رہائش پذیر تھیں اور کچھ بوریت محسوس کر رہی تھیں، جس وجہ سے وہ ملزم کی دعوت پر ڈیرہ غازی خان چلی گئیں۔

باسل خان نے دعویٰ کیا کہ ایک رات انھیں خاتون کی ای میل موصول ہوئی جس میں مدد کی درخواست کی گئی تھی، باسل خان کے مطابق متاثرہ خاتون کے محفوظ مقام پر پہنچنے کے بعد صوبائی وزارت داخلہ اور ڈیرہ غازی خان کی پولیس اور انتظامیہ کو واقعے کے متعلق آگاہ کیا۔

یاد رہے کہ کاؤچ سرفنگ سوشل نیٹ ورکنگ کی ایک ایسی ویب سائٹ اور ایپ ہے جو سیاحت میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنے پاس بطور مہمان ٹھہرانے والوں میں رابطے کا ذریعہ ہے۔ اس ایپ کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں صارفین موجود ہیں۔ کاؤچ سرفنگ کے مطابق پاکستان میں اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد لگ بھگ 174,549 ہے، جن میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سیاحوں کو اپنے پاس مہمان رکھنے کی پیشکش کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے مطابق لاہور میں قائم امریکی قونصل خانے نے متاثرہ امریکی خاتون کو قونصلر رسائی فراہم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، خاتون کے تحفظ کی خاطر اس کی شناخت خفیہ رکھی جا رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button