20 باغی MNAs کیخلاف عمران کی اپیل میں کتنا وزن ہے؟

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی جماعت کے 20 منحرف اراکین قومی اسمبلی کی نااہلی کے لئے دائر کردہ ریفرنس مسترد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع تو کر لیا ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو رد کیے جانے کے امکانات معدوم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ منحرف اراکین نے ابھی تک کسی بھی اسٹیج پر اپنی جماعت کے خلاف ووٹ نہیں دیا لہذا انکی نااہلی ممکن نہیں ہے لہٰذا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟

بتایا گیا ہے کہ عامر لیاقت حسین کی اچانک موت کے بعد اب فواد چوہدری کے بھائی اور پی ٹی آئی کے وکیل چوہدری فیصل حسین نے 19 منحرف پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں تین رکنی ای سی پی بینچ نے ایک متفقہ فیصلے میں نااہلی ریفرنسز کو مسترد کر دیا تھا۔ کمیشن کا موقف تھا چونکہ ان اراکین اسمبلی نے اپنی پارٹی کے خلاف کسی بھی مرحلے پر ووٹ نہیں ڈالا اس لیے ان کی نااہلی ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 20 منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف آرٹیکل 63 اے کی بنیاد پر کمیشن کو ریفرنس بھیجا گیا تھا، آرٹیکل 63 اے منحرف اراکین کی نااہلی سے متعلق ہے جس کا اطلاق ان 20 منحرف اراکین پر نہیں کیا گیا تھا جنہوں نے اپریل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران اپوزیشن کی حمایت کی تھی۔

درخواستوں میں سے ایک میں قومی اسمبلی میں موجودہ اپوزیشن لیڈر راجا ریاض پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے حزب اختلاف کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ مل کر اپنی وفاداری تبدیل کرکے انتہائی ’غداری اور بے وفائی‘ سے کام لیا اور عمران خان کے خلاف 8 مارچ کے تحریک عدم اعتماد سے پہلے ’ٹرن کوٹ‘ بن گئے۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ راجا ریاض نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور قانون اور آئین کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے دیگر منحرف اراکین کے ساتھ انحراف کی مہم کی قیادت کی، جس سے جمہوریت، آئین، پارٹی اور سب سے بڑھ کر ان کے حلقوں اور عوام کو نقصان پہنچا۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد جب پارٹی کے دیگر تمام اراکین ملک کو ’حکومت کی تبدیلی‘ سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے تو راجا ریاض دوسرے اراکین کے ساتھ سندھ ہاؤس میں موجود تھے جہاں وہ چھپ گئے تھے، تاکہ ’انتہائی ناپاک انداز سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کے اپنے شیطانی منصوبے کو انجام دیا جاسکے‘۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ان کی مشکوک اور نقصان دہ پی ٹی آئی مخالف سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے 19 مارچ کو انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا، لیکن جواب دہندہ راجا ریاض نے نوٹس موصول ہونے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں ایک نہایت غیر سنجیدہ جواب منسلک کر دیا گیا جو اپیل کنندہ یعنی پارٹی چیئرمین عمران خان کو کبھی موصول نہیں ہوا۔ درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ اگر ایسے غیر آئینی اور غیر قانونی عمل کے خلاف عدالتی نوٹس سے گریز کیا جاتا ہے اور مدعا علیہ کو بلاسزا جانے کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ ملک میں قانون اور آئین کی عدم موجودگی کے مترادف ہوگا۔ مزید الزام لگایا گیا کہ راجہ ریاض اور انکے منحرف ساتھیوں نے اپنی نشست سے استعفیٰ دیے بغیر ایک دوسری پارلیمانی پارٹی سے اپنی وفاداریاں جوڑ کر پی ٹی آئی اور اپنے حلقے کے ووٹرز کے ساتھ ساتھ عوام کے اعتماد کو بھی دھوکا دیا اور اپنا حلف برقرار رکھنے میں ناکام رہے، لہٰذا ضابطہ اخلاق کو پورا کرنے کے بعد، آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت ان کے خلاف ریفرنس تب کے سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوایا تھا جنہوں نے اسے چیف الیکشن کمشنر کو بھیج دیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ای سی پی کا فیصلہ صوابدیدی، غیر قانونی، قانونی مواد سے خالی تھا اور اسے قانون اور آئین کے طے شدہ اصولوں کی توہین کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ کمیشن کا حکم منصفانہ ٹرائل کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں تھا اور مناسب عمل کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ کہا گیا ہے کہ جواب دہندگان الیکشن کمیشن کے حکم کو معقول بنانے کے لیے وجوہات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ عمران خان کے ایماء پر چوہدری فیصل حسین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا حکم آرٹیکل 63 اے کو مسترد کرنے کے مترادف ہے، جو انتہائی غیر معمولی طریقے سے انحراف، ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کی اجازت دیتا ہے۔ درخواست میں دلیل دی گئی کہ قانون اور آئین کا مقصد جمہوریت کو ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کی آلودگی سے بچانا ہے، لیکن الیکشن کمیشن آئین کی حفاظت کرنے اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری کی پاسداری کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button