زرداری اور شجاعت کی مساج چیئرز پر بحث کیوں؟

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے ہونے والی جوڑ توڑ میں سینئر سیاست دان آصف زرداری اور چوہدری شجاعت حسین کی لمبی لمبی ملاقاتیں جہاں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں وہیں دونوں کا آرام دہ مساج چیئر جیسی کرسیوں کا انتخاب بھی سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے عمران خان کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی اور آصف زرداری کے امیدوار حمزہ شہباز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ وزارت اعلیٰ کے الیکشن سے ایک روز پہلے 21 جولائی کو آصف زرداری دو بار چوہدری شجاعت سے ملنے گلبرگ لاہور میں ان کے گھر گئے اور وہاں چھ گھنٹوں تک اٹھنے کا نام نہیں لیا۔ رات کو شجاعت سے ملاقات ختم کرنے کے دو گھنٹے بعد آصف زرداری دوبارہ ان کے گھر پہنچ گئے اور پھر رات گئے تک دوسری ملاقات جاری رہی جس میں عہد و پیمان ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں۔

گلگت کی سیر کو جانے والے 75000 سیاح محصور کیوں ہو گئے؟

دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی اس بارے میں تو قیاس آرائیاں جاری ہیں مگر ٹوئٹر پر دونوں کی تصویر وائرل ہو گئی جس میں دونوں کو بڑی بڑی آرام دہ کرسیوں پر نیم دراز ہو کر محو گفتگو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر سامنے آنے پر طرح طرح کے تبصرے شروع ہو گئے۔ کسی نے دونوں کی پرسکون بدن بولی پر رائے زنی کی تو کسی نے راز و نیاز کے حوالے سے اندازے لگائے۔

تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹر صارف شہباز بدر نے لکھا کہ ’آصف زرداری پانچ گھنٹوں سے چوہدری شجاعت کے گھر موجود ہیں۔ یہ دونوں اتنے بھی صحت مند نہیں کہ پانچ گھنٹے سیدھے ہو کر بات چیت کرسکیں، لگتا ہے باتیں کرتے کرتے دونوں سو گئے ہوں گے۔‘ ایک اور صارف مہوش حسین نے لکھا کہ ’دیکھ شجاعت یار اب مان بھی جا۔ تمہیں میری جانب سے ایک درجن کیلے مفت میں ملیں گے۔‘

سابق چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی نے کچھ یوں تبصرہ کیا۔ ’اس تصویر میں آصف زرداری کہہ رہے ہیں کہ میرا کمال دیکھو کہ میں نواز شریف کی پارٹی اپنی جیب میں ڈال کے لے آیا ہوں۔ جواب میں چوہدری شجاعت کہہ رہے ہیں کہ ہمارا کمال دیکھو عمران خان کی پارٹی وزارت عظمٰی نامی دلہن خود ڈولی میں بٹھا کر ہمارے گھر پہنچ گئی ہے۔‘

صحافی مہرین زہرہ ملک نے تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کر ڈالا کہ ’مجھے بھی یہ آرام دہ کرسیاں چاہییں۔‘ راجہ عاصم نے لکھا کہ ’آصف زرداری مسلم لیگ (ن) کی لڑائی لڑنے چوہدری شجاعت حسین کے گھر مسلسل آٹھ نو گھنٹے موجود رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی دستیاب قیادت ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھروں میں بیٹھی رہی۔ او شریفو! کم سے کم کوشش تو کرو خود کو بچانے کی! وزیر اعلٰی مسلم لیگ (ن) کا ہے نہ کہ پی پی پی کا مگر (ن) کی طرف سے کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔‘

ایک اور صارف ثنا صائم نے لکھا ’آصف زداری پچھلے پانچ گھنٹوں سے چوہدری شجاعت کے گھر میں موجود ہیں۔کیا حالت کردی ہے عمران خان نے ان کی، اور ابھی کہتے ہیں خان کو سیاست نہیں آتی۔صارف حاجی گل محمد نے لکھا کہ ’ان کا خیال ہے کہ وزیراعلٰی کے انتخاب تک زرداری صاحب چوہدری شجاعت صاحب کے مہمان ہی بن جائیں، چائے پیئں، گھٹنے چھوئیں۔ کھانا کھائیں گھٹنے چھوئیں، ناشتہ کریں اور گھٹنے چھوئیں۔ ایک اور صارف نوید چوہان نے لکھا ’شاباش آصف علی زرداری شاباش۔ تھکاوٹ کے باوجود آپ ملک و قوم کے لیے چوہدری شجاعت کے ہمراہ جاگ رہے ہیں- شکریہ، ایک زرداری سب سے یاری۔‘ لیکن ایک اور صارف خوشنود علی نے لکھا کہ ایک زرداری کی سب سے یاری تو ہے ہی لیکن وہ سب پر بھاری بھی پڑ رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button