عمران نے امریکی لابنگ فرم کی خدمات کیوں حاصل کیں؟

عمران خان کی جانب سے پاکستان میں امریکی سفیر سے خفیہ رابطے کا انکشاف ہونے کے بعد اب ایک اوربڑا اسکینڈل سامنے آگیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اس وقت اپنے اینٹی امریکہ پبلک بیانیے کے برعکس انکل سام کیساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکی انتظامیہ اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے حصول کیلئے فینٹن آرلوک Fenton/Arlock LLC نامی امریکی لابنگ فرم سے معاہدہ کیا ہے، جس کے مطابق امریکی فرم ماہانہ 25000 ڈالرز کے بدلے تحریک انصاف کی پبلک ریلیشننگ اور میڈیا معاملات کے حوالے سے لابنگ کرے گی۔

سامنے آنے والی 9 اگست کی دستاویزات کے مطابق پی ٹی آئی اور امریکی فرم فینٹن آرلوک کے درمیان یہ معاہدہ 6 ماہ کی مدت کیلئےطے پایا ہے اور تحریک انصاف نے اس سلسلے میں بطور فیس ایڈوانس کی مد میں 50000 ڈالرز کمپنی کو ادا کئے ہیں۔

معاہدے کے مطابق امریکی فرم ماہانہ 25000 ڈالرز کے بدلے پی ٹی آئی کے تعلقات عامہ، انفارمیشن، میڈیا بریفنگ، آرٹیکلز اور براڈکاسٹنگ میں معاونت کرے گی اور پارٹی کے دیگر معاملات میں بھی لابنگ فرم کے طور پر کام کرے گی۔ یہ معاہدہ 6 ماہ کیلئے کیا گیا جو اگست 2022 سے شروع ہو کر جنوری 2023 پر ختم ہوگا، جبکہ معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ اگست اور ستمبر کے ایڈوانس اخراجات کی مد میں 5000 ڈالر ابھی واجب الادا ہیں۔

ابرارالحق کی غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لینے کی ویڈیو وائرل

یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ 2022 وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان ایمبیسی نے فینٹن آرلوک نامی اسی فرم کو ماہانہ 30,000 ڈالرز پر رکھا تھا۔ خیال رہے کہ 27 مارچ کو عمران نے بطور وزیراعظم ایک خفیہ خط کو بنیاد بنا کر کر اپنی حکومت گرانے کی کوششوں کا الزام بیرونی طاقتوں پر لگایا تھا۔ عمران خان نے اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران اپنی جیب سے ایک مبینہ خط نکالا اور اُسے لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متحدہ اپوزیشن ایک ’بیرونی سازش‘ کے ذریعے اُن کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ خط اس مبینہ سازش کا ثبوت ہے۔ تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ یہ کوئی امریکی خط نہیں تھا بلکہ واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید خان کی جانب سے لکھا گیا ایک خط تھا جس میں ان کی امریکن اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو کے ساتھ ایک ملاقات کا احوال بیان کیا گیا تھا۔ بعد ازاں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میں فوجی سربراہان کی موجودگی میں اسد مجید خان نے اعتراف کیا تھا کہ اس خط میں نہ تو کسی سازش کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی دھمکی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ خط پاکستانی دفتر خارجہ کو 7 مارچ کو موصول ہوا لیکن توجہ کا مرکز 27 مارچ کو بنا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہوچکی تھی۔

Related Articles

Back to top button