مقبول جماعتیں اورمقبول لیڈرزختم کیوں ہوجاتے ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ کہ ہمارے ہاں کچھ طاقت ور لوگوں کو نہ تو ضرورت سے زیادہ مقبول جماعتیں پسند ہیں اور نہ ہی مقبول ترین لیڈر۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، الطاف حسین اور عمران خان، ان سب کو کروڑوں افراد کی حمایت حاصل رہی، مگر پھر بھی محلاتی سازشوں کے نتیجے میں ان میں سے کوئی جان سے گیا تو کوئی میدان سیاست سے باہر ہوا اور یہ سلسلہ آج دن تک جاری ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران خان نہ تو ٹیپو سلطان ہیں اور نہ ہی محمود غزنوی۔ وہ پاکستان کی ایک سیاسی حقیقت ہیں اور اس وقت ایک مقبول لیڈر بھی ہیں۔ باقی فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں۔ اقتدار میں آنے کا راستہ خاصہ کٹھن ہوتا ہے اور سمجھوتہ تو بہرحال کرنا پڑتا ہے۔ کوئی ڈر کے کرتا ہے تو کوئی لڑ کر، کوئی اصول پر جان دے دیتا ہے تو کوئی اصولوں پر سمجھوتہ کر لیتا ہے۔ لہٰذا سیاست کو اگر ’’سیاسی ٹچ‘‘ تک ہی محدود رکھا جائے تو بہتر ہے۔ تحریک انصاف اس وقت شاید واحد سیاسی جماعت ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات میں اس کو چاروں صوبوں سے سیٹیں مل سکتی ہیں۔ مگر کیا وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ شاید یہ اب کسی بھی جماعت کے لیے ناممکن سا ہوتا جا رہا ہے۔ خان صاحب بہرحال ہمیشہ پر اعتماد رہتے ہیں مگر بعض فیصلے جلد بازی میں بغیر کسی حکمت کو سامنے رکھ کر کر جاتے ہیں جیسا کہ قومی اسمبلی سے 150 کے قریب MNAs کے استعفے۔

شہباز کیطرح وزیراعظم بنتے وقت عمران پر بھی کیسز تھے

بقول مظہر عباس، یہ منطق سے بالاتر فیصلہ تھا خاص طور پر اگر آپ سینٹ میں اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں اور ایک صوبہ میں حکومت بھی ہے۔ یہی غلطی 2014 میں ہوئی تھی۔ اگر امپورٹڈ حکومت کی تھیوری درست بھی ہے تب بھی اعتراض یا احتجاج حکومت کی تبدیلی پر اسمبلی پر نہیں کیونکہ اسی اسمبلی نے آپ کو بھی وزیر اعظم منتخب کیا تھا۔ سیاسی تحریکوں میں حکمت عملی تبدیل کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں مگر جس طرح اچانک 26 مئی کو اسلام آباد پہنچنے کے بعد مارچ 6 دن کے لیے مؤخر کیا گیا اس سے بہت سے کارکنوں میں مایوسی اور سوالات نے جنم لیا۔ ایسا ہی کچھ 20 مئی کو ملتان کے جلسے میں بھی ہوا جب تاریخ دیتے دیتے دو دن کے لیے تاریخ ملتوی کر دی گئی۔ اب پھر ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ایک نئی تاریخ۔ شاید وہ اب بھی پنڈی اور عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کسی کےساتھ اگر عوام کا سمندر ہو تو اسے ادھر یا ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے شاید یہی غلطی 1988 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کی تھی جب لاکھوں افراد ان کے ساتھ تھے وہ اگر مشروط حکومت لینے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ جاتیں۔ صدارتی الیکشن میں غلام اسحاق خان کے بجائے MRD کے امیدوار نواب زادہ نصر اللہ خان کی حمایت کرتیں تو آج سیاست مختلف ہوتی۔ یہ بھی ہماری سیاست کی حقیقتیں ہیں کہ 2007میں بے نظیر نے جب NRO کے بر خلاف پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تو یہ پیغام واضح تھا کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا پہلے 18؍اکتوبر کو خود کش حملہ جس میں وہ محفوظ رہیں تو 27 دسمبر کو لیاقت باغ میں نشانہ بنایا گیا اور وہ شہید ہو گئیں اور یوں سیاست کا ایک اہم باب بند کر دیا گیا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ سیاست کے ایک ادنیٰ طالب علم کے طور پر میں نے 50 سال کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور یہ بات پورے اعتماد سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں کچھ طاقت ور لوگوں کو نہ تو ضرورت سے زیادہ مقبول جماعتیں پسند ہیں اور نہ ہی مقبول ترین لیڈر۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، الطاف حسین اور عمران ان سب کے پیچھے کروڑوں افراد رہے ہیں اور اب بھی شاید ہیں مگر پھر بھی کوئی دنیا سے رخصت ہوا تو کوئی سیاست سے بے دخل، اس میں خود ان کی بھی بڑی سیاسی غلطیاں اور کمزور حکمت عملی رہی کسی حد تک اقتدار کا نشہ بھی مگر محلاتی سازشوں کا بھی عمل دخل رہا۔ 25 مئی کو اگر موجود حکومت اور ا سکے اتحادی فسطائی انداز نہ اپناتے اور ریاستی انداز کے برعکس مارچ کو ڈی چوک پر آنے دیتے تو شاید آج عمران خان زیادہ مشکل صورتحال میں ہوتے۔ رکاوٹیں، لاٹھی چارج، آنسو گیس، خواتین پر تشدد بے جا چھاپےاور گرفتاریوں نے لانگ مارچ کو خود ہی کامیاب کر دیا، پہلے صرف دھرنے کی تصویریں اور ویڈیو چلتیں تو حکومت کا امیج بہتر جاتا مگر کیا کریں جبر کے ذریعہ مخالفین کو دبانا ہماری روایت سی بن گئی ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اس وقت PTI سے زیادہ مہنگائی کے دبائو میں ہے، اسی طرح جیسے 8 مارچ 2022 سے پہلے خان صاحب کی حکومت تھی اسی لیے عدم اعتماد کی تحریک، اس وقت کی اپوزیشن کی بڑی سیاسی غلطی تھی۔ اور خان صاحب بھی جلد اقتدار میں آنے کے لیے وہی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔آنے والے تین ماہ اہم ترین ہیں حکمران اتحاد کے سامنے مہنگائی کا پہاڑ ہے جس کا بوجھ بہرحال عوام پر ہی گرنا ہے ایسے میں اگر فوری الیکشن ہو بھی جائیں تو معاشی صورتحال میں بہتری کی گنجائش کم ہی ہے۔ اب اگر یہ حکومت الیکشن آئندہ سال کرانا چاہتی ہے تو وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے فرزند حمزہ شہباز اور مریم نواز کو اپنے خلاف بنائے گئے مقدمات کی بجائے توجہ اس طرف دینی چاہئے۔ اس وقت FIA، NAB میں افسران کی تبدیلی یا قوانین میں تبدیلی اہم ہے یا لوگوں کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف خان صاحب کے لیے بہتر ہو گا اگر وہ مارچ اور دھرنوں کے بجائے پارٹی کی تنظیم نواور الیکشن کی حکمت عملی بنائیں کیونکہ انتخابات محض جلسے جلوسوں یا دھرنوں سے نہیں بلکہ مضبوط امیدواروں اور تنظیم سے جیتے جاتے ہیں جس کی PTI میں ہمیشہ سے کمی رہی ہے۔ ان تین ماہ میں کئی الیکشن ہونے ہیں۔ 17 جولائی کو اہم ترین الیکشن پنجاب میں 20 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونا ہیں جس کے بعد پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہونے والے ہیں۔ کراچی میں اس مرتبہ مقابلہ ایم کیو ایم اور تحریک لبیک میں لگتا ہے۔رہ گئی بات اعلیٰ عدلیہ اور نیوٹرل ایمپائر کی تو بہتر ہے اگر یہ دو اہم ترین ادارے سیاسی معاملات سے اپنے آپ کو دور رکھیں، انکا جھکائو ایک طرف نظر آئے یا دوسری طرف، اچھا تاثر قائم نہیں کرتا کیونکہ پچھلے 75 برسوں میں نظریہ ضرورت اور قومی مفاد کے نام پر ملک کا بہت نقصان کیا جا چکا ہے۔

Related Articles

Back to top button