عمرانڈوز کپتان کی غلط بات کو بھی صحیح کیوں مانتے ہیں؟

جس طرح کے غیر اخلاقی الزامات عمران خان پر لگتے رہے ہیں اگر کسی اور معروف شخص پر لگتے تو وہ سیاست میں آنے کے بجائے شرعی داڑھی سے چہرے کو مزین کرتا، حرم میں سیلفیاں کھینچتا، اور اپنی ہر حرکت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ وہ صدقِ دل سے توبہ کر چکا ہے لہٰذا اسے معاف کر دیا جائے۔ مگر خان صاحب کے عمرانڈو اور یوتھیے عاشقوں نے انکی ایسی ویسی حرکات سکنات کو ان کا نجی معاملہ قرار دے کر انکے سب اخلاقی گناہ معاف کرنے کی ریت ڈال رکھی یے۔ یہ اور بات کہ دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں عوامی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے والے سیاست دنوں کو لوگ ان کی نجی زندگی سے ہی پہچانتے ہیں اور جوابدہ بناتے ہیں۔

جنرل باجوہ کی امیر قطرسے ملاقات، باہمی دلچسپی کےامور پربات چیت

روزنامہ جنگ کے لئے تازہ تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی عماد غزنوی کہتے ہیں کہ خان صاحب اور انکے چاہنے والوں کے مابین عاشق و معشوق کا ایک عجیب و غریب رشتہ استوار ہو چکا ہے جس میں معشوق کی تمام خامیوں اور کمزوریوں سے صرف نظر برتا جاتا ہے۔ لہذا ایسے میں خان صاحب بطور معشوق سچ بولیں یا جھوٹ، صحیح کریں یا غلط، انکے چاہنے والے عالمِ وارفتگی میں ’’حق حق‘‘ کے فلک شگاف نعرے بلند کیے جاتے ہیں، وہ ہر حال میں سرِ تسلیم خم رکھتے ہیں، حماد کہتے ہیں کہ عشق کا پہلا شکار عقل ہوا کرتی ہے، قول ہے کہ ’’محبت میں عقل بحال رکھنا تو جیوپٹر کو بھی عطا نہیں کیا گیا تھا‘‘۔ یاد رہے کہ رومن دیو مالا میں جیوپٹر خدائوں کا خدا تھا۔ پھر اس سفر میں ’’میں نہیں سب تو‘‘ کا مقام آتا ہے، اور عاشق اس سفر کا آخری قدم اُٹھاتا ہے، عمران خان اور ان کے حواریوں کے درمیان بھی کچھ اسی قسم کا تعلق ہے، خان صاحب معشوق ہیں اوران کو چاہنے والا گروہِ عاشقاں، شمع اور پتنگے، داستانِ عشق کے مستند کردار، معشوق کچھ بھی کہے عشاق آمنا و صدقنا کا وردجاری رکھتے ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ذرا فرض کریں کہ اخلاقی مدار میں جس طرح کے ’’الزامات‘‘ عمران خان پر لگتے رہے ہیں اگر کسی اور معروف شخص پر لگتے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا لیکن ہمارے خان صاحب کے ساتھ تو معشوق والا رویہ عوامی رکھا جاتا یے۔ وہ کوچہء سیاست میں داخل ہوئے تو ان کے باہم متصادم بیانات سامنے آنے لگے، پھر ایسے بیانات کی تعداد بڑھنے لگی، اور پھر یہ ایک معمول بن گیا جس میں حیرت کا کوئی پہلو باقی نہیں رہا، عمران خان کے عشاق نے گویا انہیں پروانہ جاری کر دیا کہ وہ جو چاہیں کہیں، جو چاہیں کریں، ایک دن مغرب رو ہو کر سیاسی نماز پڑھیں، اور اگلے دن تحویل قبلہ کا حکم جاری کر دیں، پھر خان صاحب نے بھی اس لائسنس کا بھرپور استعمال کیا اور عاشق اسے ادائے دلبرانہ کہہ کرفضائی بوسے اچھالتے رہے۔

حماد غزنوی عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں ہوئے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حد تو یہ ہے کے معشوق نے ایک ہفتے میں پانچ بار آئین توڑا، سپریم کورٹ نے آئین شکنی کی تصدیق کی، مگر عشاق نے کہا ’’خان نے کیسا سرپرائز دیا ہے‘‘، محبوب نے امریکی سازش کا ایک افسانہ تراشا، تو عشاق دھمال ڈالنے لگے، معشوق نے کہا میں کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لایا تھا اور پھر فرمایا نیوٹرل جانور ہوتا ہے، لیکن عشاق اس پر بھی تالیاں پیٹنے لگے، خان نے کہا کہ موجودہ حکومت بھیک لیتی ہے، اور ہم جو لیتے تھے وہ پیکیج کہلاتا ہے، یوں ساز کی لے چڑھتی گئی، رقصِ میں دیوانگی بڑھتی رہی۔

بقول حماد، عمران ہمارے وہ واحد سیاستدان ہیں جن کا ہر نیا بیان ان کے کسی گزشتہ ارشاد کی نفی کرتا ہے۔ پنجاب میں بیس ضمنی انتخابات کی کمپین چلانے کیلئے عمران لاہور تشریف لائے تو ایک جلسے میں فرمانے لگے کہ لوٹوں کو سبق سکھانا ہے، اصل جہاد حقیقی آزادی حاصل کرنا ہے، اور نیب قانون میں کی جانے والی ترامیم این آر او ٹو ہیں، اور ان کے سیاسی مخالفین نے چوری کے گیارہ سو ارب روپے باہر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی باتوں پر جلسہ گاہ میں موجود ان کے مداح بے اختیار سر دھنتے رہے۔ اب عاشق اور عام آدمی کا فرق ملاحظہ فرمائیے۔ عام آدمی جس کی یادداشت کام کرتی ہے خان صاحب سے سوال کرے گا کہ 2018میں آپ کی جماعت کا تو خمیر ہی ہر رنگ و دھات کے لوٹوں سے اٹھایا گیا تھا، پنجاب میں کئی امیدواروں کو پی ایم ایل (ن) سے ہانک کر پی ٹی آئی میں جانے پر مجبور کیا گیا تھا، آپ کی کابینہ آدھی مشرف اور آدھی پیپلز پارٹی سے آئی تھی، آپ کب سے لوٹوں کے خلاف ہو گئے؟ پاکستان کی تاریخ کا اسّی فی صد قرض لینے والے، صدر ٹرمپ سے ملاقات کو ورلڈ کپ ٹو قرار دینے والےاور خیرات کے چاول مسکرا کے قبول کرنے والے’ ’حقیقی آزادی‘‘ کا نعرہ لگا رہےہوں تو بندہ اپنے چہرے کے تاثرات طے نہیں کر پاتا۔ اور ساڑھے تین سال میں سیاسی مخالفین سے جیلیں بھرنے والا، ان کے مبینہ لوٹے ہوئے 1100 ارب میں سے ایک روپیہ بھی واپس نہ لا سکنے والا، اگر پھر وہی منجن بیچنے نکلے تواس کا سودا صرف اور صرف ہوش و خرد سے ماورا عشاق ہی خرید سکتے ہیں۔

عمران خان فرماتے ہیں کہ میری اپوزیشن اس بات سے خوف زدہ تھی کہ میں فیض حمید کو اگلا چیف لگا دوں گا جبکہ میں نے تو اس تعیناتی کے بارے ابھی سوچا بھی نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ اپوزیشن اس تعیناتی سے آخر کیوں خوف زدہ تھی جب کہ کچھ روز پہلے ہی خان صاحب نے فرمایا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ فیض کو انٹیلی جنس ایجنسی کی سربراہی سے ابھی نہ ہٹایا جائے اور وہ میری سردیاں گزروا دیں۔ خان صاحب کی انگیٹھی زمانے بھر سے جدا لگتی ہے۔ حماد غزنوی کے بقول، آرمی چیف تو بڑی بات ہے، خان صاحب آپ نے تو انٹیلی جنس سربراہ کے بارے انتہائی غور و خوص کر رکھا تھا۔ مگر یہ سوال کسی عاشقِ صادق کے دل میں نہیں اٹھ سکتے۔ ’’شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہ‘‘۔

Related Articles

Back to top button