تحریک طالبان اور پاکستان کے مذاکرات ٹوٹنے کا امکان کیوں ہے؟

تحریک طالبان اور پاکستانی حکام کے مابین مذاکراتی عمل آگے بڑھنے کے بعد جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع ہو جانے کے باوجود اس عمل کی کامیابی بارے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے چونکہ ٹی ٹی پی کے کچھ مطالبات ایسے ہیں جنہیں تسلیم کرنا پاکستان کے لیے ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد فریقین نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کی توسیع کر دی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی شدت پسندی چھوڑ کر پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت سماجی دھارے میں شامل ہونے پر تیار نہیں۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان کی قیادت ہتھیار ڈالنے پر بھی آمادہ نہیں۔ شاید اسی لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حال ہی میں جاری ہونے والے رپورٹ میں ٹی ٹی پی کو پاکستان کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات کے دوران مستقبل میں جنگ بندی کے سمجھوتے کا امکان کم ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے تیار کردہ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی جب ٹی ٹی پی کی طرف سے حالیہ مہینوں میں پرتشدد حملوں میں اضافے کے باوجود حکومت پاکستان اور شدت پسند گروپ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ گزشتہ سال اگست میں کابل میں افغان طالبان کی واپسی سے افغانستان میں مقیم غیر ملکی شدت پسند گروپوں میں سب سے زیادہ فائدہ ٹی ٹی پی کو ہوا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات کے باوجود کسی معاہدے کا امکان کم نظر آتا ہے اور ٹی ٹی پی شاید جنگ بندی برقرار رکھنے کے وعدے پر قائم نہ رہے کیوں کہ وہ پاکستان کو سابق قبائلی علاقوں میں اپنے خلاف کارروائیوں سے روکنے کے لیے دباؤ برقرار رکھنا چاہے گی۔
پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان کے سکیورٹی کے مسائل کم ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان شدت پسند عناصر کے لیے گزشتہ سال عام معافی کا اعلان کیا تھا جو شدت پسندی سے تائب ہو کر پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت مرکزمی سماجی دھارے میں شامل ہونے لیے تیار ہوں گے۔ لیکن اس کے باوجود ٹی ٹی پی نے یہ پیش کش قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

نیب کے متنازعہ چیئرمین جاوید اقبال کا مستقبل کیا ہے؟

حکومتِ پاکستان اور افغانستان میں تعینات پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے کابل میں جاری مذاکرات کے حوالے سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم قبائلی زعما اور سیاسی حلقوں نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ساتھ جلد امن معاہدے کی اُمید ظاہر کی ہے۔ لیکن تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرت میں پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود سابق فوجی حکام اور سیاسی تجزیہ کار امن معاہدے کے لیے ٹی ٹی پی کی شرائط کو بہت سخت قرار دے رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سعد محمد خان کہتے ہیں کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت سے مراحل طے ہونا باقی ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کی بعض شرائط ایسی ہیں جن کی وجہ سے معاہدے میں ناکامی ہو سکتی ہے۔ رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ ان شرائط میں قبائلی اضلاع سے فوج کی واپسی اور ٹی ٹی پی کا فوجی آپریشن کے دوران مالی اور جانی نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران فوج نے افغانستان سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں چھاؤنیاں بنائی ہیں، لہذٰا ان اضلاع سے فوج کی واپسی یا ان تنصیبات کو خالی کرنا فوج کے لیے ناممکن ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کی جداگانہ حیثیت کی بحالی کا مطالبہ صرف طالبان کا نہیں بلکہ قبائلی اضلاع کی اکثریت اس مطالبے کی حامی ہے۔ اُن کے بقول قبائلی اضلاع میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے طالبان ان علاقوں میں اپنی مقبولیت کھو چکے تھے، لہذا قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کر کے وہ یہاں کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) سعد محمد خان کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام آئین میں ترمیم کے ذریعے ہوا تھا، لہذٰا اس ترمیم کو ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ خیال رہے کہ 2019 میں آئینِ پاکستان میں کی گئی 25 ویں ترمیم کے ذریعے قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button