اسلام آباد پر لشکر کشی کی دھمکی پرعدلیہ خاموش کیوں؟

پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی س

ابق وزیر اعظم نے وفاقی حکومت کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے ایک صوبائی حکومت کے وسائل اور مشینری استعمال کی ہو ا

ور اس صوبے کے وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد پر لشکر کشی کے لیے صوبائی پولیس فورس استعمال کرنے کی دھمکی دی ہو۔ یہ دونوں کام تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کیے ہیں لیکن کپتان کے لانگ مارچ کی سہولت کاری کرنے والی سپریم کورٹ اب خاموش ہے اور ازخود نوٹس لینے سے گریزاں ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آج سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا کہ کسی صوبے نے اسلام آباد پر لشکر کشی کی دھمکی دی ہو۔ یہ بات تحریکِ طالبان نے بھی کھل کر کبھی نہیں کی کہ وہ اسلام آباد آ کر قبضہ کر کے پاکستان کو خود چلائیں گے۔ لیکن پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور ان کے لیڈر عمران خان تو حد سے بڑھ گئے ہیں۔ ایک طرف عمران دھمکی دے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ پرامن مارچ کی ضمانت دے ورنہ خود تیاری کر کے آؤں گاتو دوسری جانب ان کے عمرانڈو وزیر اعلیٰ نے بھرے مجمع میں کپتان کا اصل منصوبہ آشکار کر دیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ان کے اگلے لانگ مارچ کو تحفظ فراہم نہ کیا تو پھر خیبر پختونخوا کی پولیس فورس استعمال کی جائے گی۔ اسی ‘تیاری’ کی بات عمران خان بھی کر رہے ہیں۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اگر ان کے لانگ مارچ کو سپریم کورٹ نے تحفظ نہ دیا تو انہوں نے اگلا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ان کے لانگ مارچ کے دوران انکے ساتھیوں کے پاس اسلحہ تھا اور اگر وہ دھرنا دینے کا فیصلہ کرتے تو خون خرابہ ہو جانا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان اس حد تک نہ جاتے اگر سپریم کورٹ حکومت کے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انھیں اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ دیتی۔ سونے پر سہاگا یہ کہ جب عمران کے ساتھیوں نے عدالتی اجازت پر وفاقی دارالحکومت پہنچ کر اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کی اور ہر طرف آگ لگا دی تب بھی سپریم کورٹ کے عمرانڈو جج خاموش رہے اور اب تک خاموش ہیں۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کو اس منصوبے سے پہلے ہی آگاہ کر چکی ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ عمران نے لانگ مارچ میں اسلحہ لے کر آنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ تاہم ان سب انکشافات کے باوجود عدالتی خاموشی نے عمران خان کو مزید ہلا شیری دی ہے اور وہ دوبارہ لانگ مارچ کا منصوبہ بنا رہے ہیں حالانکہ ان کا پہلا لانگ مارچ مکمل طور پر ناکام رہا تھا۔

نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب مرکز میں ایک جماعت کی حکومت ہوا کرتی تھی اور صوبے میں دوسری جماعت کی۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں؟ 2008 سے 2013 تک پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی۔ دونوں جماعتوں میں مسلسل گولہ باری جاری رہتی۔ یہاں تک کہ 2009 میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں گورنر راج تک لگا دیا، لیکن صوبے کے وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر لشکر کشی کی بات کسی جماعت نے نہیں کی۔ خود شہباز شریف کہا کرتے تھے زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالیں گے لیکن کسی بھی موقع پر یہ نہیں کہا کہ پنجاب کی فورس لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کروں گا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال 2013 سے 2018 تک یوں تھی کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اور وفاق میں ن لیگ کی حکومت تھی۔ تب بھی وہاں سے ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔

چاغی میں مظاہرین پرفائرنگ کا میڈیا بلیک آؤٹ کیوں؟

ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر ہر بار عمران اور انکی جماعت کی جانب سے ہی کیوں تمام حدیں پار کی جاتی ہیں؟ کیوں یہ بار بار خانہ جنگی کی بات کرتے ہیں؟ کیوں یہ بار بار خون خرابے کی بات کرتے ہیں؟ کیوں خونی مارچ کا نام لیتے ہیں اور کیوں ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا؟ سینئر صحافی علی وارثی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو عمران کو ریلیف فراہم کرنے کی بہت جلدی تھی، اور یقیناً آئندہ بھی ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ عمران کو جلسے کی اجازت دیتے وقت وفاقی حکومت کے ان خدشات کو کیوں نظر انداز کیا گیا کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے مسلسل خون خرابے کی باتیں کی جا رہی ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ عمران کے خون خرابے کے عزائم پبلک ہوجانے کے باوجود سپریم کورٹ نے حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑتے ہوئے انہیں جلسہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟
اب موصوف سپریم کورٹ سے اپنے لانگ مارچ کے لئے تحفظ مانگتے ہوئے عدالت کو یہ تڑی بھی لگا رہے ہیں کہ اگر آپ نے میرا ساتھ نہ دیا تو آپ کے بچے آپ کو معاف نہیں کریں گے، تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ بقول علی وارثی، خان صاحب اداروں کو تو ایسے تڑیاں لگاتے ہیں جیسے وہ ان کے ذاتی ملازم ہیں، اور ان کے بچوں کی زندگیاں، مستقبل ان کے حکومت بنانے یا نہ بنانے سے منسوب ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی پیپلز پارٹی والا تصور بھی کر سکتا ہے عدلیہ بارے اس قسم کی زبان استعمال کرنے کا؟ اسی سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی اور نیوکلیئر بم کا بانی، ملک کا پہلا منتخب وزیر اعظم، ذوالفقارعلی بھٹو قتل کر دیا تھا لیکن پھر بھی کوئی جیالا عدالت کے خلاف ایسی گفتگو کرنے کی جرات نہیں کر سکتا جیسی عمران کرتا ہے۔ اگر کوئی جرات کرے گا تو فوراً توہینِ عدالت کے کیس میں بلا لیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کے تین لیڈران طلال چودھری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی توہینِ عدالت پر پانچ، پانچ سال کے لئے نااہل کر دیئے گئے تھے۔ اِدھر یہ صاحب ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھا تو چیف جسٹس نے فرمایا ممکن ہے کہ انہیں احکامات صحیح طریقے سے ملے نہ ہوں۔

بقول علی وارثی، پتہ نہیں لاڈلے پن میں عمران کی یہ بدتمیزیاں برداشت کی جاتی ہیں یا کوئی خوف ہے جو انہیں برداشت کرنے پر مجبور کرتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ اس شخص کی محبت میں اس ملک کا نظامِ انصاف جتنا متنازع ہوا ہے، پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کے اندر اندھیر مچی ہوئی ہے۔ تمام تر ‘تیاریوں’ اور اعلانات کے باوجود درجنوں ایسے چوٹی کے رہنما تھے جو لانگ مارچ کے دن کہیں نظر نہیں آئے۔ اب ان کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں، ان کو عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے، ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہو رہا ہے، گویا اس سے لوگوں کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے گا کہ خان ہمیں عہدوں سے ہٹا رہا ہے۔ موصوف بھول رہے ہیں کہ یہ تو پارٹی چھوڑنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہوں گے اس وقت۔ قومی اسمبلی سے استعفے دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ جو خود کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے پر تلے ہیں اور علی الاعلان استعفوں کا اعلان کر چکے ہیں، وہ تو خود آس لگائے بیٹھے ہیں کہ خان صاحب کا پتہ صاف ہو تو پارٹی پر قبضہ کریں۔ غالب اکثریت پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتی ہے۔ شاہ محمود قریشی، فواد چودھری، اسد عمر، پرویز خٹک سمیت تمام قیادت عمران کی پالیسی پر متفق نہیں لیکن اتنی ہمت بھی نہیں کہ کھل کر اختلاف کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران بڑھکیں مار کر صرف اپنے کارکنان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب بھی ان کے ترکش میں کچھ تیر باقی ہیں۔ وہ خیبر پختونخوا سے پنجاب پر فوج کشی کروا سکتے ہیں۔ اور سپریم کورٹ میں ان کے حمایتی موجود ہیں۔ کیونکہ دھرنے میں یہ تماشہ تو ختم ہوا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ اب بھی میرے ساتھ ہے۔ اگر وہ ساتھ ہوتا تو اسی دن نظر آ جاتا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ جو تھوڑا بہت دباؤ اسٹیبلشمنٹ محسوس کر بھی رہی ہوگی، وہ اسی دن ہوا ہو چکا۔ سپریم کورٹ سے فیصلہ لیں گے تو زیادہ سے زیادہ اس دن والا فیصلہ آ جائے گا کہ ایک پارک میں جگہ دے دی جائے۔ یہ تڑیاں، دھمکیاں محض کارکنان کو حوصلہ دینے کے لئے ہیں۔ ورنہ اندر کی کہانی یہ ہے کہ پارٹی بربادی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جب اسٹیبلشمنٹ کے سہارے بنی ہو تو یہ سہارا ہٹنے سے کچھ ایسی ہی صورتحال بنتی ہے۔ اگلے چند دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ پھر کس کو دھمکیاں دیتے پھریں گے خان صاحب؟ اور کون سنے گا ان کی دھمکیاں؟

Related Articles

Back to top button