پاکستان روس سے سستا پٹرول کیوں نہیں خرید رہا؟

وزیر اعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت اس وقت مسلسل تنقید کی زد میں ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ مہنگا تیل خریدنے کی بجائے پاکستان روس سے سستا تیل کیوں نہیں خرید رہا جیسا کہ بھارت

سمیت دنیا کے کئی ممالک کر رہے ہیں؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ تیل کی خریداری پر پابندی کا بہانہ کیا جا رہا ہے اور پاکستان روس سے گندم خرید سکتا ہے تو تیل کیوں نہیں خرید سکتا؟ یہ وہ سوال گذشتہ کئی دنوں سے پاکستانی سیاست کا محور ہے اور تحریک انصاف کی قیادت اسے حکومت پر تنقید کے لئے استعمال کر رہی ہے۔

گذشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو نے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے نئے سوالات اٹھا دیے جس پر تحریک انصاف خوب تنقید کر رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں روس اور یوکرین سے گندم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کی تصدیق مفتاح اسماعیل کے انٹرویو میں بھی ہوئی لیکن اس دوران ایک اہم سوال اٹھا کہ کیا پاکستان پر روس سے تیل خریدنے پر کوئی پابندی ہے یا نہیں؟

امریکی ٹی وی چینل سی این این کی میزبان بیکی اینڈرسن نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے سوال کیا کہ ’بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پاکستان کو مدد کی اشد ضرورت ہے تو کیا ایسے میں حکومت روس سے تیل اور گندم خریدنے پر غور کر رہی ہے، کیا یہ بات درست ہے؟‘

مفتاح اسماعیل نے جواب دیا کہ ’ہم نے روس سے گندم خریدنے کی بات کی ہے۔ گذشتہ حکومت نے روس سے تیل خریدنے کی بات کی تھی لیکن میرا خیال ہے کہ روس پر اس وقت پابندیاں عائد ہیں۔ روس نے ابھی تک گذشتہ حکومت کی جانب سے تیل کی خریداری کے لیے بھیجے جانے والے مراسلے کا جواب نہیں دیا۔ لیکن ہم نے روس اور یوکرین دونوں سے بات کی ہے، ان میں سے جو بھی ہمیں گندم دینے کو تیار ہے، ہم ان سے خریدنا چاہیں گے۔‘ اس پر میزبان نے سوال کیا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ تیل نہیں خریدا جائے گا، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ روس سے تیل نہیں خریدیں گے؟‘ اس سوال پر ایک بار پھر مفتاح نے جواب دیا کہ ’گذشتہ حکومت نے روس کو اس بارے خط لکھا تھا جس کا جواب ابھی تک نہیں آیا۔ اب تک روس نے پاکستان کو سستا تیل فروخت کرنے کی کوئی پیشکش بھی نہیں کی اور ویسے بھی اس حوالے سے پابندیاں عائد ہیں، لہٰذا میرے لئےیہ سوچنا مشکل ہے کہ ہم روس سے تیل خرید سکتے ہیں۔‘

آئین شکن قاسم سوری قومی اسمبلی میں گند ڈالنے پر مصر

مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے شاید یہ وضاحت کافی نہیں تھی اسی لیے بیکی اینڈرسن نےدوبارہ سوال کیا کہ ’کئی ممالک روس سے تیل خرید رہے ہیں، مثال کے طور پر پاکستان کا ہمسایہ ملک انڈیا روس سے تیل خرید رہا ہے تو کیا پاکستان بھی روس سے سستا تیل خریدنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے؟‘ مفتاح اسماعیل نے جواب دیا کہ ’اگر روس نے ہمیں سستا تیل دینے کی پیشکش کی اور اگر پاکستان پر روس سے تیل خریدنے کی کوئی پابندی نہیں تو یقیناً ہم اس پر غور کریں گے لیکن اس وقت میرے خیال میں یہ ممکن نہیں ہو گا کہ پاکستانی بینک ایل سی کھول سکیں تا کہ روس سے تیل کی خریداری کی جا سکے اور نا ہی روس نے کوئی پیشکش کی ہے۔‘

وزیر خزانہ کے انٹرویو پر تحریک انصاف کے سابق وزیر حماد اظہر نے ٹوئٹر پر جواب دیا کہ ’مفتاح اسماعیل کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے بینک روسی مصنوعات کی خریداری کے لیے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھول سکتے لیکن ساتھ ہی وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم روس سے گندم خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ حکومت روس سے تیل خرید سکتی ہے اگر کوئی پابندی نہیں ہے۔ 45 دن گزر چکے ہیں اور ان کو معلوم ہی نہیں کہ ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔‘
تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی کچھ ایسا ہی دعویٰ کیا۔انھوں نے لکھا کہ ’45 دن بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم روس سے تیل خریدیں گے اگر کوئی پابندی نہیں ہوئی۔‘ شیریں مزاری نے کہا کہ ’روس سے تیل خریدنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انڈیا سے پوچھ لیں۔ تو پھر آخر ایسی کیا بات ہے جو ان کو روس سے تیل خریدنے سے روک رہی ہے امریکہ کے خوف کے علاوہ؟‘

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان روس سے سستا تیل خریدنے کی بات چیت کر رہا تھا۔ حماد اظہر بعد میں ایک خط بھی منظر عام پر لے کر آئے جو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے سے نو دن پہلے روس کو لکھا گیا تھا اور اس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان روس سے خام تیل، پٹرول اور ڈیزل کی سستے نرخوں پر درآمد کے سلسلے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس خط میں حماد اظہر نے روسی ہم منصب کو لکھا کہ وہ روس کے ان حکام کی تفصیلات فراہم کریں جو روس کے اداروں کی جانب سے اس سلسلے میں بات کو مزید بڑھائیں گے۔

حماد کی جانب سے تنقید اور خط شیئر کیے جانے کے بعد مفتاح اسماعیل نے ٹوئٹر پر ان کو جواب دیتے ہوئے لکھا ’حماد بھائی، میرا انٹرویو غور سے دوبارہ سُنیں۔ میں نے یہی کہا کہ آپ کی حکومت نے خط لکھا تھا۔ لیکن میں نے کہا کہ اس کا جواب نہیں آیا۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ نے عمران خان کے دورہ روس کے ایک ماہ بعد تک انتظار کیا اور پھر یہ خط لکھا۔ وہ بھی اس وقت جب آپ کو علم تھا کہ آپ تحریک عدم اعتماد کا ووٹ ہار جائیں گے اور یہ صرف سیاست کے لیے لکھا گیا۔‘ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کی جانب سے سی این این کو دیے گئے اس انٹرویو کے بعد کافی بحث کا سلسلہ جاری ہے اور صارفین اس پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ سوال ایک مرتبہ پھر پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ اگر انڈیا روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے تو پاکستانی حکومت کیوں نہیں؟
یاد رہے کہ انڈیا روس سے تیل خرید بھی رہا ہے اور 21 مئی کو انڈیا کی حکومت نے تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان بھی کیا تھا۔ گذشتہ ہفتے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدل میمن نے بھی انڈیا سے بات چیت کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ روس سے پابندیوں کے خوف کا سامنا کیے بغیر سستا تیل اور گندم کیسے خریدی جائے۔
انھوں نے بنگلہ دیش نیوز ٹوئنٹی فور سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’روس نے ہمیں تیل اور گندم فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔ لیکن ہم پابندیوں کے خوف سے ایسا نہیں کر سکتے۔ ہم نے انڈیا سے پوچھا ہے کہ انھوں نے ایسا کیسے کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ انڈیا نے کچھ چالیں ڈھونڈ لی ہیں۔‘

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’انڈیا ایک بڑا ملک ہے۔ ان پر کوئی پابندی نہیں لگاتا۔ ہم ایک غریب اور چھوٹا ملک ہیں۔ اسی لیے مغرب ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘ واضح رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد روسی تیل اور گیس پر انحصار ختم کرنے کی بات ہو رہی ہے تاکہ روس کی آمدنی کو نقصان پہنچایا جا سکے لیکن اب تک یورپی یونین اور برطانیہ مکمل طور پر روس سے تیل اور گیس کی خریداری ختم نہیں کر سکے۔

آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ روسی تیل کی خریداری پر مکمل پابندی لگا چکے ہیں لیکن یورپی یونین میں اس معاملے پر مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔ یورپین یونین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 2022 کے آخر تک سمندر سے آنے والے روسی تیل کی درآمد مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی لیکن روسی پائپ لائن کے ذریعے آنے والے تیل کا استعمال جاری رہے گا۔ اس فیصلے کی وجہ ہنگری اور سلوویکیا جیسے ممالک کی مخالفت بتائی جا رہی ہے جن کا دارومدار روس کے تیل اور گیس پر ہے۔

Related Articles

Back to top button