پٹرول استعمال نہ کرنے والے بھی اسکا بوجھ کیوں اٹھائیں گے؟

عام آدمی پیٹرولیم مصنوعات استعمال کرے یا نہ کرے لیکن انکی قیمتوں میں سو روپے فی لیٹر سے زائد کے اضافے کا بوجھ اس پر اس لیے پڑنا لازمی ہے کہ ہمارے ملک میں ڈیزل کا زیادہ استعمال زراعت کے شعبے میں ہوتا ہے لہٰذا خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہر صورت ہو کر رہنا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے تین ہفتوں کے دوران تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پٹرول 234 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 264 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔

شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں بڑے بریک تھرو کا امکان

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور بزنس پر ہو گا اور مجموعی طور پر مہنگائی میں 30 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ تو صرف مقامی اثرات ہیں۔ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے اور مہنگائی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے جس سے دنیا کی بہت سی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ جون میں ڈیزل کی قیمت تاریخ میں اب تک سب سے بلندی پر پہنچ گئی تھی اور یہ مسئلہ پیٹرول سے بھی بڑا سر درد پیدا کر رہا ہے۔ معاشی ماہرین کو تشویش ہے کہ اس کی قیمت میں اضافہ اس لیے ہوا کیونکہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت ہے اور مختصر مدت میں ان قیمتوں کو کم کرنا مشکل ہوگا۔ کیونکہ ڈیزل زیادہ تر کارگو گاڑیوں میں استعمال ہونے والا ایندھن ہے اور ہماری خوراک، ادویات یہاں تک کہ وہ پیٹرول جو ہم سروس سٹیشنوں پر اپنی کاروں میں بھرتے ہیں ڈیزل سے چلنے والے ٹرکوں کے ذریعے ہی آتا ہے۔ یہی ڈیزل ٹرک سامان ان بحری جہازوں تک پہنچاتے ہیں جو پوری دنیا میں اس کی ترسیل کرتے ہیں۔ بہت سی بسیں اور ٹرینیں بھی ڈیزل ہی استعمال کرتی ہیں۔ اور یہ وہ ایندھن ہے جس پر صنعتیں انحصار کرتی ہیں چاہے وہ کھیتوں میں چلنے والا ٹریکٹر ہی کیوں نہ ہو۔

اس وجہ سے ڈیزل کی کمی پوری دنیا میں سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔ لہزا اگر ڈیزل کی طلب رسد سے زیادہ ہوتی رہی تو قیمتیں اور بڑھنے کا خطرہ ہے۔ اس ایندھن کی کمی سری لنکا، یمن اور کئی افریقی ممالک جیسی جگہوں پر ٹرانسپورٹ کے مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہے بلکہ یورپ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ دنیا کے دوسرے حصے میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کے برعکس یورپ میں پرائیویٹ کاروں کے بہت سے ڈرائیور ڈیزل کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ پیٹرول کے مقابلے توانائی کا زیادہ مؤثر اور کم آلودگی پھیلانے والا ذریعہ ہے۔ آج برطانوی اپنی کار کو بھرنے کے لیے 100 پاؤنڈ سے زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ میں ٹرک ڈرائیور ڈیڑھ ڈالر فی لیٹر ادا کر رہے ہیں جو اس ملک میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ قیمت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے ڈیزل کا تقریباً ایک تہائی حصہ درآمد کیا جاتا ہے اور یوکرین میں جنگ کے اثرات کی وجہ سے تیل کمپنیوں کے لیے نہ صرف اسے حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے بلکہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ کم مقامی قیمتوں کی وجہ سے موجودہ قیمتوں پر اسے درآمد کرنا بھی ان کے لیے منافع بخش نہیں ہے۔
ڈیزل کے غائب ہونے کی واحد وجہ روسی حملہ نہیں ہے۔ولادیمیر پوتن کی جارحانہ کارروائی سے پہلے فروری کے آخر میں ڈیزل کی عالمی طلب پہلے ہی سپلائی سے زیادہ ہو گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس عدم مطابقت کی سب سے بڑی وجہ کرونا کی وبا تھی۔ 2019 اور 2020 میں قرنطینہ کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رکا اور ایندھن کے استعمال میں کمی آئی جس کی وجہ سے ریفائنریز نے اپنی ڈیزل کی پیداوار کو کم کر دیا، یہاں تک کہ کچھ نے اپنے دروازے مستقل طور پر بند کر دیے اور دوسروں نے صاف اور زیادہ ماحول دوست ذرائع کی طرف منتقلی کے لیے قابل تجدید ایندھن کو بہتر بنانے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

2021 میں جب دنیا کُھلنی شروع ہو رہی تھی تو ڈیزل کی مانگ تیزی سے سپلائی سے زیادہ بڑھ گئی۔ اس مسئلے میں اضافے کا ایک سبب کمرشل پروازوں کا تیزی سے دوبارہ شروع ہونا تھا، کیونکہ جیٹ فیول ڈیزل جتنے خام تیل سے بنایا جاتا ہے۔ لہٰذا اب ڈیزل کی بڑھتی ہوئی مانگ نے امریکہ، یورپ اور ایشیا کے بہت سے ممالک کو اپنے ڈیزل کے ذخیرے کو ختم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button