عمران دور میں 6 ارب روپے کے بینک قرضے معاف کیے گئے

سابق وزیراعظم عمران خان کے چار سالہ دور حکومت میں 2018 سے 2021 کے دوران سرکاری بینکوں کی جانب سے مراعات یافتہ طبقے اور سیاسی شخصیات پر واجب الادا 6 ارب روپے سے زائد کے بینک قرضے معاف کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 150 سے زائد بڑے قرض دہندگان یا نادہندگان سیاستدانوں، ریٹائرڈ فوجی افسران، تاجروں، صنعت کاروں اور زمینداروں نے اپنے ذمے واجب الادا کروڑوں روپوں کے قرض معاف کرائے۔ جن سرکاری بینکوں نے قرض معاف کئے ان میں نیشنل بینک آف پاکستان (NBP)، زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL)، بینک آف پنجاب (BoP) اور بینک آف خیبر (BoK) شامل ہیں۔

سرکاری ڈیٹا کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت بینکوں نے گزشتہ 32 برسوں کے دوران مجموعی طور پر 58 ارب روپے کے قرض معاف کرائے۔مسلم لیگ (ن) کے تین ادوار کے دوران مجموعی طور پر 15 ارب 82 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کے قرض معاف کئے گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے تین ادوار کے دوران 14 ارب 12 کروڑ 90 لاکھ کے لگ بھگ قرضے معاف کیے گئے۔سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دور میں سرکاری بینکوں نے مجموعی طور پر سینکڑوں افراد اور اداروں پر واجب الادا 21 ارب روپے کے قرضے معاف کئے۔

معروف تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری کی ایک رپورٹ کے مطابق 3 ہزار مقروض افراد اور اداروں میں سے لگ بھگ 500 نے مجموعی طور پر 30 ارب روپے کے قرض معاف کرانے کے لئے نیشنل بینک آف پاکستان (NBP)، زرعی ترقیاتی بینک (ZTBL)، بینک آف پنجاب (BoP) اور بینک آف خیبر (BoK) پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا۔ تحریک انصاف کے چار سالہ دور حکومت یعنی 2018 تا 2021 کے دوران سرکاری بینکوں نے 6 ارب روپے کا ریکارڈ قرض معاف کیا۔ اگر بینک آف پنجاب کی بات کی جائے تو اس نے اپنے قیام سے اب تک 17 برسوں میں 852 افراد اور اداروں پر واجب الادا 7 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کے قرض معاف کئے۔

تحریک انصاف کے برسراقتدار میں آنے سے قبل بینک آف پنجاب نے 2005 سے 2017 کے درمیان 186 افراد اور کمپنیوں پر واجب الادا 2 ارب 70 کروڑ روپے معاف کئے تھے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے 4 سالہ دور حکومت میں بینک آف پنجاب نے 666 افراد اور اداروں پر واجب الادا 4 ارب 50 کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ بینک آف پنجاب نے 2018 کے دوران 310 افراد اور کمپنیوں پر واجب الادا ایک ارب 70 کروڑ روپے کے قرض معاف کئے۔ 2019 میں بینک آف پنجاب نے 68 افراد پر 36 کروڑ 40 لاکھ ، 2020 میں 119 افراد پر 82 کروڑ 50 لاکھ جب کہ 2021 میں 169 افراد اور کمپنیوں کے ذمہ ایک ارب 57 کروڑ 10 لاکھ روپے کا قرض معاف کیا۔

عمران نے فارن فنڈنگ کیس 8 برس تک کیسے لٹکا کر رکھا؟

تحریک انصاف کی حکومت کے دوران نیشنل بینک نے 179 افراد اور کمپنیوں پر واجب الادا 75 کروڑ 50 لاکھ روپے کا قرض معاف کیا۔ نیشنل بینک نے 2018 میں 18 قرض داروں پر واجب الادا 20 کروڑ 30 لاکھ روپے، 2019 میں 21 مقروض افراد اور اداروں کے ذمہ 3 کروڑ 10 لاکھ روپے، 2020 میں 70 کے قریب قرض داروں کے 5 کروڑ 80 لاکھ روپے اور 2021 میں 70 افراد اور کمپنیوں پر 49 کروڑ 30 لاکھ روپے کاقرض معاف کیا۔

تحریک انصاف کے 4 سالہ دور حکومت میں زرعی ترقیاتی بینک نے 138 اشخاص اور کمپنیوں پر چڑھا 35 کروڑ 90 لاکھ روپے کا قرض معاف کیا۔ 2018 میں اس بینک نے 29 کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ اس سے 50 قرض داروں کو فائدہ ہوا، 2019 میں 88 مقروض اداروں اور انفرادی قرض داروں کے ذمہ 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کا قرض معاف کیا گیا۔ 2020 میں 3 قرض داروں کے 20 لاکھ اور 2021 میں بھی 2 قرض داروں کے 20 لاکھ روپے معاف کئے گئے۔

بینک آف خیبر نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران مجموعی طور پر 95 قرض داروں کے ذمہ ایک ارب 10 کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ بینک آف خیبر نے تحریک انصاف کے 4 سالہ دور حکومت میں مجموعی طور پر 21 افراد اور کمپنیوں کے ذمے 27 کروڑ 20 لاکھ افراد کا قرض معاف کیا۔ 2021 میں بینک آف خیبر نے 5 کروڑ 90 لاکھ روپے کا قرض معاف کیا، اس سے 59 قرض دار مستفید ہوئے، 2020 میں 5 مقروض اداروں اور افراد کے ذمہ 7 کروڑ روپے، 2019 میں 2 مقروضوں کے ذمہ ایک کروڑ روپے اور 2018 میں 4 افراد اور کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا 13 کروڑ 30 لاکھ روپے معاف کئے گئے۔

2013 میں ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں خیبر پختون خوا میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف برسر اقتدار آئی تھی۔ 2013 سے 2017 کے دوران بینک آف خیبر نے مجموعی طور پر 61 کروڑ 50 لاکھ روپے کے قرض معاف کرکے 50 افراد اور کمپنیوں کو فائدہ دیا۔ 2013 میں بینک آف خیبر نے 12 قرض داروں کے ذمہ 21 کروڑ 90 لاکھ روپے معاف کردیئے، 2014 میں 7 کروڑ 70 لاکھ روپے کا قرض معاف کرکے 11 قرض داروں اور 2015 میں 16 کروڑ 10 لاکھ روپے معاف کرکے 11 قرض داروں کو فائدہ دیا گیا۔ بینک آف خیبر نے 2016 میں 40 لاکھ جب کہ 2017 میں 15 کروڑ 40 لاکھ روپے کا قرض معاف کیا جس سے بالترتیب 7 اور 9 قرض دار مستفید ہوئے۔

Related Articles

Back to top button