کیا پاکستان TTP کے دباؤ پر فاٹا کا انضمام واپس لے گا؟

افغانستان کی طالبان حکومت کے توسط سے پاکستانی حکام اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین کابل میں جاری مذاکرات کے دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے پیش کیا جانے والا بنیادی اور اختلافی مطالبہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی سابقہ حیثیت بحال کی جائے یعنی خیبر پختونخوا کے ساتھ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ واپس لے کر ان علاقوں کو پھر سے فاٹا یعنی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا سٹیٹس بحال کیا جائے۔

اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ طالبان کا مطالبہ ہے کہ فوج ان قبائلی علاقوں سے واپس چلی جائے یعنی ان علاقوں میں جتنی فوجی چوکیاں ہیں انھیں ختم کیا جائے اور انھیں رہنے کے لیے محفوظ علاقہ دیا جائے۔
طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کا خاتمہ ہی بنیادی موضوع ہے جس پر بحث ہو رہی ہے۔ طالبان ذرائع نے بتایا کہ دیگر مطالبات میں مالا کنڈ ڈویژن بشمول کوہستان اور ہزارہ میں نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ، ملک بھر میں طالبان پر قائم مقدمات کا خاتمہ، حکومت کی جانب سے کیے گئے نقصان کا ازالہ اور امریکی ڈرون حملوں کی اجازت نہ دینا شامل ہیں۔

بلوچ قوم پرست چینیوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟

دوسری جانب حکومت کی جانب سے جو مطالبات سامنے آئے ہیں ان میں پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنا، اسلحے کے لیے لائسنس کا حصول، بغیر لائسنس کے اسلحے کی واپسی اور تحریک کو تحلیل کرنا شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے پاکستانی طالبان سے داعش کے ساتھ تعلقات نہ رکھنے اور جنگ بندی جاری رکھنے کے مطالبے بھی کیے ہیں۔ طالبان ذرائع نے بتایا کہ ٹی ٹی پی نے قبائلی علاقوں سے فوجی چوکیاں ختم کرنے کے لیے آٹھ ماہ کا وقت دیا ہے، جبکہ قیدیوں کی رہائی کے لیے سہ فریقی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دو اہم طالبان قیدیوں مسلم خان اور محمود خان کو رہا کر کے افغان طالبان کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جنہیں مذاکرات کی کامیابی کے بعد ٹی ٹی پی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

لیکن طالبان ذرائع نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کا خاتمہ طالبان کا بنیادی مطالبہ ہے جس پر عمل درآمد ضرور کروایا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ تحریک طالبان فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ واپس لینے پر بضد کیوں ہے؟ یاد رہے کہ فاٹا کو سال 2018 میں 31 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا۔ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں پہلی بار سال 2019 میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ تحریک طالبان کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے مطالبات میں قبائل کی آزاد حیثیت کو برقرار رکھنا ایک اہم مطالبہ ہے اور اسی آزاد حیثیت کی بدولت تین سپر پاورز کو شکست ہوئی۔ پریس ریلیز کے مطابق عالمی کفری ایجنڈا تھا کہ قبائل کی آزاد حیثیت ختم ہو جائے اور قبائل میں مغربی جمہوری نظام اور کلچر آ جائے تاکہ ان کی جہادی اور دینی اقدار ختم ہو جائیں اور پھر کبھی بھی کفری یلغار کے مقابلے میں یہ جہادی مرکز نہ رہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آئینی طور پر ایسا کرنا ممکن ہے؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں آئینی ترمیم کے ذریعے ضم کیا گیا اور صرف آئینی طور پر ہی فاٹا کی پرانی حیثیت کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ناممکن نہیں لیکن اس کے لئے قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی اور موجودہ سیاسی فضا میں ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی ہو۔ انکا کہنا ہے کہ جب قبائلی اضلاع کو آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کیا جا رہا تھا تو حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا تھا اور ایک کٹھن مرحلے کے بعد یہ آئینی ترمیم کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ آئینی ترمیم سے پہلے قبائلی اضلاع میں 1901 کا “فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن” جسے عرف عام میں “ایف سی آر” کہا جاتا تھا کا قانون نافذ تھا۔ قبائلی اضلاع وفاقی حکومت کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ 31 وی آئینی ترمیم کے ذریعے ایف سی آر کے نظام کا خاتمہ ہوا۔ آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع میں پولیس نظام نافذ ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر عدالتیں بھی قائم کی گئی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے فاٹا کے انضمام کو واپس لینے کا جو مطالبہ سامنے آیا ہے وہ حیران کن ہے کیونکہ اگر موجودہ نظام بقول طالبان کے مغربی جمہوریت کا عکاس ہے تو پھر ایف سی آر بھی تو انگریزوں کا قانون ہے۔ اگر فاٹا انضمام کا خاتمہ ہوتا ہے تو پھر ایف سی آر کا قانون ہی لاگو ہونا ہے اور وہ بھی تو انگریزوں کا نافذ کردہ ایک کالا قانون ہے۔ انکا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اگر طالبان کا یہ مطالبہ پورا کرتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ جیسے افغانستان طالبان کے حوالے کیا گیا ایسے ہی پاکستان کا ایک حصہ طالبان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یوں افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد اگر پاکستانی طالبان کو فاٹا کے علاقے دے دیے جاتے ہیں تو یہ امارات اسلامی کا بڑا میدان بن جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس سے ناصرف ان کو مالی اور انتظامی استحکام ملے گا بلکہ اس کے ساتھ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لئے علاقائی ممالک سمیت پاکستان پر دباؤ بڑھائیں گے جو اس پورے خطے کے لئے ایک خطرہ ہوگا۔

Related Articles

Back to top button