کیا پرویز الٰہٰی اور عمران خان اکٹھے چل پائیں گے؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنائے جانے کے بعد ان کے اور کپتان کے مابین صوبائی کابینہ کی تشکیل پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جس کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان اور چوہدری پرویز الہٰی اکٹھے چل پائیں گے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی اپنی قاف لیگ کے 10 ممبران اسمبلی کو وزارتیں دینا چاہتے ہیں لیکن عمران خان نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ 10 سیٹوں کے بدلے ان کو پہلے ہی وزارت اعلیٰ مل چکی ہے اور اب مزید کوئی وزارت نہیں ملے گی۔
تحریک انصاف سپریم کورٹ کی مدد سے پنجاب کا اقتدار واپس لینے میں کامیاب تو ہو گئی ہے لیکن اب صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے چونکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عمران خان کے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار نہیں بلکہ قاف لیگ کے چوہدری پرویزالہٰی ہیں۔ یہ وہی پرویزالٰہٰی ہیں جنہیں ماضی میں عمران عوامی جلسوں میں پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا کرتے تھے۔ عمران کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد جب پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تو وہ پانچ سال تک اسے بنی گالا میں بیٹھ کر چلاتے رہے اور بڑے حکومتی فیصلے بھی وہیں ہوتے تھے۔خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتیں پشاور کے فیصلے بنی گالہ میں ہونے پر احتجاج بھی کرتی رہی ہیں، تب کے وزیراعلٰیٰ پرویز خٹک اگرچہ بعض اوقات عمران کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہے لیکن مجموعی طور پر کپتان کی ہی مرضی چلتی رہی۔
2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان نے بشریٰ بی بی کے مشورے پر فرح گوگی کے شوہر احسن جمیل گجر کے دوست عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا تو جس تاثر نے زور پکڑا وہ یہی تھا کہ عمران وفاق میں بیٹھ کر پنجاب حکومت چلانا چاہتے ہیں۔ چار سال کے اقتدار میں پنجاب میں جب بھی فیصلہ سازی کا وقت آیا تو بزدار نے عمران کی طرف دیکھا اور عموماً فیصلے بھی خان صاحب ہی کرتے رہے۔ بزدار حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آنے والے سکینڈلز بھی اس بات کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں کہ عثمان بزدار کا کردار محدود تھا۔
اب پنجاب اسمبلی میں 10 نشستیں رکھنے والے پرویزالہٰی وزیراعلیٰ بن چکے ہیں تو صورت حال بڑی دلچسپ ہے۔ تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ پنجاب میں ان کی حکومت ہے جبکہ مسلم لیگ ق سمجھتی ہے کہ ان کی حکومت ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پنجاب کی سیاست کی باریکیوں کو سمجھنے والے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’ق لیگ پالیسی، احکامات اور اقدامات میں کلی آزاد ہوگی جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی حکومت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے نام پر یہ پرویز الہٰی کی حکومت ہے اور وہ حکومت چلانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ پرویز الٰہٰی زیادہ دباؤ نہیں لیں گے۔ ویسے بھی اپنے انتخاب کے باوجود ان کی بارگینگ پوزیشن بڑھی ہے، اسمبلی توڑنے جیسے اقدام کا مرحلہ آیا تو ن لیگ ان کے پیچھے کھڑی ہو سکتی ہے اور اسی لیے وہ ن لیگ کو زیادہ ٹارگٹ نہیں کریں گے۔ ویسے بھی ان کے پاس شجاعت حسین کی بدولت پی ڈی ایم کا وزیراعلیٰ بننے کی آپشن موجود ہے، یوں وہ اپنے بڑے بھائی کو بھی منا لیں گے اور پی ڈی ایم کی قیادت کو بھی راضی کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویزالہٰی کے وزیراعلیٰ بنتے ہی عمران خان کے ساتھ ان کے اختلافات کا آغاز ہو چکا ہے، پرویز الٰہٰی اس سے پہلے پنجاب کے مضبوط وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، وہ دباؤ ایک خاص حد تک لیں گے اور یقیناً عثمان بزدار ثابت نہیں ہوں گے۔ ان کے پیش نظر تحریک انصاف کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ وہ ق لیگ کو مضبوط کرتے ہوئے اگلے انتخاب میں جانا چاہیں گے۔

اینکر پرسن اقرارالحسن کا دعا زہرا کے اغوا ہونے کا دعویٰ

اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جماعت کے دس اراکین اسمبلی کو وزارتیں دلوائیں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اگر پنجاب اسمبلی توڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تو پرویز الہٰی تمام تر وعدوں کے باوجود ایسا کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگلے الیکشن کے بعد عمران خان انہیں کسی بھی صورت پنجاب کی وزارت اعلیٰ نہیں دیں گے، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پرویزالٰہٰی کبھی عثمان بزدار نہیں بنیں گے کیونکہ ان کا سیاسی قد کاٹھ بھی انھیں بزدار بننے کی اجازت نہیں دیتا۔
ان کا کہنا ہے کہ ق لیگ کو وزارتیں دینا عمران کی بھی مجبوری ہے کیونکہ اگر پرویزالہٰی کے 10 لوگ ناراض ہو کر دوسری طرف چلے گئے تو پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ ویسے بھی پرویز الٰہٰی جانتے ہیں کہ عمران کو کیسے ہینڈل کرنا ہے اور پنجاب خود چلانا ہے اگر عمران وزیراعظم ہوتے تو صورت حال مختلف ہوتی لیکن اس وقت پرویز الٰہٰی وزیراعلیٰ ہیں اس لیے اس ماڈل میں انھیں عثمان بزدار نہیں بنایا جا سکتا۔

Related Articles

Back to top button