کیا پرویز الٰہی اپنی وزارت اعلیٰ بچا پائیں گے؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی متنازع بینچ کی جانب سے حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کئے جانے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ دس ووٹوں والے نئے وزیر اعلیٰ اپنے عہدے کو بچانے کی جنگ جیت پائیں گے یا ہار جائیں گے۔ سیاسی تجزیہ کار تین مہینے سے زائد عرصہ جاری رہنے والی عدالتی جنگ کے بعد پرویزالٰہی کے وزیر اعلیٰ بننے کا کریڈٹ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے فیض حمید دھڑے کو دیتے ہیں جس نے آخری لمحات میں پرویز کو پی ڈی ایم اتحاد کا وزیر اعلیٰ بننے سے روک دیا تھا اور عمران خان کے ساتھ ہاتھ ملانے پر آمادہ کر لیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنوا کر دراصل اس دھڑے نے نہ صرف اپنا وعدہ پورا کیا ہے بلکہ خود کو اسٹیبلشمنٹ کے دوسرے دھڑے سے زیادہ طاقتور اور بااثر ثابت کردیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کو حمزہ شہباز کی جگہ وزیراعلیٰ بنوانے کا بنیادی مقصد عمران خان کو مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ وفاقی حکومت کو گرا کر فوری نئے انتخابات کروانے کا مطالبہ پورا کروا سکیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر مرکز میں موجود وفاقی حکومت کی پنجاب میں حکومت نہ ہو تو اس کے لیے چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پنجاب میں حکومت حاصل کرنے کے بعد عمران خان نے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ فوری طور پر قومی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ ہموار کیا جائے۔ یاد رہے کہ 9 اپریل کو ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد عمران خان اور ان کے ساتھی اراکین قومی اسمبلی نے استعفے دے دیے تھے جن کا بنیادی مقصد قومی اسمبلی کو ختم کروانا اور نئے انتخابات کا راستہ ہموار کرنا تھا۔ دوسری جانب شہباز شریف کی حکومت ابھی تک نئے الیکشن کرانے پر آمادہ نہیں ہے لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ عمران خان مستقبل قریب میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے تا کہ امن و امان کی صورتحال پیدا کرکے حکومت کو قومی اسمبلی توڑنے اور نئے الیکشن کا اعلان کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

دوسری جانب لندن سے ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہونے کے بعد نون لیگ کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ قومی اسمبلی توڑ کر نئے الیکشن کی جانب جایا جائے۔ لیکن شہباز شریف حکومت کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے دبائو پر پٹرول مہنگا کرنے جیسے غیر مقبول اقدامات کے فوراً بعد الیکشن کا مطلب اپنا دھڑن تختہ کروانا ہوگا جیسا کہ پنجاب میں 20 سیٹوں کے ضمنی الیکشن میں ہوا ہے۔ اس لیے حکومت کی یہی کوشش ہوگی کہ ابھی وقت گزارا جائے اور ملکی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کی جائے تاکہ جب صورت حال بہتر ہو تب الیکشن کا اعلان کر دیا جائے۔

بالآخر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بے گناہ ثابت ہو گیا

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ بنائے جانے کے باوجود پرویز الٰہی کے لیے وزارت اعلیٰ کانٹوں کا تاج ثابت ہو گی اور وہ زیادہ عرصہ اس پر برقرار نہیں رہ پائیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اپنی جماعت کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کا امکان ہے جس کی بنیاد پر وہ ڈی سیٹ ہو سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے پرویز الٰہی کو ووٹ دے کر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی۔ اس طرح ان 10 اراکین کے ووٹ بھی کاؤنٹنگ سے مائنس ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان نے بطور پی ٹی آئی سربراہ حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے اپنے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 63 اے پر دیے گئے فیصلے کی روشنی میں ان 25 اراکین کو ڈی سیٹ کردیا تھا اور انکے ووٹ بھی مائنس کر دیے تھے جسکے بعد حمزہ کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ چنانچہ اب اگر اسی اصول کے تحت الیکشن کمیشن قاف لیگ کے دس اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کرتا ہے تو پرویز الٰہی کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ختم ہو جائے گی اور انکے ووٹ 186 سے 176 پر آ جائیں گے جبکہ حمزہ شہباز 179 ووٹوں کیساتھ دوبارہ وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں چند ووٹوں کی اکثریت رکھنے والے پرویزالٰہی کے لیے وزارت اعلیٰ چلانا آسان نہیں ہو گا اور انہیں مسلم لیگ نون کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول نون لیگ کی حامی بیوروکریسی سے کام کیسے لینا ہے؟ یہ بھی پرویز الٰہی کے لیے ایک چیلنج ہو گا۔ ایک اور مسئلہ یہ ہو گا کہ پرویز الٰہی چاہیں گے انکی حکومت طویل عرصہ چلے جبکہ دوسری جانب جبکہ عمران خان جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں۔ اسکے علاوہ پنجاب میں قاف لیگ کے پاس صرف دس نشستیں ہیں جبکہ اکثریتی سیٹوں کی مالک پی ٹی آئی اراکین اچھی وزارتیں، اچھے عہدے، اچھی مراعات اور صوبے پر اپنا موثر کنٹرول چاہیں گے جبکہ اپنی طبیعت کے عین مطابق چوہدری پرویز الٰہی صوبے پر اپنی گرفت رکھنا چاہیں گے۔ ایسی صورت میں دونوں اتحادی پارٹیوں میں اختلافات پیدا نہ ہونے دینا بھی پرویز الٰہی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button