ماہی گیروں کا ’گھوڑا مچھلی‘ پکڑنا ٹائم لائنز پر وائرل

سندھ کے ساحلی شہر کراچی میں ماہی گیروں نے ’گھوڑا مچھلی‘ پکڑی تو یہ مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔ 3ہ نومبر کو یہ اطلاع سامنے آئی کہ کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں کے جال میں 10 تا 12 فٹ ’گھوڑا مچھلی‘ پھنسی ہے۔ گھوڑے کی طرح دکھائی دینے کے باعث اس نام سے پکارے جانے والی مچھلی مقامی ماہی گیر محمد صدیق گڈانی اور ان کی ٹیم کے ہاتھ تب لگی جب وہ مچھلیوں کے شکار کے لیے سمندر میں موجود تھے۔

’گھوڑا مچھلی‘ پکڑنے والے ماہی گیروں نے دعوی کیا کہ اس سے قبل اتنی بڑی گھوڑا مچھلی شکار کے دوران کبھی نہیں ملی۔ یہ اطلاع بھی شیئر کی گئی کہ شکار کرنے والے ماہی گیروں نے مچھلی کو دوبارہ سمندر میں پھینک دیا۔

مختلف ٹویپس نے دعویٰ کیا کہ گھوڑا مچھلی معدومیت سے دوچار ہے اور اس کے شکار پر پابندی ہے تاہم اس بات کی تصدیق کسی ذمہ دار فرد کی جانب سے نہیں کی گئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر معظم خان کے مطابق ’گھوڑا مچھلی پاکستانی سمندروں میں وافرمقدار میں ملتی ہے۔ گزشتہ برس یہ مچھلی لگ بھگ 2200 ٹن کی مقدار میں شکار کی گئی۔‘ مقامی ماہی گیروں کے ہاں گھوڑا مچھلی پکاری جانے والی فش کے بارے میں معظم خان نے بتایا کہ ’اسے انڈو پیسفیک سیل فش کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس مچھلی کا گوشت بہت زیادہ رغبت سے نہیں کھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے شکار کے بعد ایران سمگل کردیا جاتا ہے جہاں اس کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔

سمندری گھورا مچھلی کا جسم لمبا ہوتا ہے اور اس کا منہ گھوڑے کی طرح ہوتا ہے۔ اس مچھلی کی اوسط عمر 9 سال تک ہوتی ہے۔

Related Articles

Back to top button