پانی پت کی جنگ کیلئے ’’بھنگیوں کی توپ‘‘ کیسے تیار ہوئی؟


افغان حکمران احمد شاہ ابدالی نے 14 جنوری 1761 کو پانی پت کی مشہور جنگ لڑنے کیلئے خصوصی طور پر دو بھاری بھرکم توپیں تیار کروائیں، جن کے لیے لاہور کے ہندو باشندوں سے تانبے کے برتن بطور جزیہ وصول کیے گئے۔ پانی پت کی جنگ کے لیے تیار ہونے والی دونوں زمزمہ توپوں میں سے ایک توپ کو پہلی بار 14 جنوری 1761 کو پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹا فوج کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔
آج ہم آپ کو ان زمزمہ توپوں کے وجود میں آنے کی کہانی سناتے ہیں۔ دراصل تب لاہور کے ہندو باسیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ جزیہ ادا کریں، لاہور کے صوبیدار شاہ ولی خان کے سپاہی ہر ہندو کے گھر سے تانبے یا پیتل کے بنے ہوئے بڑے برتن جمع کرتے، جب کافی دھات جمع ہو گئی تو لاہور کے ایک ہنرمند، شاہ نذیر نے اس کی ڈھلائی کر کے اس سے دو توپیں تیار کیں۔ پھر انہیں ’زمزمہ‘ کا نام دیا گیا اور 14 جنوری 1761 کو پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹا فوج کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس جنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ فوجی مارے گئے تھے، جن میں سے 40 ہزار کو جنگ کے بعد دو بڑی زمزمہ توپوں سے اُڑا دیا گیا تھا۔ اس ’فتح‘ کے بعد احمد شاہ ابدالی لاہور کے راستے کابل واپس چلا گیا، وہ دونوں زمزمہ توپوں کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا مگر صرف ایک ہی لے جا سکا اور وہ بھی کابل جاتے ہوئے قزن کے باعث دریائے چناب میں گر گئی۔
دوسری زمزمہ توپ جسے ابھی بہت کچھ دیکھنا تھا لاہور کے نئے صوبیدار خواجہ عبید کی دیکھ بھال میں چھوڑ دی گئی، شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کے 1707 میں اس دنیا سے جانے کے بعد نااہل مغل بادشاہوں پر افغان اور ایرانی حملہ آوروں کی یلغاریں رہیں، دوسری طرف پنجاب کے دیہی علاقوں میں، سکھوں نے مغلوں کی گرفت کمزور ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد گروہ یا جتھے بنا لیے تھے۔1716 میں قائم ہونے والے ایک جتھے کا نام ’جتھا بھنگیاں‘ تھا، بھنگ کی لت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سکھوں کی فوج دل خالصہ کے اس جتھے کو بھنگی کا نام دیا گیا، بھیما سنگھ کی 1746 میں وفات کے بعد اُن کے بھتیجے ہری سنگھ اُن کے جانشین ہوئے، جنہون نے لاہور اور زمزمہ توپ پر قبضہ کر کے اسکا نام بدل کر ’بھنگیاں والی توپ‘ یا ’بھنگیاں دی توپ‘ رکھ دیا۔
1802 میں جب مہاراجا رنجیت سنگھ نے امرتسر پر قبضہ کیا تو توپ اُن کے ہاتھ لگ گئی، بھنگیوں نے کانھیوں اور رام گڑھیوں کے خلاف دینا نگر کی لڑائی میں یہ توپ استعمال کی، رنجیت سنگھ نے اسے ڈسکہ، قصور، سوجان پور، وزیر آباد اور ملتان کی مہمات میں بھر پور استعمال کیا، ان کارروائیوں میں توپ کو شدید نقصان پہنچا اور یہ مزید استعمال کے لیے نامناسب قرار دے دی گئی، اسی لیے اسے واپس لاہور لانا پڑا، اسے لاہور کے دلی دروازے کے باہر رکھا گیا، جہاں یہ 1860 تک موجود رہی، 1870 میں اسے لاہور میوزیم کے دروازے پر ایک نئی پناہ گاہ ملی۔
برطانوی دور میں اس توپ کو پہلے دلی دروازے اور بعد میں عجائب گھر لاہور کے سامنے رکھ دیا گیا، انارکلی بازار کے رخ پر سنگِ مرمر کے چبوترے پر یہ 265 سال پرانی توپ ’کمز گن‘ بھی کہلائی، یہ نام برطانوی مصنف رڈیارڈ کپلنگ کے ناول ‘کِم’ کی نسبت سے دیا گیا۔ ساڑھے نو انچ دہانے کی اس سوا چودہ فٹ لمبی توپ کو مقامی لوگ زیادہ تر ’بھنگیوں کی توپ‘ ہی کہتے ہیں، توپ کا دہانا گویا اب بھی پانی پت کے رُخ پر ہے مگر اب خون بہانا ترک ہو چکا ہے، کبوتر اب یہاں دانا دنکا چگتے اور امن سے اڑتے پھرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button