ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت

مالٹا میں گریٹ پلین ڈائنوسار میوزیم کےماہرین نے ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا لیکن یہ ٹکر مارنے کی بجائے ٹانگیں اور ہاتھ چلانے کا بڑا ماہر تھا۔

رپورٹس کے مطابق ماہرین کے خیال ہے کہ جس طرح آج کینگرو مکے اور لاتیں چلاتے ہیں عین اسی طرح یہ ڈائنوسار بھی لڑنے کا ماہر تھا،جس کی تفصیلات دو نومبر کو شائع ہوئی ہیں۔ کریٹے شیئس عہد سے تعلق رکھنے والا ڈائنوسار دو ٹانگوں پر چلتا تھا جسے ’پیکی سے فیلو سارس‘ کا نام دیا گیا ہے اور اپنے دشمن پر طاقتور لاتیں چلاتا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ خوش قسمتی سے ’پیکی سے فیلو سارس‘ کا بہت ہی اچھا اور قدرے مکمل ڈھانچہ ملا ہے جس کی بنا پر تھری ڈی ماڈل بنایا گیا ہے۔ ماہرین نے غور کیا تو انکشاف ہوا کہ اس کے خدوخال بہت حد تک بڑے کینگرو سے مشابہہ ہیں۔ اگرچہ یہ ڈائنوسار اپنی دم کو بطور کوڑا استعمال کرتا تھا لیکن ساھ ہی کینگرو کی طرح مکے برسانے اور لات مارنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ یہ اپنے تربوز جیسے بڑے سر سے بھی ٹکر مار سکتا تھا لیکن اسے ہاتھ پیر چلانے میں آسانی ہوتی تھی۔ دوسری جانب میامی میں فروسٹ سائنس میوزیئم سے واستہ ماہر کیری وڈروف نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا غالب امکان ہے کہ یہ ڈائنوسار جھگڑالو تھا۔

Related Articles

Back to top button