برازیل کے جنگل میں تنہا زندگی گزارنے والا قبائلی چل بسا

دنیا بھر میں ’’مین آف دی ہول‘‘ کے نام سے مشہور برازیل کے جنگلوں میں تن تنہا رہنے والا شخص بالآخر 60 برس کو عمر میں زندگی کی بازی ہار گیا ۔ 1998 میں اس شخص کو اتفاقاً جنگل میں دیکھا گیا تھا۔ برازیلی حکام کے مطابق امیزون کے جنگلوں میں تن تنہا رہنے والے اس مقامی گروپ کے آخری قبائلی کا بھی انتقال ہو گیا ہے اور اس کی لاش اس کی جھونپڑی کے قریب سے ملی ہے۔ اپنی زندگی میں کبھی جدید دنیا سے رابطے میں نہ آنے والے اس شخص کا نام کسی کو معلوم نہیں، لیکن یہ طے ہے کہ وہ گزشتہ 26 سالوں سے مکمل تنہائی میں رہ رہا تھا، اسے ’مین آف دی ہول‘ کے نام سے جانا جاتا تھا کیونکہ اس نے امیزون کے جنگلوں میں گہرے گڑھے کھود رکھے تھے، جن میں وہ جانوروں کو پھنساتا اور ان کا شکار کرتا تھا۔ اسکے علاوہ زمین میں بنائے گئے کچھ گڑھے بظاہر اس کے چھپنے کی جگہیں تھیں۔

اس تنہا شخص کی لاش 23 اگست 2022 کو ایک بھوسے سے بنی ہوئی جھونپڑی کے باہر جھولے سے ملی تھی، اس کے جسم پر تشدد کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ لاش کے جائزے سے لگتا ہے کہ جیسے وہ فطری موت مرا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکے خاندان کے باقی چھ افراد 1995 میں ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے، یہ خاندان بولیویا کی سرحد سے متصل ریاست رونڈونیا کے علاقے تنارو میں رہتا تھا، لیکن نہ اس کے قبیلے کے نام کا کسی کو پتہ ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ یہ لوگ کون سی زبان بولتے تھے۔ اس قبیلے کے زیادہ تر لوگ 1970 کی دہائی میں تب مار دیئے گئے تھے جب مویشی پالنے والے چرواہوں نے ان کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کیا، حکام کے مطابق اس کے علاقے میں کوئی داخل نہیں ہوا اور اس کی جھونپڑی میں بھی کسی قسم کی مداخلت کے نشانات نہیں تھے، تاہم پولیس پھر بھی اس کا پوسٹ مارٹم کرے گی۔

عمران خطرناک ہونے کی دھمکی پر عمل کب کریں گے؟

برازیل کے آئین کے مطابق مقامی لوگوں کا اپنی روایتی زمین پر حق ہے، لہٰذا مشہور ہے کہ جو اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، وہ انھیں مار دیتے ہیں، برازیل کے مقامی لوگوں کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ایجنسی فونائی 1996 سے ’مین ان دی ہول‘ کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی، 2018 میں فونائی نے اتفاقاً جنگل میں اس شخص کی ایک ویڈیو بنا لی تھی۔ اس وقت فونائی کا کہنا تھا کہ ویڈیو نشر کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ یہ شخص زندہ ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی کو نہ جانے دیا جائے، اس ویڈیو فوٹیج میں وہ شخص کلہاڑی نما کسی چیز سے جنگل میں ایک درخت کو کاٹ رہا تھا۔

اس کے بعد اس کو کبھی نہیں دیکھا گیا، لیکن فونائی کے ایجنٹوں کو اس کی جھونپڑی کا پتہ تھا جو بھوسے سے بنائی گئی تھی، اس کے علاوہ وہ ان گڑھوں کے متعلق بھی جانتے تھے جو یہ شخص بناتا تھا، ان میں سے کچھ کی تہہ میں نوکیلی چیزیں لگائی گئی تھیں تاکہ اگر جانور اس میں گریں تو وہ قابو میں آ جائیں، جبکہ کچھ گڑھوں میں وہ خود تب چھپتا تھا جب کوئی باہر کا آدمی اس کے علاقے میں آتا تھا، اس کی چھونپڑی اور دوسری جگہوں پر ملنے والی چیزوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اناج کی خاطر مکئی اُگاتا تھا اور پپیتا اور کیلے کھاتا تھا۔

مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک پریشر گروپ سروائیول انٹرنیشنل کے مطابق برازیل میں تقریباً 240 مقامی قبیلے ہیں، جن میں سے کئی ایک کو کان کنوں، درخت کاٹنے والوں اور کسانوں سے خطرہ ہے جو ان کے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button