الیکشن 2024 کے دوران کونسی خواتین انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی تشکیل پاتی ہے، کل 336 نشستوں میں سے 266 پر براہ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 60 خواتین اور 10 غیر مسلم پاکستانیوں کو مخصوص نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے۔الیکشن ایکٹ کے تحت خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے ہر سیاسی جماعت اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جمع کراتی ہے، ترجیحی فہرست میں شامل تمام خواتین امیدواران اپنے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرواتی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی نتائج کی روشنی میں سیاسی جماعتوں کی جیتنے والی نشستوں کے تناسب سے ہر سیاسی جماعت کو مخصوص نشستوں پر کامیاب خواتین ارکان کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیتا ہے۔مثال کے طور پر 266 نشستوں پر اگر 60 خواتین کو منتخب کرنا ہو تو کم و بیش ہر ساڑھے چار نشستوں کے بعد خاتون کی ایک نشست سیاسی جماعت کے حصے میں آئے گی۔ یعنی کسی بھی صوبے سے جو جماعت قومی اسمبلی کی نو براہ راست نشستیں جیتے گی اسے خواتین کی دو مخصوص نشستیں بھی ملیں گی اور یوں ان کی تعداد 11 ہو جائے گی۔ اس تناسب سے جو سیاسی جماعت جتنی زیادہ نشستیں حاصل کرے گی انہیں خواتین کی مخصوص نشستیں بھی اسی حساب سے حاصل ہوں گی۔

تاہم یہ تقسیم صوبوں میں مخصوص کی گئی نشستوں کی تعداد کے حساب سے ہی ہوگی۔ یعنی بلوچستان سے صرف چار خواتین مخصوص نشستوں پر قومی اسمبلی پہنچ سکتی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا سے 10 پنجاب سے 32 اور سندھ سے 14 خواتین قومی اسمبلی کی رکن بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں پنجاب سے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے زور لگاتی ہیں۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق قومی اسمبلی کی 60 مخصوص نشستوں کے لیے 459 خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے اب تک سامنے انے والی ترجیحی فہرستوں کے مطابق مسلم لیگ ن پنجاب سے 20، پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب سے 6, سندھ سے 13، کے پی سے 7, ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ سے چھ اور استحکام پاکستان پارٹی ، جمعیت علماء اسلام پاکستان، جماعت اسلامی اور اے این پی نے کے پی سے چار چار خواتین، استحکام پاکستان پارٹی نے پنجاب سے چار جبکہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین نے ایک خاتون پر مشتمل فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہے۔ انتخابی نشان واپس ہو جانے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کی خواتین امیدواران کی ترجیحی فہرست کو الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروایا گیا تاہم ان کی خواتین امیدواران نے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔ عدالت کی جانب سے ریلیف ملنے کی صورت میں ان کی فہرست بھی جمع کروائی جائے گی۔

مسلم لیگ ن نے پنجاب سے قومی اسمبلی کے لیے 20 خواتین کی ترجیحی فہرست دی ہے۔ طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، مریم اورنگزیب اور نزہت صادق فہرست میں شامل ہیں۔ مسرت آصف خواجہ، سیما جیلانی، شزہ خواجہ، روبینہ خورشید عالم، وجیہہ قمر، زیب جعفر، کرن ڈار، انوشہ رحمان، طاہرہ ودود فاطمی بھی مسلم لیگ ن کی ترجیحی فہرست میں شامل ہیں، آسیہ ناز تنولی، صبا صادق، فرخ ناز اکبر، شہناز سلیم، منیبہ اقبال، عفت نعیم، تمکین اختر نیازی کا نام بھی الیکشن کمیشن کو دی گئی ترجیحی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

طاہرہ اورنگزیب کو 2008 کے عام انتخابات میں پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ن لیگ کی جانب سے رکن قومی اسمبلی منتخب کیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں وہ دوبارہ پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ن لیگ کی جانب سے رکن قومی اسمبلی بنیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں بھی انہیں پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ن لیگ کی امیدوار کی حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب کر لیا گیا۔ اب بھی پہلی ترجیح ہونے کے باعث وہ مسلسل چوتھی بار خاتون رکن اسمبلی منتخب ہوں گی۔ 1999 میں پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد جب راولپنڈی میں نواز شریف کے قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے اور مشرف کیمپ میں شامل ہو گئے تو اس وقت طاہرہ اورنگزیب اور ان کی بہن سینٹر نجمہ حمید کا گھر بیگم کلثوم نواز کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا تھا۔ اسی بنا پر طاہرہ اورنگزیب اور ان کے خاندان کو مسلم لیگ ن ہمیشہ سے ترجیح  دیتی آئی ہے۔

شائستہ پرویز ملک ن لیگ ضلع لاہور کے صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کی اہلیہ ہے۔ 2013 میں وہ مخصوص نشست پر پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں آئیں۔ 2018 میں وہ دوسری مرتبہ بھی قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2021 میں ان کے شوہر کی وفات کے باعث لاہور کا حلقہ این اے 133 خالی ہوا تو شائستہ پرویز نے پہلی بار براہ راست انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچیں۔مریم اورنگزیب مسلم لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب کی بیٹی ہیں اور پہلی مرتبہ 2013 میں مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔ پارلیمانی سیکریٹری داخلہ ہونے کی وجہ سے انہیں قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران کافی پذیرائی ملی۔ 2016 میں وفاقی کابینہ کا حصہ بنیں۔ بعد ازاں انہیں وفاقی وزیر اطلاعت اور نشریات بنا دیا گیا۔

2018 میں بھی وہ ن لیگ کی فہرست میں چوتھے نمبر پر تھیں۔ مسلم لیگ ن کی وفاقی سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان ہونے کی وجہ سے انہوں نے مشکل دور میں پارٹی کی بھرپور ترجمانی کی۔ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پی ڈی ایم کی حکومت تشکیل پانے کے بعد انہیں ایک بار پھر وزارت اطلاعت کا قلمدان سونپا گیا۔اب کی بار مسلم لیگ ن نے انہیں نہ صرف ترجیحی فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا ہے بلکہ پنجاب اسمبلی میں بھی انہیں مخصوص نشست پر امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر شازیہ مری کو پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔ سندھ سے مخصوص نشستوں کے لیے نفیسہ شاہ کا دوسرا اور شگفتہ جمانی کا تیسرا نمبر ہے۔

پیپلز پارٹی سیدہ شہلا رضا اور مہتاب اکبر راشدی کو بھی ایم این اے بنانے کی خواہش مند ہے ۔سندھ سے بڑی کامیابی ملی تو ناز بلوچ اور شرمیلا فاروقی بھی قومی اسمبلی کی رکن بنیں گی۔ شاہدہ رحمانی، مسرت رفیق مہیسر، ڈاکٹر شازیہ سومرو، ناز بلوچ، سحر کامران، اور شازیہ نظامانی بھی ایم این اے کی ترجیحی فہرست میں شامل ہیں۔شازیہ مری نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز رکن صوبائی اسمبلی سندھ کے طور پر کیا اور 2002 میں انہیں وزیر بجلی کے طور پر صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ وہ 2012 تک سندھ کی صوبائی اسمبلی کی رکن رہیں جس کے بعد وہ 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں۔

2018 کے عام انتخابات میں وہ حلقہ این اے -216 سانگھڑ -2 سے پی پی پی امیدوار کے طور پر دوبارہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت میں انھیں وفاقی وزیر برائے سماجی بہبود اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی نفیسہ شاہ، 2001 سے 2007 تک ضلع خیرپور کی ناظم کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ 2008 کے عام انتخابات میں وہ سندھ سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی  جانب سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ 2008 سے 2013 کے دوران وہ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی سربراہ اور ویمنز پارلیمنٹری کاکس کی جنرل سیکرٹری کے عہدوں پر فائز رہیں۔ وہ کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کی نائب صدر بھی رہیں۔ 2011 میں انہیں سندھ میں غیرت کے نام پر قتل سے متعلق تحقیقی کام پر اوکسفرڈ یونیورسٹی کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا گیا۔

 2013 کے عام انتخابات میں وہ دوسری بار خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں انہیں حلقہ این اے-208 سے پی پی پی کی امیدوار کی حیثیت سے ایک بار پھر رکن قومی اسمبلی منتخب کر لیا گیا۔

آئین میں ترمیم کے بعد سے اب تک مخصوص نشستوں پر چار مرتبہ خواتین قومی اسمبلی کا حصہ بنی ہیں۔ شگفتہ جمانی واحد خاتون ہیں جو چاروں دفعہ مسلسل مخصوص نشست پر اسمبلی پہنچیں اور اب پانچویں دفعہ پہنچ کر منفرد اعزاز اپنے نام کریں گی۔شگفتہ جمانی، 2002 کے عام انتخابات میں سندھ سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ 2008 کے عام انتخابات میں وہ دوبارہ سندھ سے خواتین کی مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئیں۔2013 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر انہیں سندھ سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب کر لیا گیا۔ 2018 کے عام انتخابات میں بھی وہ سندھ سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کی قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے آسیہ اسحاق، ڈاکٹر نگہت شکیل، سبین غوری، رعنا انصار، فرزانہ سعید اور سلیقہ سعید ایڈووکیٹ کا نام شامل ہے۔ یہ تمام خواتین پہلی بار قومی اسمبلی کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔آسیہ اسحاق ایک سیاست دان اور کاروباری خاتون ہیں۔ وہ پاک سرزمین پارٹی کی سینیئر رہنما تھیں جو اب ایم کیو ایم میں ضم ہو چکی ہے۔ اس سے قبل وہ 2014 تک پرویز مشرف کی زیر صدارت آل پاکستان مسلم لیگ میں سیکریٹری اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔سبین غوری ایم کیو ایم پاکستان کی متحرک کارکن اور اہم رہنما ہیں۔ ایم کیو ایم نے اس سے پہلے انہیں سینیٹر کا امیدوار بھی بنایا تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔ سبین غوری ایم کیو ایم ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی سربراہ ہیں۔

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی رعنا انصار 17 اگست 1966 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد میں حاصل کی اور جامعہ سندھ سے اسلامی تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ رعنا انصار 2005 سے 2010 تک حیدر آباد کے بلدیاتی نظام کا حصہ رہیں جبکہ 2013 میں ایم کیو ایم نے انہیں خواتین کی مخصوص نشست پر رکن اسمبلی منتخب کرایا۔بعد ازاں 2016 میں ایم کیو ایم کی تقسیم در تقسیم کے وقت بھی رعنا انصار پارٹی میں اتحاد کے لیے کوشاں رہیں۔2018 میں رعنا انصار ایک بار پھر خواتین کی مخصوص نشست پر رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئیں، اسی طرح 28 نومبر 2022 کو ایم کیو ایم کی پارلیمانی کمیٹی نے رعنا انصار کو پارلیمارنی لیڈر مقرر کیا تھا، یوں رعنا انصار سندھ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی خاتون پارلیمانی لیڈر بن گئیں۔

جمیعت علماء اسلام پاکستان نے قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے شاہدہ اختر علی، نعیمہ کشور، حنا بی بی اور صدف یاسمین کے نام دیے ہیں۔ شاہدہ اختر علی، 2002 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا سے خواتین کی مخصوص نشست پر جمعیت علماء اسلام (ف) کی جانب سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ 2013 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا سے خواتین کی مخصوص نشست پر جے یو آئی (ف) کی جانب سے دوبارہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2018 سے 2023 تک قومی اسمبلی کی رکن رہیں۔ وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جیسی اہم کمیٹی کی متحرک ترین رکن شمار ہوتی ہیں۔نعیمہ کشور 2010 میں مخصوص نشست پر کے پی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2013 میں انھیں قومی اسمبلی میں لایا گیا۔ 2018 میں وہ دوبارہ صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ ان کا شمار متحرک اور سب سے زیادہ حاضر رہنے والی ارکان میں ہوتا ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی نے قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے منزہ حسن اور فردوس عاشق اعوان کے نام دیے ہیں۔منزہ حسن پاکستان تحریک انصاف خواتین ونگ کی صدر تھیں۔ 2013 کے عام انتخابات میں پنجاب سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں وہ دوبارہ پنجاب سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔نو مئی کے واقعات کے بعد انھوں نے تحریک انصاف سے راہیں جدا کر لی تھیں۔

فردوس عاشق اوان نے عملی سیاست کا اغاز 2002 میں ق لیگ کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن کے حیثیت سے کیا۔ وہ پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور مقرر ہوئیں۔2008 میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سیالکوٹ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں اور یوسف رضا گیلانی کی وفاقی کابینہ میں مختلف وزارتوں کے قلمدان ان کے پاس رہے۔ وہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بھی رہیں۔اس کے بعد وہ منتخب ہو کر کسی ایوان میں تو نہیں پہنچ سکیں تاہم وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات رہیں۔تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کے بعد وہ اس وقت استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان ہیں۔

Related Articles

Back to top button