بلقیس ایدھی کے جانے سے 16 ہزار بچے یتیم کیوں ہو گئے


معروف سماجی کارکن مولانا عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس بانو ایدھی کی وفات سے وہ سولہ ہزار بچے ایک مرتبہ پھر یتیم ہو گئے جنہیں انہوں نے بطور اپنی اولاد کے گود لیا تھا۔ پاکستان کی ماں کہلانے والی بلقیس بانو نے ایدھی فاؤنڈیشن چلانے میں اپنے شوہر کا شانہ بشانہ ساتھ دیا اور عبدالستار ایدھی کی موت کے بعد بھی پوری طرح فلاحی کاموں میں مصروف رہیں حالانکہ ان کی صحت انہیں مذید کام کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ بلقیس بانو کا ایدھی فاؤنڈیشن کی کامیابی میں کتنا اہم کردار تھا اس کا اندازہ عبدالستار ایدھی کے اس اعتراف سے ہوتا ہے کہ ان کی اہلیہ کی مدد کے بغیر ان کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن چلانا ناممکن تھا۔
قیام پاکستان کے وقت 1947 میں کراچی میں پیدا ہونے والی بلقیس ایدھی ایک پروفیشنل نرس تھیں جنھیں ’پاکستان کی ماں‘ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ تھیں اور ان کی فلاحی تنظیم پورے پاکستان میں خدمات سر انجام دیتی ہے، ان میں کراچی میں ایمرجنسی سروس اور ایک ہسپتال بھی شامل ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق انھوں نے اور ان کے مرحوم شوہر ن 16 ہزار لاوارث بچے گود لیے تھے۔
بتایا جاتا یے کہ بلقیس ایدھی کی والدہ رابعہ تقسیم ہند کے بعد 19 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ بلقیس کے علاوہ ان کے دو بیٹے تھے۔ رابعہ اپنی والدہ، بہن اور بھائی کے ہمراہ رہتی تھیں۔ بلقیس کے ماموں نے تقسیم ہند کے بعد کراچی میں کاوبار شروع کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ بلقیس کی والدہ نے دوسری شادی نہیں کی اور ایک سکول میں 20 روپے ماہانہ کی نوکری کرلی۔ یہ خاندان کراچی کے علاقے کھارادر میں دو کمروں میں رہائش پذیر تھا۔ عبدالستار ایدھی کی سوانح حیات ’اے مِرر ٹو دی بلائنڈ‘ میں تہمینہ درانی لکھتی ہیں کہ بلقیس کو فلمیں دیکھنے کا شوق تھا اور وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دوپہر کا شو دیکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ کھارادر اور میٹھادر کی گلیوں سے چھابڑی والوں سے کچھ نہ کچھ خرید کر کھاتی تھیں۔
سکول میں اگر کوئی نوٹس نہیں دیتا تو اس کی کاپیاں اٹھا کر پھینک دیتی تھیں، کبھی لڑکیاں تکرار کرتیں تو وہ ان کے قلم، چشمے اور پنسل بکس اٹھا کر پھینک دیتیں اور استانیاں روز ان کے کان کھینچتیں اور کلاس سے باہر نکال دیتی تھیں۔
بلقیس کی عمر 16 سال تھی جب ان کی خالہ اُنھیں ایدھی کی ڈسپینسری میں کام کے لیے لے گئی تھیں۔ اپنی سوانح حیات میں ایدھی نے تہمینہ درانی کو بتایا کہ اُنھوں نے بلقیس کی خالہ سے سوال کیا تھا کہ اس لڑکی کی عمر تو چھوٹی ہے کیا یہ سکول نہیں جاتی؟ تو خالہ نے کہا تھا کہ پورے 16 سال کی ہے لیکن اس کو پڑھنے سے رغبت نہیں، یہ بس کام کرنا چاہتی ہے۔ بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ ڈاکٹروں نے ایدھی صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ نرسنگ سکول شروع کریں، اس کی اشد ضرورت ہے، جس کے بعد اُن سمیت کئی لڑکیوں نے وہاں داخلہ لیا۔ وہ بتاتی تھیں ’میں سلائی سیکھنے جاتی تھی۔ ایک روز ٹیچر نے مجھے مارا جس کے بعد میں نے کہا کہ اب وہاں نہیں جاؤں گی اور پھر میں یہاں نرسنگ میں آ گئی۔‘
بلقیس سے اپنی شادی کا قصہ بیان کرتے ہوئے ایدھی نے بتایا تھا کہ وہ اس شوخ، چنچل اور حسین خاتون کے سامنے بے بس ہو گئے تھے۔ کتاب میں اُنھوں نے بتایا تھا کہ کئی نرسوں نے ان کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے بلقیس کو شادی کی پیشکش کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، بالاخر اُنھوں نے ایک روز ہمت کر کے بلقیس سے بات کی اور انھوں نے رضامندی ظاہر کر دی جس کے بعد بلقیس کی والدہ تک پیغام پہنچایا جنھوں نے مالی حالات پر فکرمندی کا اظہار کیا کہ ’میری بیٹی کھائے گی کیا۔‘ ایدھی نے جواب بھیجا کہ ’میں نہ تو کسی کے بھروسے پر زندہ ہوں اور نہ ڈسپینسری سے کچھ لے رہا ہوں، ذاتی آمدن سے پورے خاندان کو سنبھال سکتا ہوں۔‘ بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ’ایدھی صاحب اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ کئی لڑکیوں نے منع کر دیا تھا کہ اُن کی داڑھی ہے۔ میری والدہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ اُن سے شادی کروا دیں۔‘ والدہ نے بلقیس کو نئے کپڑوں کے لیے 500 روپے اور 15 تولہ سونا جہیز دیا جبکہ باورچی خانے کا ضروری سامان پہلے سے جمع تھا لیکن ایدھی نے یہ سب لینے سے انکار کر دیا اور یوں 9 اپریل 1966 کو دونوں کی شادی ہو گئی۔
عبدالستار ایدھی کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر وہ ’بلقیس‘ سے شادی کریں گے تو ان کا مشن ختم ہو جائے گا لیکن بعد میں اسی شرارتی و چنچل لڑکی نے ان کے ساتھ ان کے مشن کو بھی اپنایا اور اپنا مقام بنایا۔ بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ جب اُنھوں نے کراچی میں دواخانہ قائم کیا تو لوگوں سے اپیل کی کہ ’بچوں کو کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ ایسے بچوں کو ہمارے حوالے کردیں‘۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے دواخانے میں ایک جھولا لگایا تھا۔ پھر پاکستان کے تمام سینٹروں میں ایسے جھولے لگائے گئے جہاں لوگ بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں اور ان سے کوئی سوال نہیں کرتا۔ بلقیس کے یوں تو اپنے بچے بھی تھے مگر ان کی حیثیت ان ہزاروں بچوں کی ماں کی سی تھی جنھیں ان کے اپنے کسی گندگی کے ڈھیر یا ایدھی سینٹر کے پالنے میں چھوڑ گئے تھے۔ وہ کہتی تھیں کہ ’مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا کہ یہ میرے بچے نہیں ہیں، جب یہ بچے مجھے ماں پکارتے ہیں تو دل بڑا ہوجاتا ہے۔‘ تمام بچے اور ایدھی سٹاف اُنھیں ’ممی‘ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ اتنی ممتا میں ان کے حقیقی بچے بھی شامل تھے۔ بلقیس کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں نے کبھی شکایت نہیں کی کہ میں اُنھیں وقت نہیں دیتی، وہ تو خود میرا ہاتھ بٹاتے ہیں۔‘
بلقیس ایدھی بچوں کے ساتھ ان بے سہارا اور یتیم لڑکیوں کی بھی ماں تھیں جو ایدھی ہومز میں رہتی تھیں۔ ان کی شادی اور تعلیم کو بھی وہ اپنا فرض سمجھتی تھیں۔ ان کے جب بھی رشتے آتے تو ان لڑکوں اور خاندانوں کو ان کی کڑی پوچھ گچھ سے گزرنا پڑتا تھا۔ وہ لڑکیوں کی بھی ان سے ملاقات کرواتی تھیں تاکہ وہ بھی اُنھیں دیکھ کر جواب دیں۔ بلقیس ایدھی کہتی تھیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ لڑکا شریف ہو اور کام کاج کرتا ہو۔ ہم لڑکی کو لڑکا اور اس کا گھر دکھاتے ہیں اگر وہ ہاں کرتی ہے تو بات آگے بڑھائی جاتی ہے۔‘ ان لڑکیوں کی جب بھی شادی ہوتی تو مہندی مایوں سے لے کر تمام رسمیں ادا کی جاتی تھیں، لڑکیاں ڈھول بجاتی تھیں اور اپنی سکھی کی خوشی میں شریک ہوتیں اور اس میں بزرگ بلقیس بھی شامل ہوتیں تھیں۔
یاد رہےکہ اپنی وفات تک بلقیس اسی ڈسپینسری کے کمرے میں رہتی تھیں جہاں وہ کام سیکھنے آئیں تھیں۔ تین منزلہ عمارت میں پہلی منزل پر انتظامی دفتر اور مردوں کا دواخانہ ہے، دوسری منزل پر میٹرنٹی ہوم اور بلقیس ایدھی کا کمرہ جبکہ تیسری منزل پر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کے کمرے، کلاس روم اور کچن ہے۔بلقیس ایدھی کو ایک ارمان تھا اپنے گھر کا، وہ کہتی تھیں کہ اُنھوں نے بار بار ایدھی کو کہا کہ اپنا گھر دلا دو جو تین کمروں کا ہو، جہاں گیلری ہو تاکہ وہ اُس میں کپڑے دھو کر سکھا سکیں لیکن انھوں نے کبھی میری بات نہیں مانی۔ بلقیس نے مشکلات کے باوجود عبدالستار ایدھی کا ساتھ نہیں چھوڑا، جب اُنھوں نے دوسری شادی کی اور بعد میں ختم کر دی تب بھی ان میں تلخی نہیں آئی تھی۔

Related Articles

Back to top button