بلوچستان میں امریکی انگور کیسے پہنچ کر کاشت ہو رہا ہے؟


بلوچستان میں انگور کی ایک ایسی قسم کاشت کی جاتی ہے جو اپنے ذائقے اور خوشبو کے لحاظ سے کسی طور پر بھی امریکی انگور سے کم نہیں، بلکہ ان کے ڈبوں پر صرف میڈ ان امریکہ یا میڈ ان پاکستان کا فرق ہی رہ جاتا ہے، ضلع پشین میں جدید طرز پر کاشت ہونے والا یہ انگور آٹم رائل اور ریڈ گلوب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس منفرد انگور کے باغ کے مالک عبدالرشید کہتے ہیں کہ امریکن اور ہمارے انگوروں میں فرق صرف ملک کا ہے، باقی ہمارے انگور زیادہ ذائقے دار ہیں، یہ انگور آپ کو بہت کم پاکستانی مارکیٹ میں ملیں گے، ذائقے کے علاوہ یہ ہر قسم کے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور مون سون کی بارشوں میں بھی اسکی بیلیں اور پھل محفوظ رہتے ہیں۔

انگوروں کی امریکی قسم اُگانے والے باغ کے مالک نے بتایا کہ ہمارے ہاں کاشت کاری کا طریقہ تقریباً 200 سال پرانا ہے جس میں زمین زیادہ اور درخت کم لگتے ہیں جبکہ جدت سے ہم کم زمین پر زیادہ بڑا باغ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 2008 میں ضلع پشین میں ایک زرعی پروگرام میں شرکت کی تھی جسکے تحت امریکہ سے کچھ انگوروں کی اقسام قلموں کی صورت میں منگوائی گئیں اور تجرباتی طور پر مقامی کاشت کاروں میں بانٹی گئیں۔ تب ہی عبدالرشید نے بھی انگور کی مختلف اقسام کی قلمیں حاصل کیں جن میں آٹم رائل، ریڈ گلوب اور کرمسن سیڈ لیس شامل تھے، رشید بتاتے ہیں کہ میں نے یہ کام شروع کیا تو خود بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کی، تحقیق اور تجربے کیے، ریڈ گلوب اور آٹم رائل انگور کو ہماری مٹی راس آ گئی۔ ان کی شیلف لائف بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ دیر تک خراب نہیں ہوتے اس لیے سٹور بھی کیے جا سکتے ہیں، دکاندار کو بھی یہ انگور رکھنے میں فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ روایتی انگور کو ایک دن میں فروخت کرنے پر مجبور ہوتا ہے، کیونکہ دوسرے دن وہ خراب ہوجاتا ہے، لیکن یہ اقسام خراب نہیں ہوتیں۔

رشید نے بتایا کہ انگور کی روایتی پاکستانی قسمیں کشمش اور سُندر خانی ہیں جو جلد پک جاتی ہیں اور ان کو فوری کاٹنا پڑتا ہے جبکہ امریکن اقسام کی خوبی یہ ہے کہ اگر مارکیٹ میں انکی قیمت کم ہے توآپ اس انگور کو دو مہینے تک درخت پر ہی چھوڑ سکتے ہیں۔ رشید نے بتایا کہ رنگ والے انگور کےلیے دھوپ اور چاند کی روشنی کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے، ہم روایتی طریقے سے ہٹ کر تین دن بعد پانی دینے کی بجائے قطرہ قطرہ پانی ڈرپ اری گیشن سسٹم سے دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے باغ سے حاصل شدہ 50 فیصد تک انگور آرگینک ہوتے ہیں، کھاد بنانے کی غرض سے وہ گوبر کی بجائے بھیڑ بکریوں کی مینگنیں استعمال کرتے ہیں جو وہ سبی سے منگواتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے انگور کے باغ میں بہت سارے کچھوے بھی رکھتے ہیں کیونکہ یہ انڈے دینے کے لیے زمین کو نرم کرتے رہتے ہیں۔

رشید نے بتایا کہ بلوچستان میں لوگ سیب اور دوسرے پھلوں کی پیوندکاری کرتے ہیں لیکن انگور کی پیوند کاری کوئی نہیں کرتا ہے، اس نظام کو سمجھنے کے لیے میں نے دس سال کام کیا تب جا کر میں اس کو سمجھنے کے قابل ہوا، عبدالرشید نے بتایا کہ انگور میں 15 اقسام کی پیوندکاری ہوتی ہے، جس کا وقت اور طریقہ کار ہوتا ہے، میں نے 200 درخت لگا کر ایک تجربہ گاہ بھی بنا رکھی ہے جہاں میں سارا سال کام کرتا ہوں، اس وجہ سے میری پیوند کاری سو فیصد کامیاب رہتی ہے۔ پیوند کاری کے لیے درخت کو کس چیز سے کاٹنا چاہئے یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ ہمارے لوگ درخت کو آری سے کاٹتے ہیں۔ خاص طور پر انگور کو بھی اسی طرح کاٹا جاتا ہے یا جو چین کی بنی ہوئی قینچی ہے اس سے کاٹتے ہیں، یہ طریقہ کار انتہائی نقصان دہ ہے، اس کے لیے مخصوص قینچی اور چھری کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو ہمارے علاقے میں دستیاب نہیں، اسی لیے مجھے درخت کاٹنے والی قینچی اور پیوند کاری کا آلہ سوئٹزرلینڈ سے منگوانا پڑا جو اب بھی ہمارے استعمال میں ہے۔

Related Articles

Back to top button