بنگلہ دیش اور پاکستانی پرچم کی اکٹھی تصویر پر تنازع


حال ہی میں ڈھاکہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے جذبہ خیر سگالی اور خوشگوار تعلقات کی عکاسی کیلئے بنگلہ دیشی اور پاکستانی پرچم کے کولاج کی تصویر فیس بک پر جاری کی گئی تو بنگلہ دیش میں طوفان برپا ہوگیا، اور اس اقدام کو بنگلہ دیشی پرچم کی توہین قرار دے دیا گیا۔ ڈھاکہ میں یہ ایشو اتنا بڑا ہو گیا کہ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کو پاکستانی ہائی کمیشن سے وضاحت طلب کرنا پڑگئی جس کے بعد تصویر کو فیس بک سے ہٹا دیا گیا۔

بنگلہ دیش اور پاکستان کا مشترکہ پرچم 21 جولائی کو فیس بک پیج کی کور فوٹو کے طور پر لگایا گیا تھا۔ بعد ازاں جب بنگلہ دیش میں اس پر سخت ترین ردعمل ظاہر کیا تو بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن سے تصویر ہٹانے کی درخواست کی۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ عمل پسند نہیں آیا، اس لیے ہم نے آپ سے اسے ہٹانے کو کہا۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ خود پاکستان سے پوچھا کہ تصویر کیوں لگائی گئی، ساتھ ہی انھوں نے اپنے موبائل پر ہائی کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی کچھ تصاویر صحافیوں کو دکھائیں، پاکستان ہائی کمیشن نے انھیں یہ تصاویر نمونے کے طور پر بھیجی تھیں، پاکستان ہائی کمیشن نے کئی ممالک میں اپنے ہائی کمیشن کے فیس بک پیج پر اس ملک کے پرچم کے ساتھ پاکستان کے پرچم کا کولاج لگایا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا کہ سنگاپور، سری لنکا، سعودی عرب اور ملائیشیا جیسے ممالک کے فیس بک پیجز پر بھی ایسی ہی تصویر لگائی تھی جو پاکستان اور ان ممالک کے جھنڈے کو ملا کر بنائی گئی تھی، ان میں سے ہر ایک کی سرورق کی تصویر بالکل اسی طرح لگائی گئی، جیسے ہمارے پرچم کے ساتھ بنائی گئی تھی، ہم نے یہ کام کسی غلط منصوبے کے تحت نہیں کیا تھا، اور وہ پاکستانی ہائی کمیشن کی وضاحت سے مطمئن ہیں۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ہم نے سوچا کہ اگر وہ دوسرے ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ فیس بک کور پیج ڈال سکتے ہیں تو وہ بنگلہ دیش کے پرچم کے ساتھ بھی تصویر لگا سکتے ہیں، پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا کہ کسی دوسرے ملک نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ جب پریس کانفرنس کر رہے تھے تو اس سے کچھ دیر قبل ہی پاکستانی ہائی کمیشن نے بنگلہ دیش کے پرچم والی اس تصویر کو ہٹا کر اس کی جگہ صرف پاکستان کے پرچم والی تصویر لگا دی تھی۔

اگرچہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ کسی خاص منصوبے کے تحت نہیں کیا لیکن اسے ہٹانے کے کہنے کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ بنگلہ دیش اس تصویر کی وجہ سے کسی سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتا۔ اس تصویر کو لگانے کے بعد سے کئی اداروں نے اس پر تنقید کرتے ہوئے بیانات جاری کیے تھے کہ اس میں بنگلہ دیش کے جھنڈے کی توہین کی گئی۔

تاہم چند ماہ قبل بنگلہ دیش کی آزادی کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر کئی ممالک نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بنگلہ دیش کے پرچم کے ساتھ اپنے ملک کے پرچم کی تصویر جاری کی تھی۔ دو ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو ظاہر کرنے کے لیے کئی ممالک ایسی تصاویر جاری کرتے رہے ہیں لیکن پاکستانی ہائی کمیشن کے فیس بک پیج پر اس طرح کی تصویر لگائے جانے پر بنگلہ دیش میں ہونے والے احتجاج کے پیش نظر یہ معاملہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کے نوٹس میں لایا گیا۔

وزیر خارجہ کی ہدایت پر وزارت نے یہ معاملہ پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے اُٹھایا اور اسے فیس بک پیج سے ہٹانے کی درخواست کی بعد ازاں پاکستانی ہائی کمیشن نے براہ راست وزیر خارجہ کو ان تصاویر کے نمونے بھیجے جو پاکستانی ہائی کمشنز کے فیس بک پیجز پر دیگر ممالک کے جھنڈوں کیساتھ بنوائے تھے، جو ان کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی نمائندگی کے لیے تھے، ڈھاکہ میں مقیم ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سیاسی تنازع کی وجہ سے اس تصویر کو ہٹانے کی درخواست کی گئی۔

Related Articles

Back to top button