جامی سے زیادتی کرنیوالے کا نام سامنے نہ آنا المیہ

معروف فلم ساز جامی کی جانب سے می ٹو کا شکار ہونے کے انکشاف پر قصور وار شخص کا نام نہ لینے نے کئی سوالات کا جنم دے دیا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ می ٹو سے وابستہ دونوں ہی لوگ میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھتے تھے ۔
مشہور فیشن ڈیزائنر محسن سعید کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کے لیے اپنی ذاتی زندگی کے ایسے پہلوؤں پر بات کرنے کے لیے بہت بہادری چاہئے جو ماضی میں ان کے لیے اذیت کا باعث بنے ہوں ۔ اپنا فیصلہ ہے کہ وہ کب کسی کا نام منظرِ عام پر لاتے ہیں لیکن تشدد کرنے والے کا نام ظاہر نہ کرنے کہ وجہ سے افواہوں کو ہوا ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں میشا شفیع نے جنسی ہراسانی کے حوالے سے عوامی سطح پر بات کی لیکن انہوں نے علی ظفر کا نام بھی لیا جس کی وجہ سے علی ظفر خود پر لگائے جانے والے الزامات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے۔
محسن سعید کا کہنا تھا کہ وہ جامی کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جُرات مند بھی ہیں اور اس معاملے پر صاف بات کر سکتے ہیں لیکن کسی شخص کو کس حد تک یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ‘می ٹو’ کے پلیٹ فارم پر کسی کا نام لیے بغیر بات کرے؟ اس سوال پر سینئر صحافی عافیہ سلام کہتی ہیں کہ متاثرہ شخص کسی کا نام لینا چاہتا ہے یا نہیں، اس بات کا حق صرف اور صرف اسی فرد کے پاس ہے جو زیادتی کا نشانہ بنا ہو۔

عافیہ سلام نے کہا کہ جب لاہور کے پروفیسر محمد افضل نے خود کشی کی تو ‘می ٹو’ موومنٹ پر بلا جواز سوال اٹھائے جانے لگے۔ ایسے میں جامی کا اپنی زندگی کے اس تکلیف دہ واقعے کو عوام تک ہہنچانا کوئی معمولی بات نہیں۔
محمد افضل کی خود کشی پر مشہور گلوکار علی ظفر نے بھی ٹوئٹ کیا تھا کہ ‘ایم اے او کالج’ کے لیکچرار نے ایک جھوٹے الزام پر خود کشی کی ہے ، جامی کی ٹوئٹس سے متعلق میڈیا کی رپورٹنگ کا کردار کیسا تھا ، اس پر عافیہ سلام کہتی ہیں کہ میڈیا کا رویہ قابلِ تعریف نہیں رہا۔
ان کے بقول اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں شاید پہلی بار میڈیا کو ایک ایسی رپورٹ لکھنی یا نشر کرنا تھی جس میں ان کے ہی پیشے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کا ذکر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ میڈیا میں کام کرنے والوں کے لیے آئے دن کی بات نہیں۔ اس لیے رپورٹنگ کے معیار اور اس خبر کو برتنے پر کچھ سوال ضرور اٹھتے ہیں۔
انسانی حقوق کی کارکن تسنیم احمر نے بتایا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جامی نے جس جنسی زیادتی کا ذکر اپنی ٹوئٹس میں کیا، انہیں سامنے لانے کے لیے بہت ہمت چاہیے۔کسی شخص کا نام نہ ہونے کی وجہ سے اب کسی طور بھی اس فرد سے سوال جواب نہیں ہو سکتے جو اس ریپ میں ملوث ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرد و خواتین دونوں میں اس احساس کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر جنسی زیادتی یا ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش آئے تو اسے جلد سامنے لایا جائے تا کہ اس کے حوالے سے ثبوت نہ صرف قابلِ استعمال ہوں بلکہ ‘نیم اینڈ شیم’ سے آگے بڑھتے ہوئے مجرمان کو باقاعدہ سزا بھی ہو سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button