جاوید شیخ آصف زرداری سے دوستی کے دعویدار کیوں؟


پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار جاوید شیخ نے سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کیا ہے۔ جاوید شیخ کے مطابق انھیں فخر ہے کہ آصف زرداری سے نہ صرف ان کی دوستی یاری ہے بلکہ کافی اچھے مراسم بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک زمانے میں آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری کا کراچی میں بمبینو سینما ہوا کرتا تھا،ان دنوں جاوید شیخ کا شمار بھی ان نوجوانوں میں ہوتا تھا جو خود کو کسی ہیرو سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ فلموں میں آنے کے لئے انھوں نے کتنے پاپڑ بیلے، یہ الگ کہانی ہے لیکن یہ تب کی بات ہے جب وہ اپنے کیریئر کی پہلی فلم دھماکہ میں کاسٹ کر لئے گئے۔ شوٹنگز سے فارغ ہو کر شام کے وقت کافی لڑکے نارتھ ناظم آباد میں واقع لارڈز کیفے میں اکٹھے ہوتے۔ اسی کیفے کے اوپر فلم کے پروڈیوسر کا فلیٹ بھی تھا۔ ایک دن جب وہاں جاوید شیخ گئے تو آصف زرداری اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے یوئے تھے۔ جاوید کو دیکھ کر انہوں نے آواز لگائی کہ ہیرو ادھر ہی آ جاؤ، وہ انھیں ہیرو کہا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے دوستوں سے بھی جاوید کا تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ یہ ہمارا ہیرو ہے اور اس طرح جاوید ان کے قریبی لوگوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔ یہ 1975 کی بات ہے، اس کے بعد آصف زرداری سے ان کی بہت کم ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ 1996 کا ذکر ہے۔

جاوید شیخ فلم انڈسٹری پر راج کر رہے تھے اور آصف زرداری کا شمار مقبول ترین سیاستدانوں میں ہونے لگا تھا۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ رشتہء ازدواج میں منسلک ہو چکے تھے۔ 1995 میں جب بےنظیر بھٹو کی حکومت اقتدارمیں تھی تو ایک روز جاوید شیخ نے زرداری کو پیغام بھیجا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ زرداری نے فوراً انہیں اپنے چیمبر میں بلوایا اور پوچھا، ہیرو کیا کام ہے؟ جاوید نے جب اتنے لوگوں کو آس پاس دیکھا تو تھوڑے ہچکچائے اور بولے کہ وہ پھر آجائیں گے۔ آصف زرداری ان کی پریشانی بھانپ گئے، وہ اٹھے اور انھیں پرائم منسٹر ہاؤس کی کار پارکنگ میں لے گئے جہاں ان کی مرسیڈیز کھڑی تھی۔ انہوں نے ڈرائیور سے کہا کہ تم دوسری گاڑی میں آؤ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ جاوید ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے اور گپ شپ شروع ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ڈرائیو کرتے ہوئے واپس پرائم منسٹر ہاؤس پہنچ گئے، آصف زرداری نے پھر پوچھا کہ ہیرو تم نے تو کوئی بات کرنا تھی؟ اس پر جاوید شیخ نے بتایا کہ دراصل انھوں نے ”مشکل“ نامی ایک فلم ڈائریکٹ اور پروڈیوس کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس فلم کے پریمیم شو میں آصف زرداری اور بی بی شرکت کریں۔

آصف زرداری نے بات سننے کے بعد کہا اور وہ کام کیا تھا جو ضروری تھا؟ جاوید نے بتایا، یہی کام تھا۔ اس پر آصف زرداری نے سر تھام لیا۔۔۔اندر گئے اور اپنے اے ڈی سی سے کہا کہ جاوید شیخ سے ایک درخواست لکھواؤ اور کہا ہیرو ہم آ جائیں گے فکر نہ کرو۔ جاوید بتاتے ہیں کہ اسی دوران ان کے ایک جاننے والے وہاں آئے اور پوچھا، یہاں کیا کر رہے ہو؟ جاوید شیخ نے درخواست کا بتایا تو وہ صاحب بولے، کیا شوگر فیکڑی کا لائسنس لینا ہے؟ جب انھوں نے مدعا بیان کیا تو وہ صاحب بولے، لوگ یہاں آنے کے لئے ترستے ہیں کہ کوئی کام نکلوا لیں اور تم بدھو یہاں تک پہنچ کر بھی انھیں فلم کا چیف گیسٹ بنوانا چاہتے ہو.

Related Articles

Back to top button