خبردار: گلدستے بیچنے والے کونسا زہریلا پھول بانٹ رہے ہیں؟

ملک بھر کی فلاور شاپس پر پھول بیچنے والے گلدستوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے گلاب اور دیگر پھولوں کے علاوہ چھوٹے سائز کے سفید موتی نما پھول بھی استعمال کر رہے حا لانکہ یہ زیر آلود ہیں اور گاجر بوٹی یا پارتھینئیم کے پھول ہیں۔ یہ پودا اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ جہاں اگ آئے اس کے آس پاس کے سارے پودے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اس جڑی بوٹی کے پھول کھانے والے جانوروں کی موت ہو جاتی ہے اور اسے سونگھنے والے انسان سانس کی جان لیوا بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شہروں میں عموماً اس گاجر بوٹی نامی پودے کے سفید موتی نما زہریلے پھول گلدستے میں شامل کرکے مہنگے داموں بیچے جاتے ہیں۔

ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ فصلوں کی دشمن پارتھینئم نامی یہ جڑی بوٹی تیزی سے ملک بھر میں پھیلتی جا رہی ہے، جوکہ زرعی پیداوار کو تیزی سے متاثر کرتی ہے، اس سے انسانی صحت اور ماحول پر بھی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پارتھینئم کو دنیا بھر میں خطرناک ترین جڑی بوٹی سمجھا جاتا ہے، جو افریقہ، ایشیاء اور جنوبی پیسیفک کے تقریباً 48 ممالک میں ماحول، انسانی صحت، کھڑی فصلوں اور معیشت پر نا قابل تلافی اثرات مرتب کر چکی ہے۔

پاکستان میں پارتھینئم کے تیزی سے پھیلنے کا ایک اہم ذریعہ پانی ہے، موجودہ صورتحال میں جب ملک کا ایک بڑا رقبہ سیلابی پانی میں گھرا ہوا ہے تو لا محالہ یہ جڑی بوٹی دیگر علاقوں تک مزید تیزی سے پھیلے گی، جہاں پہلے اس کی گروتھ زیادہ نہیں تھی۔ پارتھینئم کے تیزی سے پھیلنے کا اندازہ اس طرح بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اسکے ایک پودے میں 15 ہزار سے 20 ہزار تک بیج ہوتے ہیں اگر یہ جڑی بوٹی نئے علاقوں میں زرعی زمین اور فصلوں تک پہنچ گئی تو مستقبل میں زرعی پیداوار مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد کے مطابق پارتھینئم کی بوٹی ہر طرح کے موسمی حالات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کے تدارک کا بہترین طریقہ اسے جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہے۔ اسکے علاوہ تنے کی سنڈی پارتھینئم کی قدرتی دشمن ہے، جو اس کے پھولوں پر انڈے دینے کے بعد اپنے لاروا کی افزائش کرتی ہے اور پارتھینئم کے تنے کو کھا کر اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہ سنڈی پارتھینئم کو تلف کرنے کا ایک اہم قدرتی ذریعہ ہے۔

Related Articles

Back to top button