خیبرپختونخوا: سینیٹ انتخابات میں جماعت اسلامی کا پی ڈی ایم کی حمایت کا اعلان

جماعت اسلامی کی جانب سے اپوزیشن اتحاد کے امیدواروں کی حمایت پر رضامندی کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے آئندہ سینیٹ انتخابات میں مشترکہ طور پر امیدوار کھڑے کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد ہمایوں خان کی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عباس آفریدی اور میاں عالمگیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر، محمد علی شاہد باچا اور احمد کریم کنڈی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمٰن اور محمود احمد بٹانی، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی ہدایت اللہ خان اور سردار حسین بابک کے علاوہ جماعت اسلامی کے عنایت اللہ خان شریک ہوئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جے یو آئی ایف، پی ایم ایل این اور اے این پی عام نشستوں پر اپنے امیدوارکھڑے کریں گی، پیپلز پارٹی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر جبکہ جماعت اسلامی خواتین کی مخصوص نشست پر امیدوار لائے گی۔اس کے علاوہ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور امید ظاہر کی کہ پی ڈی ایم خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی تمام پانچوں نشستیں جیت لے گی۔
اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالجلیل نے کہا کہ ‘پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں نے اپنے امیدواروں کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون کرنے کا ٹھوس اراداہ کیا ہے’۔ادھر پیپلز پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات گوہر خان انقلابی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بھی پی ڈی ایم کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کے ووٹوں کی تعداد بڑھ کر 44 ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی قوم کو کو اس ‘نااہل’ حکومت جس نے بے روزگاری اور بے قابو مہنگائی سے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، سے نجات دلانے کے لیے پی ڈی ایم کا متحرک حصہ بن کر رہنا چاہتی ہے۔
گوہر خان انقلابی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی مایوس نظر اتے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر اپنی پارٹی کے امیدواروں کی حمایت سے گریز کریں گے۔رہنما پی پی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی صوبائی قیادت صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ممکنہ طور پر ایک اور اجلاس کرے گی۔
یاد رہے کہ ایوان بالا کے 48 اراکین کو منتخب کرنے کے لیے پولنگ 3 مارچ کو ہوگی جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 12، 12 سینیٹرز، پنجاب اور سندھ سے 11،11 جبکہ اسلام آباد سے 2 سینیٹرز کو منتخب کیا جائے گا۔پولنگ میں چاروں صوبوں سے عام نشستوں پر 7 اراکین، 2 نشستوں پر خواتین، 2 نشستوں پر ٹیکنوکریٹس کو چُنا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے اقلیتی نشست پر ایک، ایک رکن منتخب ہوگا۔خیال رہے کہ 11 مارچ کو اپنی 6 سالہ مدت ختم ہونے پر ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی 65 فیصد تعداد اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button