سائفر میں خطرہ یا سازش کے الفاظ شامل نہیں تھے

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے سائفر کیس میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ لو سے ہونے والی ملاقات میں خطرہ یا سازش جیسے کسی لفظ کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا، ملاقات کی گفتگو کو جب سائفر ٹیلی گرام رپورٹ کیا تو اس میں بھی ایسے کسی الفاظ کا ذکر موجود نہیں تھا۔راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے روبرو سائفر کے مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اسد مجید نے کہا کہ سات مارچ 2022 میں امریکی اسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشا ڈونلڈ لو سے ہونے والی اپنی ملاقات اور اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو جب انھوں نے اسلام آباد بطور خفیہ سائفر ٹیلی گرام رپورٹ کیا تو اُس میں ’خطرہ‘ یا ’سازش‘ کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی اور جیل کے ایک اہلکار کے مطابق منگل کے روز اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر مقدمے کی سماعت کے دوران اسد مجید سمیت چھ گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں جس کے بعد اس کیس میں بیان ریکارڈ کروانے والے استغاثہ کے گواہان کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے۔اسد مجید نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سائفر کے حوالے سے پاکستان میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں انھیں بھی طلب کیا گیا تھا اور اس اجلاس میں امریکہ کو ڈی مارش جاری کرنے کا فیصلہ ہوا، اسد مجید نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ہی ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر جو کچھ ہوا وہ پاکستان امریکہ تعلقات کے لیے دھچکا تھا۔جیل حکام کے مطابق اسد مجید نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جنوری 2019 سے مارچ 2022 تک وہ امریکہ میں پاکستان کا سفیر تھے اور سات مارچ 2022 کو امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی اُمور مسٹر ڈونلڈ لو کو ورکنگ لنچ پر مدعو کیا تھا اور یہ ایک پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی جس کی میزبانی واشنگٹن میں پاکستان ہاؤس میں کی گئی تھی۔اس مقدمے کے مرکزی ملزم عمران خان اور شریک ملزم شاہ محمود قریشی کے وکلا کل سے گواہوں پر جرح کا آغاز کریں گے، منگل کے روز جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی گارنٹی کے باوجود میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ انھوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کاغذات نامزدگی کی تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے اُن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button