سولر پینلز بیچنے اور خریدنے والے کس اُلجھن کا شکار ہیں؟


سورج سے پیدا ہونے والی توانائی موجودہ دور کی مہنگی بجلی کے متبادل کے طور پر بہترین ذریعہ ہے، لیکن رواں سال کے آغاز میں پی ٹی آئی کی جانب سے سولر پینلز پر 17 فیصد ٹیکس عائد کرنے اور موجودہ حکومت کی جانب سے اسے ختم کرنے کے اعلان نے صارفین اور دکاندار دونوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
سولر ایسوسی ایشن نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے 17 فیصد سیلز ٹیکس کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد موجودہ مخلوط حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مئی میں سولر پینلز پر عائد 17 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس اعلان سے سولر پینلز لگوانے کے خواہشمند شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتوں میں تاحال کوئی کمی نہیں آئی، سولر پینلز کے تاجروں کا کہنا یے کہ کچھ ماہ کے دوران جس تیزی سے روپے کی قیمت کم ہوئی، اس صورت حال میں اگر حکومت سیلز ٹیکس ختم کر بھی دیتی ہے تو قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے۔
بگ سن سولر کے نام سے سولر پینلز کا کاروبار کرنے والے فیضان بیگ نے بتایا کہ جو بھی گاہک آتا ہے اس کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ حکومت نے تو سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے لیکن اب تک آپ نے قیمت کم کیوں نہیں کی ہے، موجودہ حالات میں حکومت نے سیلز ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کر کے اچھا اقدام کیا ہے لیکن اس کا ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
اس صورت حال میں گاہک بھی پریشان ہو رہے ہیں اور ہمارے لیے بھی مشکلات آ رہی ہیں، نہ ہم مال منگوا پا رہے ہیں اور نہ ہی یہ پتہ چل رہا ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ سولر پینل کی خریداری کے لیے مارکیٹ میں موجود سرگودھا کے رہائشی سید علی رضا شاہ نے بتایا کہ وہ اپنی زرعی زمین پر لگے ٹیوب ویل کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لیے سولر پینلز لینے آئے ہیں، ڈیزل اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ اب اس کا استعمال ممکن نہیں، میں نے اپنی لاگت کا حساب لگایا ہے، اس میں ڈیزل کے استعمال سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا پھر ہم نے کہا کہ سولر بہتر ہے، چاول کی فصل کے لیے 45 ہزار روپے فی ایکڑ صرف پانی کا خرچ آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیوب ویل کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لیے ان کا آٹھ سے دس لاکھ روپے کا خرچ آ رہا ہے اور 45 ہزار روپے فی ایکڑ بچت سے ان کا یہ خرچ ایک سال میں پورا ہو جائے گا۔

Related Articles

Back to top button