عامر لیاقت کے بچے بھی دانیا کے خلاف FIA پہنچ گئے


ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پراسرار موت کے بعد سے ان کی پہلی اور تیسری بیویوں کا آپس میں جھگڑا جاری ہے۔عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی جانب سے مرحوم شوہر کی قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد ان کی پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال اور انکے بیٹے اور بیٹی نے دانیہ شاہ کیخلاف ایف آئی اے میں شکایت درج کروا دی ہے۔ اس سے پہلے بشریٰ اقبال نے بتایا تھا کہ وہ عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کیخلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم میں مقدمہ درج کرنے جا رہی ہیں، انکی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں دانیہ شاہ کے خلاف شکایت درج کروانے کے بعد اب ان کے بیٹے احمد اور بیٹی دعا نے بھی دانیہ کے خلاف ایف آئی اے سے رجوع کرلیا ہے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت کے بیٹے اور بیٹی نے بتایا کہ انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو دانیہ شاہ کے خلاف شواہد پیش کر دیئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح عامر لیاقت حسین کی کردار کشی کی جس وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں آگئے اور خود کو گھر تک محدود کر لیا، عامر لیاقت کے بچوں کا کہنا تھا کہ ان کے والد دانیہ کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اتنی چالاک نکلی کہ ان ہی کے پوسٹ مارٹم کی درخواست دائر کر کے مظلوم بن گئی۔ چنانچہ ہم نے انہیں بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دعا عامر نے بتایا کہ ایف آئی اے حکام نے انہیں دانیہ شاہ کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے اور انہیں بتایا کہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہر ممکن کارروائی کی جائے گی، دعا عامر نے اس دوران میڈیا سے بھی ساتھ دینے کی اپیل کی۔ ایف آئی اے میں شکایت درج کرواتے وقت دعا عامر کے ہمراہ والدہ بشریٰ اقبال اور ان کے وکیل بھی موجود تھے، بشریٰ اقبال اور عامر لیاقت کے درمیان دسمبر 2020 میں طلاق ہوگئی تھی، دونوں کی شادی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک چلی، بشریٰ اقبال اس وقت دو بچوں بیٹے احمد اور بیٹی دعا عامر کے ہمراہ رہتی ہیں۔

عامر لیاقت نے بشریٰ اقبال سے شادی ختم ہونے سے قبل ہی اگست 2018 میں ماڈل طوبیٰ انور سے شادی کی تھی، جنہوں نے ان سے فروری 2022 میں خلع لے لی تھی۔ فروری 2022 میں ہی عامر لیاقت نے پنجاب کی رہائشی 18 سالہ دانیہ شاہ سے تیسری شادی کر لی تھی، جنہوں نے محض تین ماہ بعد مئی میں تنسیخ نکاح کے لیے پنجاب کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی مگر ان کی خلع ہونے سے قبل ہی عامر لیاقت انتقال کر گئے تھے، عامر لیاقت کے انتقال کے ایک ماہ بعد تین دن قبل ہی دانیہ شاہ نے سندھ ہائی کورٹ میں شوہر کا پوسٹ مارٹم کروانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عامر لیاقت 10 جون کو کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا مگر وہ جان بر نہ ہوسکے، عامر لیاقت کے انتقال کے بعد ان کے پوسٹ مارٹم پر بھی تنازع رہا، ان کے بچوں نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا، تاہم پولیس بضد تھی کہ قانونی کارروائی کے لیے ان کا پوسٹ مارٹم ہونا لازمی ہے۔

عامر لیاقت کے بچوں اور سابق پہلی بیوی نے پوسٹ مارٹم نہ کروانے سے متعلق ابتدائی طور پر کراچی کی مقامی عدالت اور بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ سے بھی آرڈرز حاصل کیے تھے۔

ایک نامعلوم شہری نے بھی عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کی درخواست دی تھی، جس پر عدالت نے ان کی قبرکشائی کا حکم بھی دیا تھا، لیکن بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے عامر لیاقت کے بچوں کی درخواست پر وہ حکم بھی معطل کر دیا تھا۔
اب دانیہ شاہ نے عامر لیاقت کی قبرکشائی کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کروانے کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی، جس پر مزید سماعت 28 جولائی کو ہونے کا امکان ہے۔

Related Articles

Back to top button