عمران اور راہول گاندھی کی ایک جیسی میمز کیوں بنیں؟


بات جلسوں کی ہو یا عوام کو اعتماد میں لینے کی، سیاستدان عوام کو قائل کرنے کیلئے اکثر گھنٹوں تقاریر کرتے ہیں، جس کے دوران بعض اوقات زبان پھسل بھی جاتی ہے، پاکستان اور بھارت کے سیاستدانوں کی دوران تقریر زبان پھسلنے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن سے دونوں ملکوں کے عوام خوب محظوظ ہوتے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے زبان پھسلنے کی وجہ سے ٹوئٹر پر بھارتی صارفین کو میمز بنانے کا ایک نیا موقع مل گیا۔ چنانچہ اب انٹرنیٹ پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین راہول گاندھی کا موازنہ عمران خان کے ساتھ کر رہے ہیں کیونکہ دونوں سیاست دان مہنگائی پر بات کرنے کے ساتھ آٹے کی پیمائش لیٹر میں کرتے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اگلے روز اپنے خطاب میں قیمتوں میں ’’تاریخی‘‘ اضافے پر بات کرتے ہوئے نشان دہی کی تھی کہ اگر عوام کو حقیقی آزادی نہ ملی تو انہیں خطرہ ہے کہ ملک کی حالت اتنی بگڑ جائے گی کہ اس پر قابو پانا نا ممکن ہو جائے گا۔

اپنے دور کی قیمتوں کا موجودہ حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے عمران کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ آٹے کی قیمت دگنی ہوگئی ہے، ہمارے دور میں ایک کلو آٹے کی قیمت 50 روپے تھی، صرف 5 مہینے بعد آج کراچی میں اس کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ان کی زبان پھسلنے سے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے تو کپتان کا شغل لگایا ہی لیکن سرحد پار بھارت میں بھی لوگوں نے فوری طور پر ان کا موازنہ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے ساتھ کرنا شروع کردیا جنہوں نے ماضی میں ایسی ہی غلطی کی تھی۔رواں مہینے دہلی میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے آج کی قیمتوں کا موازنہ 2014 کے ساتھ کیا تھا۔ راہول نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ‘آٹا 22 روپے فی لیٹر تھا جو اب 40 روپے لیٹر ہوچکا ہے، لیکن اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد انہوں نے کلوگرام کا لفظ استعمال کیا، تاہم یہ تصحیح انٹرنیٹ عوام کو انکی ٹرولنگ سے نہ روک سکی۔

ٹوئٹر کے بھارتی صارفین کو یقین ہے کہ عمران اور راہول دونوں سیاست دانوں نے ایک ہی کتاب پڑھی ہوگی جس میں آٹے کی قیمت لیٹر میں بتائی گئی ہے، رواں برس سیاست دان قہقہے لگانے کے متعدد موقع دیتے رہے، چاہے وہ بلاول بھٹو کا ’’کانپیں ٹانگ‘‘ رہی ہیں ہو یا سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی ہیڈ فون کے ساتھ جدوجہد ہو، جب پاکستانی سیاست دانوں کی بات آتی ہے تو کوئی بھی لمحات مرجھائے ہوئے نہیں ہوتے۔

Related Articles

Back to top button