عوام کے ریلیف کیلئے کچھ بھی کرنا پڑے کروں گا

وزیراعظم عمران خان کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قمتیں ہر صورت کم کرنے کی ہدایت، اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر غریب کا احساس نہیں کر سکتے تو حکومت میں رہنے کا حق نہیں ہے۔ عمران خان کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ہوا ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء کی سستے نرخوں فراہمی پر غور کیا گیا ہے، اجلاس میں آٹا ،گھی، چینی، چاول اور دالوں کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، چیئرمین یوٹیلٹی اسٹورز ذوالفقار علی خان، وزارت خزانہ، صنعت و پیداوار اور سماجی تحفظ ڈویژن کے وفاقی سیکریٹری، ایم ڈی یوٹیلٹی اسٹور اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔مذکورہ اجلاس میں غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ کی سستے داموں فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح پاکستان کے عوام خاص طور پر غریب اور تنخواہ دار طبقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت غریب عوام کی تکالیف پر خاموش تماشائی نہیں سکتی لہٰذا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کےلیے حکومت ہر حدتک جائے گی۔بیان کے مطابق عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے عمران خان کی جانب سے لیے گئے فیصلوں کا اعلان کل (منگل) کو کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز بھی ٹوئٹس کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے تحریک انصاف کی حکومت، وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کرے گی۔
ٹوئٹر پر بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ‘مجھے ان مشکلات کا ادراک ہے جن کا تنخواہ دار طبقے سمیت مجموعی طور پر عوام کو سامنا ہے چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، میری حکومت منگل (11 فروری) کو کابینہ کے اجلاس میں عوام کے لیے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کی خاطر مختلف اقدامات کا اعلان کرے گی’۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ تمام متعلقہ حکومتی ادارے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی جامع تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں، قوم اطمینان رکھے ذمہ داروں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
یاد رہے کہ کہ گزشتہ ہفتے ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا تاھ کہ جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12 سال کی بلند ترین سطح 14.6 فیصد پر آگئی جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں یہ 12.6 فیصد تھی۔اس حوالے سے جاری ڈیٹا میں اشیائے خورونوش خاص طور پر گندم اور آٹے، دالوں، چینی، گڑ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق مہنگائی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 1.97 فیصد بڑھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 08-2007 میں سب سے زیادہ مہنگائی کی شرح 17 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ بالخصوص گندم، آٹا، دالیں، چینی، گڑ اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا سبب بنی۔ شہری علاقوں میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں جنوری کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر 19.5 فیصد جبکہ ماہانہ حساب سے 2.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یہ دیہی علاقوں میں بالترتیب 23.8 فیصد اور 3.4 فیصد بڑھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button