فیض حمید فیض آباد دھرنا کیس میں پیش ہونے سے گریزاں کیوں؟

فیض آباد دھرنا کمیشن میں طلبی کے باوجود پیش ہونے سے انکار کے بعد تحقیقاتی کمیشن نے ایک بار پھر فیض آباد دھرنا کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو طلب کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ طلبی کے باوجود فیض آباد دھرنا کمیشن میں انٹرسروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید کمیشن کے سامبے پیش نہیں ہوئے تھے جس پر انہیں دوسرا نوٹس جاری کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید دھرنا کمیشن کے نوٹس پر حاضر نہیں ہوئےتھے، انہیں شارٹ نوٹس پر رواں ہفتے بیان ریکارڈ کروانے کیلئے بلایا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ فیض حمیدکی طلبی کے لیے وزارت دفاع کے ذریعے دوسرا نوٹس جاری کیاگیا ہے۔ذرائع کے مطابق فیض آباد دھرنا کمیشن میں  جنرل فیض حمید کو آئندہ ہفتے طلب کیا گیا ہے۔جنرل (ر) فیض حمید آئندہ ہفتے کمیشن کے سامنے فیض آباد دھرنا کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ فیض حمید سابق سرکاری افسر کی حیثیت سے فیض آباد دھرنا کیس اور وجوہات پر شواہد اکٹھے کرنے میں کمیشن کی معاونت کریں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال نومبر میں نگران حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں عدالتی فیصلے پر عمل اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔3 رکنی کمیشن کے سامنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم فواد حسن فواد سمیت کئی افسران پیش ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کی جانب سے جنوری کے دوسرے ہفتے اپنی رپورٹ مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 15 نومبر کو سپریم کورٹ میں فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان کے 2017 کے دھرنے سے متعلق اس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، 2 ریٹائرڈ سابق آئی جیز طاہر عالم خان اور اختر شاہ شامل ہیں۔

 نوٹی فکیشن کے ٹی او آرز کے مطابق کمیشن کو فیض آباد دھرنا اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے لیے ٹی ایل پی کو فراہم کی گئی غیر قانونی مالی یا دیگر معاونت کی انکوائری کا کام سونپا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 15 نومبر کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریماکس دیے تھے کہ حکومت کا تشکیل کردہ انکوائری کمیشن سابق وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کو بلا کر بھی تفتیش کر سکتا ہے۔چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا تھا کہ کسی کو استثنیٰ نہیں، سب کو کمیشن بلا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ سچ اگلوانا ہو تو ایک تفتیشی بھی اگلوا لیتا ہے اور نہ اگلوانا ہو تو آئی جی بھی نہیں اگلوا سکتا، دھرنے کی تحقیقات کرنے والا انکوائری کمیشن سابق وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کو بلا کر بھی تفتیش کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمیشن جسے بلائے اور وہ نہ آئے تو کمیشن اسے گرفتار بھی کروا سکتا ہے، کمیشن آنکھوں میں دھول بھی بن سکتا ہے اور نیا ٹرینڈ بھی بنا سکتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی تھی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا۔حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا۔

Related Articles

Back to top button