قومی سلامتی کے مشیر کی زیر تسلط لوگوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی مذمت

وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان غیر قانونی تسلط میں لوگوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی سمیت تمام قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے، تمام سرحدوں سے اس کے خلاف منصوبہ بندی، حمایت اور اسپانسر پر مبنی دہشت گردی مسلط کی گئی جو بدقسمتی سے آج بھی ایک حقیقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جڑیں اور دہشت گرد جو خود کو دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے ملک اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مستقل طور پر فعال رہتے ہیں۔تاجکستان کے شہر دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کا اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر معید یوسف نے قومی سلامتی کے مشیروں (این ایس اے) کے 16ویں اجلاس سے خطاب کیا۔
اس موقع پر رکن ممالک، جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں، نے ایک مشترکہ پروٹوکول جاری کیا جس پر تمام قومی سلامتی کے مشیروں نے دستخط کیے۔
قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے دوشنبے میں اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈووال سے ملاقات نہیں کی۔
ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ دہشت گردی کا تعلق کسی نسل، مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں ہونا چاہیے۔
اپنے باضابطہ بیان میں مشیر نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کی بنیادی ترجیحات ایس سی او کی ہدایت کے مطابق ہیں۔
ڈاکٹر معید یوسف نے این ایس اے کے اجلاس کو بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دراصل افغانستان میں امن کے حصول میں ناکامی ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ملک تاریخی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
بدھ کو اختتام پذیر ہونے والے دو روزہ ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر ڈاکٹر معید یوسف نے روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نیکولائی پلاٹونووچ پٹروشیف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور پاک ۔ روس دوطرفہ تعلقات کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
روسی رہنما نے ڈاکٹر معید یوسف کو ماسکو کے دورے کی خصوصی دعوت دی جس میں وہ دوطرفہ مکالمے کی بنیاد پر بات چیت کریں گے۔

Related Articles

Back to top button