لال مسجد روڈ ٹریفک کیلئے بند، شہریوں کومشکلات کا سامنا


اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پر انتظامیہ کی جانب سے لال مسجد کی جانب جانے والی آبپارہ میلوڈی روڈ کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے کھولے جانے کے ایک ماہ بعد دوبارہ بند کر دیا گیا ہے جس سے مسافروں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ لال مسجد کے جہادیوں کے احتجاج کی وجہ سے سڑک کا ایک حصہ برسوں تک بند رہا، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر اسے گزشتہ ماہ دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
اب نتظامیہ نے میلوڈی چوک سے اتوار بازار کے قریب جانے والی سڑک کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے اور ٹریفک کو سڑک کی دوسری جانب موڑ دیا گیا ہے جس سے راستہ دو طرفہ ٹریفک زون میں تبدیل ہو گیا ہے، اس کے نتیجے میں خاص طور پر اسکول اور دفتری اوقات کے دوران ٹریفک جام کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ شہریوں کی جانب سے دائر درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سڑک کو کھولنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس محسن کیانی نے ہدایت کی تھی کہ مسائل اہم سڑکیں بلاک کرکے نہیں بلکہ بات چیت سے حل کیے جائیں۔ ایک متاثرہ شہری نذر احمد نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا سڑک کو بند کرنا کسی بھی مسئلے کا حل ہے؟ جی-6 کے رہائشی نذر نے کہا کہ ’اگر سکیورٹی کے مسائل ہیں تو انتظامیہ اور پولیس کو مطلوبہ سکیورٹی فراہم کرنی چاہیے اور انٹیلی جنس کو بہتر بنانا چاہیے لیکن سڑک کو بند کرنا کوئی حل نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ سازی کی ناقص اہلیت کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے اسے انتظامیہ کا غیر دانش مندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم آنے تک سڑک برسوں تک بند رہی لیکن اب انہوں نے ایک بار پھر سڑک بند کر دی ہے۔ ایک اور شہری عمیر علیم نے کہا کہ اب آبپارہ آنے اور جانے والی دونوں طرف کی ٹریفک سڑک کے صرف ایک طرف چل رہی ہے، یہ صورتحال ڈرائیونگ کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ملحقہ گلیوں سے گاڑیاں سڑک پر آتی ہیں اور پھر سڑک کے دوسری طرف آبپارہ کی جانب تیز موڑ لیتی ہیں جس سے حادثات کا خطرہ ہوتا ہے، شہری انتظامیہ سڑک کو بند کیے بغیر نام نہاد سکیورٹی مسائل حل کرنے کی اہل نہیں ہے’۔

اس حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ حال ہی میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے لال مسجد سے ملحقہ ایک مدرسے کی اس پرانی جگہ پر تعمیر نو شروع کرنے کی کوشش کی تھی جسے لال مسجد آپریشن کے بعد گرا کر جی-7 میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے انہیں روکنے اور کسی بھی امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سڑک کو بند کر دیا، تاہم یہ بندش عارضی ہے اور اسے جلد ہی دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے ایک افسر نے بتایا کہ امن و امان کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سڑک کو بلاک کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے پچھلے مہینے کے حکم کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد میں آپ کو کچھ بتا سکتا ہوں’۔ دوبارہ رابطہ کرنے پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ سڑک اتوار کی رات تک ٹریفک کے لیے کھل جائے گی، تاہم یہ سڑک ابھی تک بند ہے۔

Related Articles

Back to top button