لاہور میں اغوا ہونے والی لڑکی نے اپنی جان کیسے بچائی؟


آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اس سے فائدہ حاصل کرنے کا ہنر ہی اس سے لگائو کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے، اور ایسا ہی کچھ لاہور میں حال ہی میں اغوا ہونیوالی ایک لڑکی نے بھی کیا، جس کی حاضر دماغی اور موبائل فون کے بروقت استعمال نے اس کی جان بچا لی۔ 18 جولائی کی شام پانچ بجے کا وقت تھا جب شمائلہ لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس کے فیز فائیو میں دفتر سے چھٹی کے بعد گھر جانے کے ارادے سے باہر نکلیں۔ وہ ہر روز دفتر سے نکلتے ہی اپنے خاوند کو فون پر ایک پیغام بھیج کر مطلع کر دیتی تھیں کہ وہ گھر کیلئے روانہ ہو رہی ہیں، اس دن بھی شمائلہ نے ایسا ہی کیا۔ لیکن اس کے بعد کے لمحات نے اس دن کو غیر معمولی بنا دیا، شمائلہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان پر کیا بیتنے والی ہے۔ لیکن اس دوران ان کی حاضر دماغی اور جدید ٹیکنالوجی یوں ان کے کام آئی کہ وہ خود کو اغوا کاروں کے چنگل سے نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔

اس وقوعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی شمائلہ اپنی گاڑی میں بیٹھتی ہیں، ایک سفید رنگ کی گاڑی ساتھ آ کر رکتی ہے، شمائلہ اس گاڑی کی موجودگی سے بے خبر گاڑی میں بیٹھ کر ایک ایسی غلطی کرتی ہیں جس کا فائدہ ملزمان اُٹھاتے ہیں یعنی گاڑی کو لاک نہ کرنا۔ دوسری گاڑی میں سے ایک شخص کو شمائلہ کی گاڑی کے قریب آتے اور پھر اچانک پچھلا دروازہ کھول کر اندر بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے جو فوری دروازہ بند کر لیتا ہے۔ شمائلہ گھبرا کر اپنا ڈرائیونگ سیٹ والا دروازہ کھولتی ہیں تو ایک دوسرا شخص ان کی جانب لپکتا ہے جو انہیں ٹانگوں سے پکڑ کر پچھلی نشست پر دھکیل دیتا ہے اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی بھگا دیتا ہے۔ سی سی ٹی وی کی فوٹیج کے مطابق جس گاڑی سے ملزمان اترے تھے، وہ بھی ان کے پیچھے ہی روانہ ہو جاتی ہے۔

اس واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے شمائلہ احسن نے بتایا کہ جب دونوں ملزمان نے ان کو سر اور گلے سے دبوچ کر گاڑی کی پچھلی نشست پر پھینکا تب انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے موبائل فون کار کی پچھلی سیٹ کے نیچے دھکیل دیا۔ شمائلہ کے اغواء کار ان سے مسلسل پوچھتے رہے کہ فون کہاں ہے، لیکن شمائلہ نے کہا کہ ان کا فون کار سے باہر گر گیا تھا، بعد میں اسی فون کی مدد سے انہوں نے اپنے شوہر سے رابطہ کیا۔ شمائلہ کے بقول اس وقت اللہ نے ہی میرے ذہن میں یہ بات ڈالی تھی کہ ایسا کروں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے موقع ملتے ہی سیٹ کے نیچے چھپائے فون سے اپنے خاوند کو لائیو لوکیشن بھیجی اور help کا پیغام لکھ کر بھیجا۔ یہی وہ حاضر دماغی اور ٹیکنالوجی کا استعمال تھا جو شمائلہ کو بچانے میں معاون ثابت ہوا۔

اس کے بعد شمائلہ نے خاموشی سے اپنے خاوند کا فون نمبر ڈائل کر کے اپنا موبائل سائلینٹ پر لگا دیا تاکہ وہ اغوا کاروں کی گفتگو سنتے رہیں اور انہیں صورت حال کا علم رہے۔ یوں گاڑی میں ہونے والی تمام گفتگو ان کے خاوند تک پہنچتی رہی، شمائلہ کے شوہر جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، اس روز معمول کے مطابق اپنے دفتری کاموں میں مصروف تھے، جب ان کو اپنی بیوی کا پیغام ملا۔ احسن کے مطابق گوگل ٹریکنگ سے پتا چلا کہ ملزمان شمائلہ کو نواز شریف انٹرچینج اور فیروز پور انٹر چینج کے درمیان تقریباً 50 منٹ تک گھماتے رہے، شمائلہ بتاتی ہیں کہ ملزمان کسی سے فون پر رابطے میں تھے، ڈرائیونگ کرنے والے شخص کو ایک فون آیا جس میں اسے کوئی سمجھا رہا تھا کہ گاڑی میں کچھ ہے جس کی وجہ سے شاید ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ شمائلہ کے مطابق اس فون کے بعد ملزمان نے ان کا سکارف اتار کر آنکھوں پر باندھ دیا، اس کے تھوڑی دیر بعد ملزمان ان کو سٹیٹ لائف ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس پھینک کر فرار ہوگئے جہاں ان کے شوہر پہنچے اور ان کو گھر لے آئے۔

پولیس کے مطابق اس گروہ نے اب تک 250 سے زائد وارداتیں انجام دی ہیں اور صرف اس سال 70 سے زائد گاڑیاں چھینی ہیں، احسن نے بتایا اگر خدانخواستہ فون کی لوکیشن آن نہ ہوتی تو کیا پتا ہم اب تک شمائلہ کو ڈھونڈ رہے ہوتے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کامران عادل کے مطابق ابھی تک واردات میں چھینی گئی گاڑی بازیاب نہیں ہوسکی، گروہ کے بارے میں کافی معلومات مل چکی ہیں اور جلد بریک تھرو متوقع ہے، یہ گروہ گاڑیاں چھیننے کے علاوہ خیبر پختونخوا میں پولیس اور دیگر لوگوں کے قتل اور زخمی کرنے میں بھی ملوث پایا گیا ہے، ملزمان بہت شاطر کرمنلز ہیں، یہ باقاعدہ ریکی کر کے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں، ہمیں اس گروہ کے سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت مل چکے ہیں، بہت جلد یہ تمام لوگ ہماری گرفت میں ہوں گے۔ کامران عادل کا کہنا تھا کہ کیس حل ہونے کے فوری بعد وہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں گے جنہوں نے ابتداء میں اس کیس میں سست روی کا مظاہرہ کیا تھا۔

دوسری طرف شمائلہ، جنہوں نے خود بھی قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے، اب تک خوفزدہ ہیں، اور بتاتی ہیں کہ اس واقعے کے بعد سے انہیں خوف کے مارے رات کو نیند نہیں آتی۔ لیکن پولیس کو کوئی پرواہ نہیں کہ ان ملزمان کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دلوائیں، ان کے مطابق پولیس کی ناکامی کی وجہ سے اس گروہ کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ وارداتیں انجام دیتے وقت وہ اپنی شناخت تک نہیں چھپاتے۔

Related Articles

Back to top button