لاہور کا تاریخی جین مندر تین دہائیوں بعد دوبارہ بحال


1992 کے دوران بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے بابری مسجد کو شہید کرنے کے جواب میں لاہور میں گرائے گئے جین مندر کو تین دہائیوں کے بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے، پاکستان ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی نے جین مندر کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش پر پنجاب حکومت اور متروکہ وقف املاک بورڈ کا شکریہ ادا کیا ہے، کمیٹی کے مطابق ملک بھر میں جن مندروں کو کئی برس قبل نقصان پہنچا تھا ان کی دوبارہ تعمیر ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا جس کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے ہر ممکن اقدامات کر کے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہورمیں اب جین مذہب کا ماننے والا کوئی خاندان آباد نہیں ہے، لاہورمیں ایک اہم ہندو رہنما نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض لوگ جین مت کے ماننے والوں کو بھی ہندو سمجھتے ہیں جوکہ درست نہیں ہے، جین مت اور ہندو دھرم میں کافی فرق ہے، جین مت میں مورتی کی پوجا نہیں کی جاتی ہے۔جین ہندوستان کا چھٹا سب سے بڑا مذہب ہے۔ لاہور کے دیگر مندروں کی طرح جین مندر کو بھی بابری مسجد کو گرانے کے ردعمل میں ہونے والی جوابی کارروائی میں توڑ دیا گیا تھا۔ مشتعل ہجوم کو کوئی بتانے والا نہیں تھا کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والے جین مذہب کے لوگ نہیں بلکہ ہندو تھے۔ صرف مندر کا نام سن کر لوگوں نے اس عمارت کو گرا دیا۔ ایک مقامی رہائشی کے بقول انہیں یہ عمارت گرانے میں تین دن کا وقت لگا۔ دراصل جین دھرم کے پانچ اہم اصول یہ ہیں: عدم تشدد، سچ گوئی، چوری نہ کرنا، پاکیزگی اور دولت کی لالچ سے خود کو دور رکھنا۔ اس دھرم کے پیروکار ماحول دوست تصور کیے جاتے تھے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے ترجمان عامر ہاشمی نے بتایا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اقلیتوں کو ہر قسم کی آزادی ہے، پاکستان میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے، اس بڑے اقدام سے پاکستان میں سیاحت کا رجحان بھی بڑھے گا اور اس وجہ سے ہی پاکستان کی معیشت کو سہارا بھی ملے گا۔ عامر ہاشمی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر متروکہ وقف املاک بورڈ نے لاہور میں دو قدیم مندروں جین مندر اور نیلا گنبد مندر کی بحالی کا کام شروع کیا تھا، ریکارڈ ٹائم میں مندر کے تمام کام مکمل کئے گئے ہیں، جس پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے متعلقہ افسران کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ جین اور نیلا گنبد مندروں کی بحالی کے لئے اقداما ت کریں، رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی، جو اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے کمیشن کے رکن بھی ہیں کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے آئین پر عمل پیرا ہے جس میں تمام مذاہب کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے، میں فخر محسوس کر رہا ہوں کہ ہم دوسروں کیلئے مثالیں قائم کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button