‘وعدوں کی عدم پاسداری’ کے باوجود مسلم لیگ (ق) کا پی ٹی آئی پر اعتماد

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابی حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی سے متعلق اپنے اہم اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے تحفظات کو دور کردیے۔
پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ ‘وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے حال ہی میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے ملاقات کی اور ان کے 5 اراکین قومی اسمبلی کے انتخابی حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے بتایا کہ فی الحال پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارے کوئی مسائل نہیں ہیں اور ہم ان کے ساتھ چلیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اگرچہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ہونے والے تمام 2018 کے وعدوں کی پاسداری نہیں کی پھر بھی پارٹی 2023 تک اس کی حلیف رہی گی اور اس کے بعد کون جانتا ہے کیا ہوگا۔
پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے کے تحت مسلم لیگ (ق) کو مرکز اور پنجاب میں دو دو وزارتیں دی جانی تھیں تاہم پی ٹی آئی تاحال اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرسکی لیکن مسلم لیگ (ق) کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزارتوں کے لیے تحریک انصاف پر دباؤ چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروز الٰہی کی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کے ساتھ ملاقاتیں خیر سگالی کا ایک حصہ تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے لیکن اس بات پر نہیں کہ دونوں جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف متحد ہوجائیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے اپنے قائدین کی منظوری پر 3 برس میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی اور اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر اور ایوان کی کارروائی موثر اندازمیں چلانے کی کوششوں کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے علاج معالجے کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے اور بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کے حق میں بات کرنے پر شریف برادران اور چوہدری برادران کے مابین تلخی کم ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ‘چونکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اس وقت انہیں مسلم لیگ (ق) کی ضرورت نہیں ہےتاہم کون جانتا ہے کہ کب نئے انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے اور سیاسی کھلاڑیوں اور پارٹیوں کا اتحاد بحال ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں سے مستقبل کی صف بندی کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ پارٹی کی قیادت نے پہلے ہی وزیراعلیٰ بزدار کے خلاف عدم اعتماد کے اقدام پر تبادلہ خیال کیا تھا لیکن انہوں نے اس بنیاد پر اس کو مسترد کردیا کہ 2023 کے انتخابات میں زیادہ وقت باقی نہیں ہے اور اس مشق سے جمہوری بالادستی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

Related Articles

Back to top button