وفاقی کابینہ کا 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث ملک بھر میں نافذ لاک ڈاؤن میں 9 مئی کے بعد مزید نرمی کرنے پراتفاق کرلیا.وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کا فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ 6 مئی کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہو گا.
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کی تجویز پیش کردی گئی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی و سیاسی اور کورونا صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا مکمل ختم کرنے پر حتمی مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور ارکان نے لاک ڈاؤن نرم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے ارکان کی اکثریت نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم کے مؤقف سے اتفاق کیا جبکہ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ چاہتا ہوں لاک ڈاؤن جلد ختم ہو تاہم احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، کاروبارتو کھل جائیں گے لیکن طے کردہ ضابطہ کار پر ملدرآمد بھی کرانا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر میں ٹرین سروس شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تاہم لاک ڈاؤن میں نرمی، ٹرانسپورٹ، ریلوے سے متلعق حتمی فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے 6 مئی کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔
کابینہ نے بھارت سے 429 ضروری ادویات درآمد کرنے کی تجویز مسترد کردی جبکہ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کشمیرمیں بھارت مظالم ڈھارہا ہے لہٰذا ایسے ملک سے تجارت نہیں ہوسکتی۔ذرائع کے کا کہنا ہے کہ کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پرعملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔وفاقی کابینہ نے دو ماہ تک بغیر وارنشنگ کے نوٹ چھاپنے کیلئے سمری مؤخر کردی اور ارکان نے رائے دی کہ بغیر وارنشنگ کے لگے گا کہ جعلی نوٹ چھاپے گئے ہیں۔
کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وزراء نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا ریلیف فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا۔شبلی فراز نے بتایا کہ گزشتہ حکومت میں 76 افراد کی غیر قانونی بھرتی کی گئی، وزیراعظم نے کرمنل جسٹس سسٹم سے متعلق اصلاحات کو مکمل کرنے، تھانوں کے ماحول کو بہتر اور عوام دوست بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ملک میں تیار ہینڈ سینیٹائیزرز کو برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے کل این سی او سی کا اجلاس ہوگا جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے، اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق وزرائے اعلیٰ سے رائے لی جائے گی۔
شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ گھر میں بیٹھ کر جیت سکتے ہیں، لاک ڈاؤن میں اگرنرمی ہوئی تو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، اگر عوام نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑا تو نقصان ہوگا، انڈسٹری اور کاروبار کھولنے والوں کو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا،دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی ایس او پیز کے تحت کیا گیا ہے۔
شبلی فراز نے کہا کہ شریف خاندان نے ہمیشہ سارے کام اپنی بھلائی کے لیے کیے، اب مشکل وقت میں نواز شریف کو پاکستان آنا چاہیے۔ شہباز شریف عوام کی خاطر آئے لیکن لیپ ٹاپ کے سامنے ہی رہتے ہیں۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں اللہ سب کو حفظ وامان میں رکھے۔ گزشتہ ادوار کی لوٹ مار کی وجہ سے آج ہیلتھ کا نظام بیٹھ چکا ہے۔ کورونا وائرس سے متعلق بدھ کو اجلاس ہوگا جس میں تمام وزرائے اعلیٰ شرکت کرینگے۔ اجلاس میں کورونا کی صورتحال اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے فیصلے ہونگے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ بدقسمتی سے حقیقت ہے ماہ رمضان میں قیمتوں کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا مزدور اور دہاڑی دار طبقے کا بھی خیال رکھنا ہے۔
حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چھ، چھ صوبائی وزیر کام کرنے کے بجائے پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ لاڑکانہ اور سندھ کی حالت آج سے 50 سال پہلے بہتر تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اگر تعاون نہیں کر سکتی تو روڑے نہ اٹکائے اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ نہ کرے۔ ایسے لوگوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ سعید غنی کہتے ہیں حکومت تین سیٹوں پر کھڑی ہے لیکن مجھے ڈر ہے پیپلز پارٹی کہیں لاڑکانہ تک محدود نہ ہو جائے۔ سعید غنی صاحب بتائیں کہ پیپلز پارٹی پورے ملک کی جماعت تھی ایک صوبے تک کیوں محدود ہو گئی؟ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں نے انہی چیزوں سے عوام کو محروم کیا۔شریف خاندان کے بارے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بڑے پراجیکٹ سے انہوں نے مالی فائدے حاصل کیے۔ وقت آ گیا ہے جو انہوں نے کیا انصاف ہو اور سزا ملے۔ نواز شریف بڑے آرام سے اربوں مالیت کے فلیٹ میں رہ رہے ہیں۔ انھیں مشکل حالات میں پاکستان آنا چاہیے۔ شہباز شریف تو عوام کی خاطر آئے تھے لیکن لیپ ٹاپ کے سامنے ہوتے ہیں۔ لیپ ٹاپ سے کام تو وہ لندن سے بھی کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شریف خاندان نے سارے کام اپنے خاندان کی بھلائی کے لیے کیے۔ افسوس کی بات ہے کہ عاجزی کے ساتھ قانون کے سامنے پیش ہونے کے بجائے چیلنج کر رہے ہیں۔ ملک سے اپنے اثاثے باہر بھیجے گئے۔ شہباز شریف کو نیب نے بلایا اگر قانون کے سامنے پیش ہونے ہر ہتک محسوس کرتے ہیں تو مطلب قانون کی پرواہ نہیں، انہوں نے تاثر دیا کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ ان کا مائنڈ سیٹ بنیادی طور پر بادشاہت کا ہے۔ مریم اورنگزیب نے کل بڑے غصے کا اظہار کیا ایسے لگا جیسے بہت ہی ایماندار شخص کی پگڑی اچھالی گئی۔لاک ڈاؤن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمہوری ملک میں ڈنڈا لیکر سختی نہیں کر سکتے، ہم درخواست ہی کر سکتے ہیں کہ حفاظتی تدابیر پر عمل کیا جائے۔ جب کاروبار کھلے گا تو حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانا ہوگا اور اس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو حالات خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ ایسی جنگ ہے جو گھر بیٹھ کر جیت سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے وفاق نے 9 مئی تک لاک ڈاؤن کا اعلان کررکھا ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے مزید 15 روز کیلئے 19 مئی تک لاک ڈاؤن بڑھا دیا ہے اور سندھ حکومت پہلے ہی لاک ڈاؤن پورے رمضان جاری رکھنے کا اعلان کرچکی ہے۔
دوسری جانب کورونا سے اموات اور متاثرہ کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں کورونا سے اب تک 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے 21 ہزار سے زائد ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button