وفاق سے بیان بازی کا مقصد سندھ حکومت کے کام کو مبہم کرنا تھا

سندھ کی صوبائی حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے کی گئی بیان بازی کا مقصد سندھ حکومت کی کوششوں کو مبہم کرنا تھا۔
ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور پی پی پی قیادت کے خلاف مہم شروع کردی گئی اور پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے بیان بازی شروع کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیان بازی میں مرکزی مسئلہ شاید دب گیا اور مقصد یہی تھا کہ سندھ حکومت کی کوششوں کو مبہم کردیا جائے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوروناوائرس کے خلاف حکمت عملی 26 فروری سے پہلے شروع کیا اور کہا چین سے آنے والے افراد کے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوری اور فروری میں وہاں سے آنے والے افراد کے ٹیسٹ کیے جن میں سے کوئی مثبت نہیں آیا، 26 فروی کو پہلا کیس آیا تو اسی روز سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنائی جس میں بیوروکریسی، وزرا، قانون نافذ کرنے والے ادارے، وفاقی نمائندے اور پروفیشنل ڈاکٹر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے جو فیصلے کیے وہ اس ٹاسک فورس سے مشاورت سے کیے اور حکومت کی حکمت عملی تین حصوں میں تقسیم تھی۔ صوبائی حکومت کی حکمت عملی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹریسنگ، ٹیسٹنگ اور ٹریٹمنٹ کو ہم نے اپنا بنیادی اور حکمت عملی کا محور بنا کر کام شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ باہر سے آنے والے ہزاروں افراد کو ٹریس کیا گیا اور 26 فروری سے اب تک 64 ہزار 52 ایسے افراد ہیں جن کی سندھ میں ایئرپورٹ پر اسکریننگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ‘تفتان سرحد سے آنے والے زائرین کےلیے کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، کوٹھر، لاڑکانہ اور سکھر اضلاع میں لیبر کالونیوں میں قرنطینہ سہولت بنائی گئی’۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ایک ہزار 388 زائرین کو سندھ میں سکھر، لاڑکانہ اور کراچی میں ناردرن بائی پاس میں رکھے گئے اور وہ لوگ کووڈ منفی ہونے اور قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 280 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جن کو ان مقامات میں آئسولیٹ کیا گیا اور وہ صحت یاب ہو کر واپس جاچکے ہیں اور ان کے دو مرتبہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکھر، لاڑکانہ اور کراچی کی انتظامیہ، ڈاکٹر طبی عملہ اور مراکزمیں کام کرنے والے دیگر افراد داد کی مستحق ہے اور میں ان کو زبردست خراج تحسین پیش کروں گا۔
زائرین سے کورونا کے پھیلاؤ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں 280 افراد میں سے صرف 2 مقامی طور پر منتقلی کے کیسز سامنے آئے، اور وہ دو لوگ بھی صحت یاب ہوچکے ہیں۔ سندھ حکومت کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک کامیاب کہانی اور پورے پاکستانی میں یہ ہونا چاہیے اورمیری حکومت نے یہ کارنامہ کرکے دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں دوسرا گروپ تبلیغی بھائیوں کا تھا جن کی تعداد 5 ہزار 102 تھی اور ان تمام لوگوں کو فوری طور پر قرنطینہ بھیج دیا گیا اور ٹیسٹ کیے گئے 765 مثبت آئے اور باقی 4 ہزار 355 افراد کو اپنے صوبے اور اضلاع میں واپس کردیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘765 افراد میں سے ایک بڑا حصہ صحت یاب ہو کر چلا گیا ہے اور تبلیغی جماعت کے بھائیوں کا شکرگزار ہوں، جن کے تعاون کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا تھا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تیسرا بڑا گروہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد تھے، تقریباً ڈھائی ہزار ایسے افراد تھے جو واپس جانا چاہتے تھے’۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی وزیراعلیٰ سندھ سے بات ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ٹیسٹ کرنے کے بعد بھیجوا دیا جائے اور 50 فیصد ٹیسٹ منفی آنے کے بعد روانہ کیے جاچکے ہیں اورجو یہاں موجود ہیں وہ ہمارے مہمان ہیں ان کو بھی بھیج دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چوتھا گروپ مقامی منتقلی کا ہے جس کے حوالے سے ہم آگاہ کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ملک میں اس وقت تقریباً 22 ہزار لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں جبکہ اموات کی تعداد 500 سے تجاوز کرچکی ہے۔
سندھ میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور اس وقت ملک میں سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہے اور جہاں 8189 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 148 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button