پاکستانی موسم میں ڈرامائی تبدیلیاں خطرناک کیوں ہیں؟


رواں برس ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے موسم میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اس سال پاکستان میں موسم سرما کے بعد بہار کا موسم نہیں آیا بلکہ چار روز کے وقفے سے ہی موسم گرما کا آغاز ہوگیا۔ اب جون میں سخت گرمی کے مہینے میں شمالی علاوہ جات کے پہاڑی علاقوں میں غیر متوقع برفباری شروع ہو گئی ہے۔ ماضی میں بابو سر پہاڑی کے ٹاپ پر برفباری ہوتی رہتی ہے جبکہ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز پر بھی یہ سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ مگر جون، جولائی میں کبھی بھی پہاڑوں سے نیچے برف نہیں پڑتی، جون میں پڑنے والی برف اور درجہ حرارت کا اس حد تک کم ہونا مقامی لوگوں کے لیے بھی نئی بات ہے۔برفباری کے باعث گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع بابو سر ٹاپ کا راستہ بار بار بند ہو رہا یے، کچھ ایسی ہی اطلاعات وادی نیلم سے بھی موصول ہوئیں، اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی برفباری کی اطلاعات ہیں۔
محکمہ ماحولیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر قمر الزمان اس برفباری کو موسمی تبدیلی اور انتہائی شدید موسمی صورتحال قرار دیتے ہیں، ان کے مطابق ماضی میں جون میں برفباری کی کم ہی مثالیں موجود ہیں، محکمہ موسمیات پاکستان کے ترجمان ڈاکٹر ظہیر بابر کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود بلند و بالا پہاڑوں اور گلیشیئرز کی چوٹی پر جون کا مہینہ ہو یا مون سون وہاں پر بارش تو ہوتی ہی نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں مغربی اور بحیرہ عرب سے اٹھنے والا سلسلہ بہت شدید تھا، مغربی ہواؤں کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں، سندھ میں پری مون سون میں زیادہ بارشیں نہیں ہوتیں مگر خلافِ توقع ہم نے بارشیں دیکھی ہیں اس کی بڑی وجہ بحیرہ عرب سے اٹھنے والا سلسلہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہر زبیر احمد صدیقی کہتے ہیں کہ ہم موسمی رجحانات میں بھی تبدیلی دیکھ رہے ہیں، حالیہ مون سون میں ہم نے دیکھا کہ رجحان تبدیل ہوا، مغربی ہوائیں داخل ہوئی ہیں، پورے ملک ہی میں بارشیں اوسط سے زیادہ ہوئیں اور درجہ حرارت گر گیا، قہ بتاتے ہیں کہ اس مرتبہ مشاہدے میں آیا ہے کہ خلیج بنگال کی ہوائیں کم ہی پاکستان میں داخل ہوئی ہیں، پری مون سون کے دوران مغربی اور بحیرہ عرب کی ہوائیں چلتی رہی ہیں، بحیرہ عرب کی ہواؤں میں نمی ہوتی ہے۔
مغربی ہوائیں عموماً سردیوں میں چلتی ہیں، گرمیوں میں ایسا نہیں ہوتا، یہ ہوائیں درجہ حرارت کم کرتی ہیں، گلگت بلتستان میں عموماً مون سون نہیں ہوتا، وہاں پر خشکی رہتی ہے مگر اس مرتبہ مغربی ہواؤں کی وجہ سے پورے ملک میں ایکدم درجہ حرارت کم ہوا۔ جہاں موسم کی تبدیلی، برفباری اور کم درجہ سے پانی کے مسائل حل ہونے کا امکان ہے، وہیں کچھ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا یے کہ خلاف توقع زیادہ گرمی کی وجہ سے ہماری فصلیں اور پھل متاثر ہوئے ہیں۔ اس موسم کی زراعت اور پھلوں کو معمول کے گرم موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر معمول کا گرم موسم نہیں ہو گا تو زراعت اور پھلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اب مارچ، اپریل، مئی میں گرمی زیادہ پڑ جائے اور جون میں درجہ حرارت جنوری فروری والا ہو جائے تو اس کے انسانی جسم پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کئی ایسی بیماریاں ہیں جو سردیوں میں زیادہ پھیلتی ہیں اور گرمیوں میں ان کا زور ٹوٹ جاتا ہے، اب گرمیوں میں بھی درجہ حرارت کم ہو گا، اس سے براہ راست ہماری فوڈ سکیورٹی اور معاشیات متاثر ہونگی اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچے گا۔

Related Articles

Back to top button