ڈاکٹر فرقان کی کورونا سےموت پر، SIUT کا وضاحتی بیان جاری

کراچی میں مبینہ طور پر و ینٹی لیٹر نہ ملنے کے باعث کورونا سے ڈاکٹر فرقان کی موت پر سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) نے وضاحتی بیان جاری کردیا۔
ایس آئی یو ٹی کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر فرقان کی آمد سے متعلق ایس آئی یوٹی نے انکوائری کی جس میں ڈاکٹر فرقان کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ یا کورونا ریسیپشن پر آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایس آئی یو ٹی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کیمروں سےبھی ڈاکٹر فرقان کی آمد کا کوئی ثبوت نہیں ملا اس کے علاوہ سینئر فیکلٹی ممبران سمیت دیگر اسٹاف سے پوچھ گچھ کی گئی تاہم تحقیقات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں ڈاکٹر فرقان ایس آئی یو ٹی آئے ہی نہیں۔
واضح ر ہے کہ دو روز قبل شہر کے ایک نجی اسپتال میں خدمات انجام دینے والے 60 سالہ ڈاکٹر فرقان الحق مبینہ طور پر بروقت وینٹی لیٹر نہ ملنے کے باعث کورونا سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔
اس حوالے سے جنرل سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فرقان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد گھر میں ہی تھے مگر طبیعت بگڑنے پر انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وینٹی لیٹر کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے وہ انتقال کرگئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button