کراچی میں شدید گرمی ، پارہ 39 ڈگری تک پہنچ گیا

کراچی آج شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا اور درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
شہر قائد میں شدید گرمی کے باعث روزے داردہرے امتحان کا شکار رہے، سورج دن بھر آگ برساتا رہا اور درجہ حرارت 39 ڈگری تک پہنچ گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج ہوا میں نمی کا تناسب 55 فیصد رہا اور شمال مغربی ریگستانی علاقوں سےگرم اور خشک ہوائیں چلتی رہیں،جب کہ کل درجہ حرارت 40 سے42 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں کل سے ہیٹ ویو کا سلسلہ شروع ہورہا ہے اور شہر میں گرمی کی لہرمزید دو روز جاری رہے گی ،8 مئی تک شہر معتدل ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہے گا جب کہ 6 اور 7 مئی کو پارہ 42 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 15 مئی کو ایک اور ہیٹ ویو آنے کا امکان ہے۔
سندھ کے دیگر شہر بھی گرمی کی لپیٹ میں ہیں، نواب شاہ میں درجہ حرارت 43 ، مٹھی 42 اورلاڑکانہ میں درجہ حرارت 40 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔
یاد رہے کہ ہیٹ اسٹروک اُس وقت ہوتا ہے جب انسانی جسم اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے تیزی سے پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کو باہر سے ٹھنڈک پہنچائی جا سکے لیکن پسینے کے اخراج کی صورت میں پیدا ہونے والی پانی کی اندرونی کمی کو فوراً پورا نہ کیا جائے تو پانی اور نمکیات کی کمی کے باعث جسم کا قدرتی کولنگ سسٹم ناکارہ ہوجاتا ہے اور انسان تھکاوٹ، سرسام یا لو لگ جانے جیسے جان لیوا امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔
حالیہ گرمی کی لہر چونکہ رمضان المبارک کے دوران آ رہی ہے لہٰذا روزے کی حالت میں ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ سحر اور افطار میں ٹھنڈی غذاؤں کا استعمال کریں، مشروبات اور پانی کا استعمال زیادہ کریں جب کہ مرغن کھانوں سے گریز کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بلا ضرورت سائے دار جگہ سے مت نکلیں اور اگر مجبوری میں باہر نکلنا پڑے تو احتیاطی تدابیر اختیار کریں، باہر نکلتے وقت سر اور کندھے پر گیلا کپڑا رکھیں اور ہلکے رنگوں والے کپڑے پہنیں، جہاں تک ممکن ہو رش سے دور اور سایہ دار مقام پر رہیں، سورج سے بچنے کے لیے چھتری کا استعمال ضرور کریں، چکر آنے،کمزوری محسوس ہونے یا زیادہ پسینہ آنے پر سایہ دار جگہ پررک جائیں۔
ماہرین نے شدید گرمی میں 4 سال سے کم عمر بچے اور 60 سال سے زائد افراد کو خصوصی احتیاط کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، ذیابیطس، امراض قلب اور ہائپر ٹینشن یا فشار خون کی زیادتی کے مریض شدید گرمی میں باہر نہ نکلیں۔وہ افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں انہیں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور انہیں مسلسل اپنے جسم پر پانی ڈالتے رہنا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button