کراچی کے شہری ’’پیپلز بس سروس‘‘ کے بارے کیا کہتے ہیں؟

کم کرایے اور پر سکون اے سی سروس کے ساتھ کراچی میں شروع کی جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ ’’پیپلز بس سروس‘‘ کے 11 میں سے 8 روٹس فعال کر دیئے گئے ہیں، اور باقی 3 روٹس پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس پر شہریوں کی بڑی تعداد نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔

پیپلز بس سروس کے غیر فعال روٹس میں نارتھ کراچی سے ڈاک یارڈ، سرجانی سے مسرور بیس اور موسمیات سے بلدیہ ٹاؤن تک کے روٹس شامل ہیں، فعال شدہ روٹس میں ماڈل کالونی سے ٹاور، نارتھ کراچی سے انڈس ہسپتال، ناگن چورنگی سے سنگر چورنگی، گلشنِ بہار اورنگی سے شان چورنگی، گلشن حدید سے ملیر کینٹ چیک پوسٹ نمبر پانچ اور نمائش چورنگی سے میکڈونلڈز سی ویو کلفٹن تک کے روٹس شامل ہیں۔
ٹرانسپورٹ سیکریٹری عبدالحلیم شیخ کے مطابق کراچی میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے جس کے باعث تین روٹس پر بسیں چلانا انتہائی مشکل ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ غیر فعال ہیں، ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کیلئے جلد مزید ہائبرڈ اور الیکٹرک بسیں منگوائی جائیں گی، منصوبے کا نام سندھ انٹرا ڈسٹرکٹ پیپلز بس سروس رکھا گیا ہے۔
کراچی کے علاقے یو پی موڑ میں سات ایکڑ اراضی کا بس ڈیپو بھی بنایا گیا ہے، کراچی میں پیپلز بس سروس کے تین اور بس ڈیپو تعمیر کیے جائیں گے جن میں مہران، کے ٹی سی، سرجانی ٹاؤن اور گلشن بہار بس ڈیپو شامل ہیں۔
پیپلز بس سروس کے دوسرے مرحلے میں لاڑکانہ میں 10.3 کلو میٹر کا روٹ شروع کیا جائے گا جس کیلئے بسوں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 16 کر دی گئی ہے، ابتدا میں لاڑکانہ کے علاقے ناکہ سے الٰہ آباد تک کا روٹ فعال کیا جائے گا جب کہ دیگر روٹس پر ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ کی جانب سے فراہم کئی جانے والی تجاویز کے بعد ہی غور کیا جائے گا۔
کراچی اور لاڑکانہ کے علاوہ پیپلز بس سروس کو جلد ہی سندھ کے شہر حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بےنظیر آباد اور سکھر میں بھی شروع کیا جائے گا۔ پیپلز بسیں 14 میٹر طویل ہیں، ان میں سے ہر ایک میں 30 نشستیں ہیں، ایک بس میں تقریباً 100 افراد کے کھڑے ہو کر سفر کرنے کی گنجائش بھی ہے، بسوں میں مردوں، خواتین، فیملیز اور معذور افراد کی الگ الگ نشستیں ہیں، سٹاپس اور روٹس کے حوالے سے بسوں کے اندر دی ہوئی سکرین پر معلومات دی جاتی ہے، نشستوں کے ساتھ یو ایس بی چارجنگ پورٹس ہیں جن میں کیبل لگا کر موبائل یا دیگر الیکٹرانک آلات کو چارج کیا جا سکتا ہے، پیپلز بسوں کا کم سے کم کرایہ 15 روپے اور زیادہ سے زیادہ 55 روپے ہے۔
کراچی کے شہری سرجانی ٹاؤن سے نمائش چورنگی تک گرین لائن سے صرف 55 روپے میں سفر کرسکتے ہیں اور پھر نمائش چورنگی سے میکڈونلڈز سی ویو روڈ کلفٹن تک پیپلز بس میں صرف 50 روپے میں سفر کر سکیں گے، عام طور پر اس پورے سفر میں ایک گھنٹہ لگتا ہے اور 600 سے 1000 روپے تک کا کرایہ لگ جاتا ہے مگر اب شہریوں کو دونوں بسوں کے سنگم سے یہ سہولت حاصل ہوگی۔
کراچی کے شہری نئی بس سروس سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، طالبہ وانیا نے بتایا کہ کراچی والوں کو کافی صبر کرنے کے بعد اتنی اچھی بسیں ملی ہیں، مقامی مزدور محمد اشرف کے مطابق میں ایک دن اس بس میں گیا اور میرے ایک طرف کے 55 روپے لگے، میں نے پورا سفر آرام دہ سیٹ پر بیٹھ کر طے کیا۔
ماڈل کالونی کی رہائشی ثمینہ نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ پیپلز بس سروس میں سیر کے لیے ریگل چوک تک گئیں تھیں، ہم جب پیپلز بس میں بیٹھے تو مجھے ایسا لگا جیسے ہم کسی اور ملک میں آگئے ہیں، شفیق موڑ کے رہائشی محمد حماد احمد نے بتایا کہ میں آفس جانے کے لیے اسی بس سے ہی سفر کرتا ہوں، میں عام بسوں کے مقابلے میں اس بس کا انتخاب کرنا پسند کرتا ہوں کیوںکہ یہ بس کافی آرام دہ ہے مگر میرے علاوہ اور لوگ بھی اب عام بسوں کو چھوڑ کر اس بس میں سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے صبح کے وقت رش لگ جاتا ہے اور میں اس بس میں بھی نہیں چڑھ پاتا مگر ہر 20 منٹ کے وقفے کے بعد دوسری بس آتی ہے تو مجھے چڑھنے کا موقع مل جاتا ہے مگر ان لال بسوں کا کیا فائدہ اگر معذور افراد کے لیے ان میں بھی کوئی ریلیف نہیں۔

Related Articles

Back to top button