کمال فن کی نظیر .. ضیا محی الدین بھی رخصت ہوئے

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ صدا کار ، ہدایت کار، اداکار اور میزبان ضیاء محی الدین کراچی میں انتقال کر گئے۔ ضیاء محی الدین 20 جون 1931ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، ان کی عمر 92 برس رہی،ضیاء محی الدین طبیعت کی ناسازی کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔گزشتہ دنوں ضیاء محی الدین کو بخار اور پیٹ میں شدید تکلیف کے باعث اسپتال داخل کیا گیا جہاں پر الٹرا ساؤنڈ کیے جانے پر معلوم ہوا ہے کہ ان کی آنت میں خرابی پیدا ہوئی ہے جس پر ان کی آنت کا آپریشن کیا گیا۔آپریشن کے بعد ضیاء محی الدین کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دورانِ علاج انتقال کر گئے۔

ضیاء محی الدین کے والد کو پاکستان کی پہلی فلم ’تیری یاد‘ کےمصنف اور مکالمہ نگار ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔اردو کے ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی نے ضیا محی الدین کے بارے میں کہا تھا کہ رتن ناتھ سرشار، فیض احمد فیض اور پطرس کی تصانیف کے شہ پارے ضیا محی الدین نے پڑھے ہیں وہ جہاں لکھنے والے کے کمال فن کا نمونہ ہیں وہاں پڑھنے اور پیش کرنے والے کے حسن انتخاب، سخن فہمی، نکتہ سمجھنے اور سمجھانے کی اہلیت، لفظ کا مزاج اور لہجہ اور لہجے کا ٹھاٹ پہچان کی صلاحیت کا صحیح معنوں میں منہ بولتا ثبوت ہے۔ضیا محی الدین واحد ادبی شخصیت ہیں جن کے پڑھنے اور بولنے کے ڈھنگ کو عالمی شہرت نصیب ہوئی۔

ضیاء محی الدین نے 50ء کی دہائی میں لندن کے رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی، 1962ء میں انہوں نے مشہور فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں یادگار کردار ادا کیا۔ضیاء محی الدین نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری سے کام کا آغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کے تھیٹر کے لیے بھی کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے۔وہ براڈ وے کی زینت بننے والے جنوبی ایشیاء کے پہلے اداکار تھے، 70ء کی دہائی میں انہوں نے پی ٹی وی سے ضیاء محی الدین شو کے نام سے منفرد پروگرام شروع کیا۔ضیاء محی الدین 1973ء میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کے ڈائریکٹر مقرر کر دیے گئے، جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کے بعد وہ واپس برطانیہ چلے گئے، 90ء کی دہائی میں انہوں نے مستقل پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ضیاء محی الدین نے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ میں کالم بھی لکھے، ان کی کتاب “A carrot is a carrot” ایک مکمل ادبی شہ پارہ ہے۔ حکومت کی جانب سے ضیاء محی الدین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 2003ء میں ستارۂ امتیاز اور 2012ء میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے بھی ضیا محی الدین کے انتقال پر تعزیت کااظہارکیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے ان کے مخصوص انداز نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں دھوم مچائی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی ممتاز اداکار اور معروف ہدایت کار ضیاء محی الدین کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ انہیں ضیاء محی الدین کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا ممتاز اداکار کا انتقال دنیائے فن کے لیے کسی سانحے سے کم نہیں ہے، سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی ضیاء محی الدین کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیاہے۔

 

Related Articles

Back to top button