کیا کاریں مہنگی ہونے کی وجہ ڈالر کا مہنگا ہونا ہے؟


پاکستان میں کاروں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس اضافے کا تسلسل گذشتہ کئی ماہ سے جاری ہے جس کی بنیادی وجہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت بتائی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے سے کاریں بنانے والی صنعتوں کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
مارچ کے مہینے کے آخری ہفتوں میں پاکستان میں ٹویوٹا کی گاڑیاں بنانے والی انڈس موٹر کمپنی نے اپنے مختلف ماڈلز کی گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً تین لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا جبکہ ہنڈا کمپنی کی جانب سے تیار کردہ مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں ڈھائی لاکھ سے چار لاکھ تک اضافہ سامنے آیا۔ اسی طرح ’کِیا کار‘ بنانے والی لکی موٹرز کی تیار کردہ گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں رعایت دی گئی تھی تاکہ ایک عام آدمی کے لیے چھوٹی گاڑی کی قیمت کو کم کیا جا سکے تاہم رواں سال جنوری میں آئی ایم ایف کی شرائط پر بننے والے منی بجٹ میں ٹیکسوں میں دی گئی اس رعایت کو ختم کر دیا گیا۔
کاریں تیار کرنے والی صنعت کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو کاروباری لاگت سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ کار ساز صنعت کا موقف ہے کہ ملک میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے ان کی کاروباری اور کار بنانے کی لاگت کو بڑھا دیا ہے جس کی وجہ ان کے لیے کم قیمت پر گاڑیاں بیچنا ممکن نہیں ہے۔
ڈارسن سیکوریٹز میں آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار ولی نگریہ نے بتایا کہ دنیا میں سٹیل کی قیمت بڑھی ہے جو پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی صنعت درآمد کرتی ہے۔ ’سٹیل کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ملکی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھی ہے۔‘
انھوں نے کہا کار ساز صنعت اپنی پیداوار کے لیے درآمدی خال مال پر انحصار کرتی ہے اور ڈالر کی قدر میں اضافے کا کافی اثر پڑتا ہے۔ تاہم ولی نے کہا کاروں کی قیمتوں میں تسلسل سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ‘دو ڈھائی مہینے پہلے کاروں کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا اور اب دوبارہ دس سے بارہ فیصد اضافہ کر دیا گیا جو کچھ عجیب ہے۔‘
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاروں کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے باجود گاڑیوں کی طلب اپنی جگہ برقرار ہے جس کا بظاہر کمپنیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے انجینرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ہیڈ آف پالیسی اور ترجمان عاصم ایاز نے کہا کہ تسلسل سے اضافے کی کوئی بڑی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ انھوں نے کہا کہ ‘ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے قیمتوں میں تھوڑے بہت اضافے کی تو سمجھ آتی ہے تاہم اتنا زیادہ اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘ عاصم ایاز نے بتایا کہ کاروں کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ خام مال کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ تو ہوتا ہے، تاہم جس حد تک قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں ان کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ انکا کہنا تھا اگر کمپنیاں درآمدی مال کی قیمت میں اضافے کو کاریں مہنگی ہونے کی وجہ قرار دیتی ہیں، تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں خام مال اور پارٹس کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ان کمپنیوں کی جانب سے لوکلائزیشن پر کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن وہ بھی نہیں ہو رہا۔
عاصم ایاز نے اس سلسلے میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ڈھائی سے تین لاکھ گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں اور یہاں دس کمپنیاں اس وقت کاریں تیار کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’مارکیٹ کے اس حجم اور دس کمپنیوں کی موجودگی میں اجارہ داری ہونے کا تاثر ٹھیک نہیں ہے۔‘

Related Articles

Back to top button