یوم استحصال کشمیر:سینیٹ میں تحریک ،مذمتی بیانات، دنیا بھر میں ریلیاں

یوم استحصال کشمیر کے موقع پرکشمیری عوام سے اظہاریکجہتی کیلئے سینیٹ آف پاکستان میں تحریک متفقہ طورپر منظور کر لی گئی ،سیاسی و عسکری حکام ،انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذمتی بیانات جاری کیے جبکہ دنیا بھرمیں ریلیاں نکالی گئیں جن میں بھارتی حکومت کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کشمیریوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

ملک بھر میں بھارتی غاصب حکومت کے خلاف ریلیاں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے ریلی نکالی گئی جس میں میں وزیردفاع خواجہ آصف، مشیر وزیراعظم قمر زمان کائرہ کے علاوہ وزارت خارجہ حکام اورعملے سمیت دیگر نے شرکت کی، مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں بھارت کے خلاف شدیداحتجاج کیا گیا۔دارالحکومت میں یوم استحصال کی مرکزی تقریب میں وزیراعظم آزاد کشمیربھی شریک ہوئے۔شرکاء نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن دفتر تک مارچ کیا۔

شہرقائد میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ایسٹ کے تحت مزارقائد سے ریلی نکالی گئی جس میں وزیر محنت سندھ سعید غنی شریک ہوئے، اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی، صوبائی وزرا گیان چند، مشیر وزیر اعلٰی سندھ رسول بخش اور دیگر بھی اس موقع پرموجود تھے۔ریلی کے اختتام پر سکول کے بچوں اور بچیوں نے قومی نغمے پیش کئے، بہاولپور میں ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام کشمیر یکجہتی ریلی نکالی گئی، ڈاکخانہ چوک سے فریدگیٹ تک نکالی گئی ریلی کی قیادت کمشنر بہاولپور اور ڈی سی بہاولپورنے کی ۔ ریلی میں سکولوں کے بچوں کی کثیر تعدار نے شرکت کی، جہلم میں یوم استحصال کشمیر ریلی ڈی سی آفس سے وائے کراس تک نکالی گی ۔ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ریلی میں سول ڈیفنس،ریسکیو 1122،محکمہ صحت ،محکمہ تعلیم سمیت سماجی تنظیموں اور شہریوں نے شرکت کی۔ استحصال کشمیر ریلی میں شرکاء نے پلے کارڈ اور پینا فلیکس اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ کشمیریوں سے ہمارا رشتہ بہت پرانا ہے جو قیامت تک قائم رہے گا۔

سینیٹ آف پاکستان میں سینیٹ میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے تحریک متفقہ طورپرمنظورکرلی گئی، تحریک قائد ایوان سینیٹ و وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر پانچ اگست کو ایک غیر آئینی کام کیا، انڈیا نے عالمی قوانین کا مذاق اڑایا ۔۔کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے پاکستان نے بھرپور آواز اٹھائی، اور اس معاملے پر عالمی فورمز سے رجوع کیا، کشمیر کی آزادی تک پاکستان چین سے نہیں بیٹھے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج بہادر کشمیری عوام کیساتھ کھڑی ہیں،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلئے جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ کشمیریوں کے خلاف 1095 دن کا بدترین محاصرہ اور وحشیانہ مظالم کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاک فوج کی جانب سے شہدائے کشمیر کو ان کی عظیم قربانیوں پر خراج عقیدت بھی پیش کی گئی۔

ادھر عالمی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے مودی سرکارکو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں اب بھی ظلم وبربریت کا سلسلہ جاری ہے، بھارت غیر قانونی طور پر آزادی اظہار رائے اور دیگر بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عالمی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی جابرانہ پالیسیوں اور سکیورٹی فورسز کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات اور مقدمے چلانے میں ناکامی نے کشمیریوں میں عدم تحفظ میں اضافہ کیا ہے۔ بھارتی حکام نے کئی ممتاز کشمیریوں کو بغیر وجہ بتائے بیرون ملک سفر کرنے سے بھی روک دیا ہے، عالمی ادارے نے وادی میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں صحافیوں کو ہراساں کرنے، دہشت گردی کے الزامات میں چھاپے اور من مانی گرفتاریوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آواز بنا رہے گا، جن کی لازوال قربانیاں اس وقت بھی جاری ہیں اور ہم ان کے جائز حقوق کے مکمل حصول اور حق خودارادیت کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا بھارت کے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات، مسلسل غیر انسانی فوجی محاصرے اور کشمیری عوام کے ناقابل بیان مصائب پر بے حسی کو جاری رکھے ہوئے تین سال ہوچکے ہیں، بھارتی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ کے زیر اثر، چوتھے جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو بے شرمی اور ڈھٹائی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ بھارت کی آبادکاری کی استعماری سوچ کا محرک متنازعہ علاقے پر مستقل طور پر قبضہ کرنے اور کشمیریوں کے علیحدہ تشخص کو ختم کرنے کی ہوس ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے کہا بھارتی قابض افواج نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور میڈیا پر کڑی پابندیاں لگا کر، مقبوضہ جموں و کشمیر کو کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال گزشتہ تین سالوں کے دوران سنگین طور پر ابتر ہوئی ہے۔ کشمیری عوام ابھی تک فوجی محاصرے میں ہیں، ان کی اعلی حریت قیادت بدستور قید ہے اور ان کے نوجوان بھارتی قابض افواج کی جانب سے محاصرہ اور تلاشی آپریشنز کے ذریعے اندھا دھند ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ درحقیقت کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق اور ہر قسم کی آزادی سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔

انکا کہنا تھا جیسا کہ توقع تھی کشمیری عوام نے بڑی جرات اور دلیری سے اپنے خلاف بھارتی مظالم کی مہم کو ناکام بنایا ہے۔ پاکستان نے کشمیریوں کے جائز مقصد کے حصول کے لیے ان کی ہر ممکن مدد کی ہے۔ پارلیمنٹرینز، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کے اراکین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں پر مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ بھارت ایک بار پھر ایک جارح اور غاصب کے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

شہبا زشریف نے کہا یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت انسانی وقار، انصاف اور انصاف کے عالمی نظریات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی اپنے حق خودارادیت جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت دی گئی ہے کے حصول کی منصفانہ جدوجہد، کو بھارتی قابض افواج کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔

کشمیریوں کی دلیری کو سلام پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کشمیری عوام کی بے مثال قوت ارادی اور ہمت ہے جس نے انہیں دہشت گردی اور محکوم بنانے کی ہر بھارتی کوشش کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ بھارت اپنے تمام جبر، تشدد اور دھمکانے کے طریقوں کے باوجود ان کی آزادی کی تڑپ کو بجھانے اور ان کی مقامی اور جائز مزاحمت کو کچلنے میں ناکام رہا ہے۔جموں و کشمیر کا تنازع سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے۔ اس دیرینہ تنازع کو فوری اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔

انکا کہناتھا جیسے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کا محاصرہ چوتھے سال میں داخل ہو رہا ہے، کشمیر کے لوگ بنیادی حقوق آزادی اور انسانی وقار کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بھارت کے مظالم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کے لیے اپنی حمایت کرنے والوں کی طرف امید دیکھ رہے ہیں ۔ درحقیقت، عالمی برادری کو بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے، آبادیاتی تبدیلیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کے ذریعے اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اپنی طرف سے اپنے ان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آواز بنا رہے گا، جن کی لازوال قربانیاں اس وقت بھی جاری ہیں ، اور ہم ان کے جائز حقوق کے مکمل حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن اسپین اور پاکستانی وکشمیری کمیونٹی کے زیراہتمام بارسلونا میں بھارتی قونصل خانہ کے سامنے 5 اگست یوم استحصال احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بارسلونا اور اس کے قرب وجوار میں مقیم پاکستانی وکشمیر کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر مظاہرین نے کتبے اور پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور پر جوش انداز میں نعرے بازی کرتے رہے۔ مظاہرین نے دہشت گرد دہشت گرد بھارت دہشت گرد، بھارتی فوج واپس جائے، ہم کیا چاہتے آزادی ،دہشت گرد دہشت گرد مودی دہشت گرد کے فلک شگاف نعرے بلند کئے۔

ادھر کشمیرکونسل یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ انسانی اقدار کے چیمپئن عالمی ممالک کی مجرمانہ خاموشی تاحال قائم ہے لیکن کشمیریوں کا جذبہ حریت ہمیشہ کی طرح بلند ہے۔اس موقع پر کشمیرکونسل یورپی یونین کے رہنماؤں نے عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرانے کا مطالبہ کیا جب کہ کشمیرکونسل ای یو کی جانب سے برسلز میں مظاہرہ بھی کیا گیا اور بھارت پر دباو ڈال کر کشمیر کی پرانی حیثیت کو بحال کرانےکا مطالبہ کیا گیا۔

اسی طرح دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی کشمیری اور پاکستانی بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button