بھارت میں مسلمانوں کو بڑھتے خطرات کا سامنا ہے

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کےلیے مورد الزام ٹھہرائے جانے کے بعد بھارت میں مقیم مسلمانوں کےلیے سماجی بے دخلی اور تشدد کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے پھیلاؤ کے باوجود آر ایس ایس سے متاثرہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی امتیازی سلوک اور مسلم مخالف پالیسیاں بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دھمکانے کےلیے ایک منظم مہم جاری ہے جنہیں بے دخلی اور مشتعل ہجوم کی جانب سے تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں موجود مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے قصور وار قرار دیا جارہا ہے۔
بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے اس مسلم مخالف پروپیگنٖڈے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی اسے مزید تقویت دی جس نے بھارت کی مسلم اقلیت اور ہندو اکثریت کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب مارچ میں نئی دہلی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ عائشہ فاروقی نے کہا کہ ان واقعات کو بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا اور دنیا بھر میں موجود باضمیر لوگ اس کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلم مخالف اقدامات بھارتی مسلمانوں پر ‘حقیقی نتائج’ مرتب کرے گیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں بشمول مسرت زہرہ، پیرزادہ عاشق اور گوہر گیلانی پر من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کے باعث ایذا رسانی پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button